سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

اسقاط حمل کے جواز کے شرایط۔

کیا بچہ سقط کرانا جائز ہے، اگر جائز ہے تو کیا اس پر دیت واجب ہے؟

جواب: ڈاکٹروں کے مطابق اگر ماں کی جان کو خطرہ کا یقین یا احتمال ہو یا شدید ضرر پہچ رہا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے ۔ (البتہ جب تک وہ مکمل انسانی شکل میں نہ آ چکا ہو) اور چونکہ دیت واجب ہو جانے کا احتمال ہو سکتا ہے لہذا احتیاط یہ ہے کہ اس بچے کے ورثاء (ماں باپ کے علاوہ) اپنی مرضی سے اسے (دیت) ترک کر دیں۔

”کارٹل“ اور ”ٹراست“ کی بنیاد پر صنعتی اور تجارتی انجمنوں کی تشکیل

گزارش ہے کہ ذیل کے دو سوالوں کا فقہی حکم بیان فرمائیں:۱۔ کارٹل، کمپنیوں کے درمیان ایک آزاد اور اختیاری یونین ہے کہ جو ایک اقتصادی کام میں مشغول ہے اور یہ کمپنیاں تقریباً ایک جیسے ہی سمامان تیار کرتی ہیں، کارٹل یونین بنانے کا اصلی مقصد یہ ہے کہ ان کے علاوہ کوئی دوسری کمپنی وہ مال نہ بنائے ۔۲۔ ٹراست: یہ اقصادی اکائیوں کی ایک ایسی یونین ہے کہ جس کامال کی تیاری اور فروخت میں ایک ہدف ہے اور اس کی کمان بھی ایک ہی ہے، ٹراسٹ کی تشکیل کا مقصد فقط یہ نہیں ہے کہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا وہ مال نہ بنائے بلکہ اس کے علاوہ دوسرے اہداف جیسے پیداوار کی علمی روشوں سے فائدہ اٹھانا، پیداوار کے خرچ کا کم کرنا، اس گروہ کے تعاون سے بہرہ مند ہونا جو یونین کو تشکیل دیتی ہے وغیرہ، بھی مدّنظر ہیں، البتہ ”کارٹل“ اور ”ٹراسٹ“ کے درمیان عمدہ فرق بھی موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ کارٹل میں شرکاء کی شخصیت کو محفوظ رکھا جاتا ہے اور ٹراسٹ میں شرکاء کی شخصیت اور استقلال کو ختم کیا جاتا ہے، مہربانی فرماکر کارٹل اور ٹراسٹ کے قالب میں اس طرح کی یونیوں کاشرعی حکم بیان فرمائیں؟

اگر دونوں یونینوں میں اختیارات کے حدو حدود روشن ہوں اور شرائط میں کوئی ابہام نہ پایا جاتا ہو اور معاشرے کے لئے قابل توجہ ضرر کا بھی سبب نہ ہو اور اقتصادی ترقی میں مانع نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن ضرر اور نقصان کی صورت میں ان میں سے کوئی بھی یونین بنانا جائز نہیں ہے ۔

دسته‌ها: مختلف مسایل

دینی مسائل کے غیر پابند باپ کے بارے میں بیٹے کا وظیفہ

میرے والد دینی مسائل کے زیادہ معتقد نہیں ہیں ، فقط روزہ ونماز بجالاتے ہیں وہ بھی سرسری طور سے، لیکن بقیہ واجبات جیسے خمس وزکات وغیرہ کی پرواہ نہیں کرتے، میں نہیں چاہتا کہ ان کا پیسہ میری زندگی کے مسائل میں داخل ہو، لیکن میری مدد کرنے پر مصر ہیں ، مہربانی فرماکر اس سلسلے میں نیچے دیئے گئے چند سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:۱۔ اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ نیز ان کے یہاں کھانا کھانا کیسا ہے؟۲۔ اب تک انھوں نے جو رقم مجھے دی ہے اس نے مجھے ان کا اور زیادہ محتاج بنا دیا ہے، حضور کی رائے میں یہاں پر میرے لئے کیا کام مناسب ہے؟۳۔ فروع دین پر عمل نہ کرنا اصول دین پر اعتقاد نہ رکھنے کا عملی ثبوت ہے ان (میرے والد) سے میل جول رکھنا مجھے دین، حلال، حرام اور واجبات کی طرف سے لاپرواہ کرتا ہے، میں کس طرح انھیں اس مطلب کو سمجھاوٴں کہ وہ ناراض نہ ہوں اور میری طرف سے حجت بھی تمام ہوجائے، یہ بھی ملحوظ رہے کہ میرے والدبہت زیادہ محبّت کرنے والے شخص ہیں ذراسی بات پر ناراض ہوکر رونے لگتے ہیں؟

آپ ان کے پیسے کو استعمال کرسکتے ہیں بشرطیکہ اس کے خمس کو ادا کریں ۔باپ کا محتاج ہونا کوئی مہم نہیں بات ہے، کوشش کریں کہ اچھے اخلاق اور مودّبانہ طریقے سے اپنے والد کو راہ راست پرلے آئیں ۔کوشش کریں کہ آہستہ آہستہ تواضع، انکساری، بردباری اور خوش زبانی سے ان کے دل میں جگہ بنائیں اور ہرگز مایوس نہ ہوں، دھیان رہے کہ اُن کو خلوت میں تذکر دیں ، نہ کہ سب کے سامنے، اور یہ کام خیراندیشی کی صورت میں ہو نہ کہ تنقید اور دشمنی کی صورت میں ، یہ بھی جان لیں کہ فروع دین پر عمل کرنے میں لاپرواہی کرنا ہمیشہ اصول دین پر عدم ایمان کی دلیل نہیں ہوتا ۔

دسته‌ها: بیت المال
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت