طویل مدت کے لئے بنک میں فیکس کی ہوئی رقم پر خمس
کیا اس رقم پرجو طویل مدت کے لئے بینک میں جمع کرائی ہے اور بینک مختلف کا م میں اس رقم کو استعمال کرتا ہے ، خمس واجب ہے۔؟
جواب:۔ اگر اس کا خمس نہیں دیا گیا ہے تو خمس ادا کرے ۔
جواب:۔ اگر اس کا خمس نہیں دیا گیا ہے تو خمس ادا کرے ۔
جواب: وہ شخص جس کا پائخانہ یا پیشاب پے در پے نکلتا ہو اسے چاہئے کہ ہر وضو کے بعد فوراً نماز میں مشغول ہوجائے اور نماز احتیاط اور بھولے ہوئے سجدے اور تشہد کے لئے وضو کرنا لازم نہیں ، بشرطیکہ نماز اور ان کاموں کے درمیان فاصلہ نہ ڈالے، نماز کی حالت میں نجس تھیلی ساتھ رکھنے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
جواب : تحریری دستخط لفظی ، (زبانی ) انشاء کا حکم رکھتے ہیں لہٰذا دور حاضر کی موجودہ سندیں (سرکاری کاغذات ) حجت ہیں اور ہم نے تعلیقہ عروة الوثقیٰ جلد دوم کے آخر میں اس مسئلہ کے سلسلے میں کافی دلائل تحریر کئے ہیں
جواب: الف۔ ایسا کرنا ڈاکٹر اور تمام مسلمانوں کے لیے جہاں پر یہ واجب ہو جائے، واجب ہے ۔ب۔ بھوک ہڑتال کرنے والوں کے لیے خطرہ کے احساس کی صورت حد اقل ضرورت کے وقت جائز ہے ۔ج۔ جہاں پر واجب ہو جائے وہاں دیت نہیں ہے ۔د۔ ڈاکٹر کے لیے دونوں صورت حال میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ھ۔ اگر مریض کی جان کو خطرہ نہ ہو تو ڈاکٹر اسے کھانا کھانے پر مجبور نہیں کر سکتا مگر یہ کہ ان موارد میں جہاں ملک اور اسلامی معاشرہ کی مصلحت کا تقاضا ہو۔
جواب :۔ صرورہ شخص کی نیابت خواہ مرد ہو یاعورت جائز ہے ، چاہے مرد کی جانب سے نائب ہو ایا عورت کی طرف سے ، ہاں البتہ عورت کا نائب ہونا خصوصاً اگر مرد کی جانب سے ہو تو مکروہ ہے ۔
جواب۔ مردوں کے لئے مطلقاً سونے سے زینت کرنا حرام ہے اور مسلمان اور مکتب اہلبیت (ع) کی پیروی کرنے والے حجرات کو ان حضرات کی پیروی کرتے ہوئے اس کام سے پرہیز کرنا چاہئے اور تحفہ و غیر تحفہ داماد و غیر داماد میں کوئی فرق نہیں ہے اور اگر ان کا استعمال فقط مردوں سے مخصوص ہو (یعنی ایسے زیورات جو مردوں کے لئے مخصوص بنائے گئے ہوں اور انکو فقط مرد استعمال کر سکتے ہوں )تو ان کے بنانے اور خرید و فروخت کرنے میں بھی اشکال ہے اور اگر سونے کا زیور اور زینت صلیب کی شکل میں ہو تو اس کو بنانے خریدنے اور بیچنے کا گناہ دو گنا ہو جاتا ہے
جواب: الف۔ اس کی حفاظت واجب نہیں ہے۔ب۔ گزشتہ جواب سے واضح ہو گیا کہ دیت واجب نہیں ہے۔ج: جب تک زندہ انسان کی صورت میں نہ ہو جائے، اس کی حفاظت پر دلیل موجود نہیں ہے۔د: ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ھ: اشکال سے خالی نہیں ہے۔
اگر اسی سال کی آمدنی سے نام لکھوایا جائے تو خمس نہیں ہے ۔
جواب: اگر اسکا نتیجہ عضو کے نسبةًمعطَّل ہونے کا سبب ہو تو ارش کی نسبت سے حساب ہونا چاہیے۔
بیمار یا اس کے ولی سے اس کام کی اجازت لینا ضروری ہے اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو ہم انہیں حاکم شرع کی حیثیت سے اس کام کی اجازت دیتے ہیں لہذا وہ قصور وار شمار نہیں ہوں گے مگر شرط یہ ہے کہ وہ دقت سے اسے انجام دین۔
مذکورہ شرائط میں نماز جماعت کے پڑھنے میں کوئی اشکال نہیں ہے؛ لیکن بہتر ہے کہ نماز جمعہ کے احترام کی خاطر جمعہ کے وقت جماعت کو ترک کردیں ۔
اگر بیٹے کی من مانی اور سر پیچی باپ کی ناراضگی کا سبب ہو تو اس کے لیے اطاعت کرنا ضروری ہے۔
جواب:۔ عمر کے لحاظ سے بڑے بیٹے پر واجب ہے چاہے وہ کسی بھی بیوی سے ہواور وہ شرائط کے ساتھ اپنے مال سے کسی شخص سے اجرت پر انجام دلا سکتا ہے ، اور اگر دو بیٹے عمر کے اعتبار سے بالکل برابر ہیں تو اس صورت میں ، اجرت کی رقم کو برابر تقسیم کریں ۔
جواب: مذکورہ تینوں صورتوں میں (حمل ٹھرنے کے بعد) نطفہ منتقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن چونکہ ایسا کرنا عام طور پر حرام لمس و نظر کا باعث ہوتا ہے لہذا صرف ایسی صورت میں جائز ہے جہاں شدید ضرورت کا تقاضا ہو۔
جواب : مشہور و معروف ہے کہ نماز میں سیاہ لباس مکروہ ہے ، جو دلیل اس حکم کے لئے بیان ہوئی ہے ، عورت اور مرد دونوں کو شامل ہے لیکن عبا اس دلیل سے مستثنیٰ ہے ( یعنی عبا ء کے لئے یہ حکم نہیں ہے ) اور بعید نہیں خواتین کے سیاہ برقعہ بھی اس حکم سے جد اہو۔