حوزہ کے مدیر کا طلاب کا وظیفہ کم کر لینا
کیا مدرسہ کے مدیر کے لیے جایز ہے کہ وہ نظافت کی رعایت نہ کرنے، بال چھوٹے نہ کروانے اور مسافرت کی وجہ سے طلاب کا شہریہ (وظیفہ) کم کر لے؟ چھٹیوں کے تین ماہ میں شہریہ لینے کا کیا حکم ہے؟ اگر طالب علم ان تین ماہ میں شہریہ لینے نہ آئے تو کیا مدیر کے لیے جایز ہے کہ وہ ان پیسوں کو دوسرے مد میں خرچ کرے؟
شہریہ سے مربوط مسائل کے لیے مراجع کرام کے دفتروں میں رجوع کریں اور ان کے حکم کے مطابق اس پر عمل کیا جائے، شہریہ کے مصرف کے لیے دفتر سے اجازت کا ہونا ضروری ہے۔
دینی تعلیم کا واجب عینی یا کفایی ہونا
عصر حاضر میں فعال لوگوں کا علم دین حاصل کرنا واجب عینی ہے یا کفائی؟
مستعد اور ایسے لوگوں کے لیے جن کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے علم دین کے حصول کا واجب عینی ہونا بعید نہیں ہے۔
زرتشت (آتش پرست) گھرانے کے مسلمان بیٹے کی میراث
میرے شوہر اور میرے بچّوں کے والد، مرحوم بہرام جو زرتشتی (مجوسی)مذہب پر تھے، انھوں نے انتقال سے ۵ سال پہلے ایک مسلمان عورت سے عقد متعہ کیا تھا اور نکاح نامہ میں خود کو مسلمان ظاہر کیا تھا ، اس عقد متعہ کے نتیجہ میں ان کے یہاں دو بچہ ہوئے، لیکن چونکہ ہمیں ا ن کے مسلمان ہونے کے بارے میں جس کا امکان ہے ، کوئی اطلاع نہیں تھی، نیز ہم نے کبھی انھیں دینِ مقدس اسلام کے فرائض انجام دیتے ہوئے دیکھا بھی نہیں تھا اور خود انھوں نے بھی اس سلسلہ میں کوئی بات ہم سے یا دوسرے لوگوں سے نہیں کی تھی، لہٰذا جب ان کا انتقال ہوا تو ہم نے ایک مجوسیہونے کی حیثیت سے اور مجوسی رسم ورواج کے مطابق انھیں زرتشتی کے قبرستان میں دفن کردیا جبکہ ان کی متعی بیوی اور دونوں بچوں نے بھی ہم سے ان کے سلسلہ میں مسلمان ہونے یا اسلام لانے یا عقد متعہ کے متعلق کوئی تذکرہ نہیں کیا حالانکہ وہ لوگ ان کے دفن، کفن اور دیگر تمام رسومات میں شریک تھے یہاں تک کہ بعد میں ہمیں ان کے عقد متعہ اور نکاح نامہ کے بارے میں اطلاع ملی کہ جس میں ان کا دین، اسلام تحریر کیا گیا تھا تب ہم نے اس موضوع کو اپنے ایک مسلمان پڑوسی کے سامنے رکھا جو اسلامی فقہ اور حقوق کے موضوع پر کافی مطالعہ اور تحقیق کرچکے ہیں، انھوں نے دین مقدس اسلام کے امتیازات اور بہت سی خوبیاں بیان کرتے ہوئے اور یہ کہ دین مبین اسلام، حق اور تمام ادیان الٰہی سے برتر، کاملترین، بہترین اور آخری دین الٰہی ہے، ہمیں اسلام کی جانب تشویق دلائی اور اسلام کی دعوت دی اور آخر کار ان کی ہدایت، راہنمائی اور بے لوث کوششوں سے ہم لوگ، دین مقدس اسلام کے احکام کی تعلیم سے شرفیاب ہوئے اور مسلمان ہوکر شیعہ اثناعشری ہوگئے، مذکورہ مطالب نیز یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے کہ ان کے مسلمان ہونے پر کوئی مستند دلائل موجود نہیں ہیں جو ان مرحوم کے مسلمان ہونے کو ثابت کرسکیں، ہماری خواہش ہے کہ آپ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:الف)کیا وہ مرحوم مسلمان تھے؟ب) کیا ان کا مسلمان خاتون سے عقد کرنا صحیح تھا ؟ج) کیا وہ بچّے جو عقد متعہ کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں، ان کی جائز اولاد ہیں اور ان کے ترکہ میں سے ان دونوں بچوں کو بھی میراث ملے گی یا نہیں ؟د) یہ بات مدنظر رکھتے ہوئے کہ مرنے والے کا ابھی تک قرض ادا نہیں کیا گیا اور ابھی تک ان کی میراث بھی تقسیم نہیں ہوئی ہے بلکہ ان کے ترکہ کا حساب کا ابھی تک یقینی حکم بھی جاری نہیں ہوا ہے کیا ہم لوگ جو مسلمان ہوگئے ہیں ان کے وارثوں میں شمار ہوں گے اور ان کے ترکہ میں سے ہمیں بھی میراث ملے گی یا نہیں؟
جواب:الف) اگر اس نے اسلام کا اظہار کیا ہے تو اس پر اسلام کے احکام جاری ہوں گے اگرچہ عبادت اور دینی وظیفوں کے انجام دینے میں کوتاہی کی ہے ۔ب) بظاہر صحیح تھا ۔ج) مذکورہ بچے جائز ہیں ان کو میراث ملے گی ۔د) مفروضہ مسئلہ میں کہ ابھی تک ترکہ تقسیم نہیں کیا گیا اور آپ لوگ مسلمان ہوگئے ہیں تو میراث کے بارے میں اسلامی قانون کے مطابق آپ لوگوں کو بھی میراث ملے گی ۔
دینی تعلیم کا دنیاوی تعلیم پر مقدم ہونا
مدرسہ اور یونیوسٹی میں سے کہاں پڑھنا زیادہ واجب ہے۔ اس بات کے مد نظر کے بہت سے با استعداد جوان جو دینی تعلیم کی طرف رغبت رکھتے ہیں وہ مدرسہ اور یونیورسٹی میں سے کس میں جائیں کنفیوز رہ جاتے ہیں؟
موجودہ حالات میں دینی علوم کا حاصل کرنا مقدم ہے۔ البتہ ایک گروہ کا یونیورسٹی مین پڑھنا بھی ضروری ہے تا کہ اسلامی مقاشرہ کے تمام شعبہ جات اچھی طرح سے چل سکیں۔
مولانا حضرات کا عمامہ کے بغیر آنا جانا
مولانا حضرات کا بغیر اپنے مخصوص لباس (عباء قبا اور عمامه) کے کہیں آنے جانے کا کیا حکم ہے؟
اگر مولویت کی صنف کی توہین شمار نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
امام زمانہ (عج) کے منتظران کا وظیفہ
انتظار کرنےں والوں کا سب سے مہم وظیفہ کیا ہے، ان کوکیا کرنا چاہیے؟
امام زمانہ حضرت مہدی عج الله تعالیٰ فرجہ الشریف کے انتظار کرنے والوں کا سب سے مہم وظیفہ واجبات کی ادائیگی، محرّمات کا ترک اور آپ کی مدد کے لئے آمادگی، اور اپنے ایمان کو تقویت کرنا ہے ۔
طلاب کا درس نہ پڑھنے کی صورت میں وظیفہ لینا
وہ طلبہ جو فرہنگی و ثقافتی کاموں میں مشغول ہیں اور درس نہیں پڑھتے اور مالی اعتبار سے کمزور ہیں، ان کے لیے شہریہ لینے کا کیا حکم ہے؟ اگر وہ مالی اعتبار سے آسودہ ہوں تو کیا حکم ہے؟
شہریہ ان لوگوں سے مخصوص ہے جو حوزہ میں درس پڑھتے ہیں۔ البتہ اگر شہریہ دینے والے بعض خاص موارد میں اجازت دیتے ہیں تو ان موارد میں لینا جایز ہوگا۔
امتحان میں ایک دوسرے کی مرضی سے نقل کرنا
امتحان میں نقل کرنے کا کیا حکم ہے؟ کیا اس مٰیں جس سے نقل کر رہا ہے اس کے راضی ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ خاص طور پر ایسی جگہ جو اسلامی بیت المال سے چل رہی ہو؟
امتحان میں نقل کرنا جایز نہیں ہے، اب چاہے وہ جگہ بیت المال سے چلتی ہو یا کسی اور مال سے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لیے کہ نقل کرنے کا نقصان خود نقل کرنے والے کو ہوتا ہے۔ اگر نمبر کا امتحان میں کوئی اثر نہ ہو تو اس مین نقل کرنا حرام نہیں ہے لیکن اگر وہ یہ کہے کہ میں نے لکھا ہے تو چھوٹ کا مرتکم ہوا ہے جو کہ حرام ہے۔
اس عورت کی عدّت جو ناجائز طرےقہ سے حاملہ ہوئی ہے
جو عورت زنا کے ذریعہ حاملہ ہو جاتی ہے اور زانی یا کسی دوسرے شخص سے شادی کرلیتی ہے کیا اس کو عدّت کی ضرورت ہے ؟ اور اگر شادی کے بعد اس کا شوہر اس کو طلاق دیدے تو کیا عدّت واجب ہوگی ؟ اور اگر عدّت واجب ہو تو اس کی عدّت ابعد الاجلین ( وضع حمل اور تین طہر کی مدّت میں سے جو زیادہ مدّت ہو ) ہے یا تین طہر ہیں؟
جواب:۔ زنا سے حاملہ ہونے والی عورت کی عدّت نہیں ہوتی، اور زانی یا دوسرے شخص سے اس کی شادی کرنا جائز ہے، اور اگر اس کو طلاق دیدے تو اس کی عدّت تین طہر یا تین ماہ ہے اور وضع حمل معیار نہیں ہے ، اب رہا طہر کا غیر مواقعہ ( جس پاکیزگی کے دوران مقاربت نہ ہوئی ہو) تو چونکہ حاملہ میں یہ شرط نہیں ہوتی، لہذا اس کو طلاق دے سکتا ہے، اس بنا پر اگر اسکو حیض (ماہواری) نہیں آتا تو تین مہینہ صبر (عدّت) کر کے دوبارہ شادی کرسکتی ہے .
جن مسائل پر عمل کیا ہے ان مسائل میں مردہ مجتہد کی تقلید پر باقی رہنا
جن لوگوں نے مردہ مجتہد کی زندگی میں اس کی تقلید کی ہے تو اگر میت کی تقلید پر باقی رہنا چاہے تو کیا جن فقہی ابواب میں عمل کیا تھا انہی میں باقی رہ سکتا ہے ؟
نہیں ، بلکہ جن مسائل پر کیا تھا صرف ان پر باقی رہ سکتا ہے،نہ ان مسائل کے جزئیات پر ، یا اس باب کے تمام مسائل پر۔
جان بچانے کے لیے جھوٹ بولنا
الف۔ کیا کسی مسلمان کی جان بچانے کے لیے جھوٹ بولنا جائز ہے؟ب۔ آیا کافر ذمی کی جان بچانے کے لیے جھوٹ بولنا جائز ہے؟ج۔ ایسی جگہ پر جہان انسان کے جھوٹ بولنے سے اس کی، کسی اور کی یا چند مسلمانوں کی جان بچ سکتی ہو، اس کا کیا فریضہ ہے؟ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اور کسی کی جان خطرہ میں پڑ جانے کی صورت میں (اس شخص کے جھوٹ کے سبب) اور اس کے تلف ہو جانے کی حالت میں دیت کس کے ذمہ ہوگی؟
جواب: الف۔ نہ صرف یہ کہ جائز بلکہ واجب ہے ۔ب۔ کوئی قباحت نہیں ہے ۔ج۔ کسی کی جان بچانے کے لیے جھوٹ بولنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اپنی یا کسی دوسرے کی جان بچانے کی خاطر اپنی یا کسی اور کی جان خطرہ میں ڈالنا ضروری نہیں ہے اور اگر اس کی وجہ سے کسی جان خطرہ میں پڑی ہے تو وہ ضامن ہے ۔
روایت میں ((عول)) کے معنیٰ
مہربانی فرما کر درج ذیل روایت: ”قال الشعبی:” ماراٴیت افرض من علیّ ولا احسب منہ و قدسئل عنہ علیہ السلام وہو علی المنبر یخطب، عن رجل مات وترک إمراتہ وابوین وابنتین، کم نصیب اٴمرئة؟ فقال(علیہ السلام) صار ثمنہا تسعاً، فلقبت بالمسئلة المنبریہ شرح ذلٰک: لابوین السدسان وللبنتین الثلثان، وللمراٴة الثمن عالت الفریضة فکان لہا ۳ من ۲۴ ثمنہا فلما صارت الی۲۷ صار ثمنہا تسعاً فان ثلاثة مِن۲۷ تسعہا ویبقی۲۴ لابنتین ۱۶ و۸ لابوین سَوَاء“ میں جملہٴ ”عالت الفریضہ“ کی وضاحت فرمائیں؟
جواب: مراد یہ ہے کہ شوہر کی میراث میں سے اس زوجہ کا حصہ جس کا شوہر صاحب اولاد ہو، حکم اوّلی کی بناپر ترکہ کا آٹھواں حصہ ہوتا ہے لیکن جب والدین اور بیٹیوں کے حصے کے ساتھ جوڑا جائے اور سب کے حصوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو کل ۲۷ حصہ ہوتے ہیں (جب مال کے ۲۴ حصہ کئے جائیں تو ان میں سے دوتہائی ۱۶ حصہ ہوں گے اور چھ میں سے دو، ۸ حصّہ ہوں گے اور آٹھواں حصہ ایک تہائی حصہ قرار پائے گا اور ۱۶ و۸ و۳ سب کو ملاکر ۲۷ ہوجائیں گے) جب بھی ۲۷ حصّوں میں سے تین حصوں کو علیحدہ کیا جائے گاتو وہ کل مال کے نویں حصہ کے برار ہوگا، ا س حدیث کی تفسیر ووضاحت یہی تھی، لیکن تمام احادیث کو پیش نظر رکھ کر فقہی نظریات کے اعتبار سے، اس مسئلہ میں گفتگو کی گنجائش باقی ہے ۔
امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات سے مشرف ہونا
کیا امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں آپ سے ملاقات کا شرف حاصل ہو سکتا ہے؟
بہت سے بزرگان جو اس بات کی شایستگی اور سعادت رکھتے تھے وہ آپ کی زیارت سے مشرف ہو چکے ہیں۔ البتہ کسی کو امام علیہ السلام کی طرف سے کوئی پیام نقل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

