نماز طواف کے لئے خواتین کی نیابت
کیا عورت دوسرے کی نیابت میں ، نماز طواف پڑھ سکتی ہے ؟
جواب:۔ کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
بھولے ہوئے تشہد کی قضا
اگر کوئی شخص ، نماز میں تشہد بھول جائے ، کیاتشہد کی قضا بجالانے کے بعد، سلام پڑھے؟
جواب:۔ احتیاط یہ ہے کہ سلام بھی پڑھے ، اور اس کے بعد سجدہٴ سہو بھی کرے ۔
ارش کا حساب کرنے کا طریقہ
اعضاء بدن کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ارش کے معین ہونے کے بارے میں فرمائیں:الف) کیا ارش کا حساب نقصان پہنچنے والے عضو کی نسبت سے ہوگا یا انسان کی کامل دیت کی نسبت سے؟ب) انسان کی کامل دیت کی نسبت سے حساب ہونے کی صورت میں ، کیا نقصان پہنچنے والے عضو کی دیت سے زیادہ ارش معین کیا جاسکتا ہے؟
جواب: الف وب: اس صورت میں جبکہ ضرر فقط عضو کو پہنچا ہو تو اسی نسبت سے ارش کا حساب ہوگا اور اگر بالفرض عضو کی کارکردگی کو تو کوئی نقصان نہ پہنچا ہو لیکن ایک کلی نقصان بدن کو پہنچا ہو تو ارش کا حساب کامل دیت کی نسبت سے کرنا چاہیے؛ چاہے عضو کی دیت سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوجائے۔
ممیز بچّہ کے سامنے پردہ کرنا
کہا جاتا ہے کہ عورت کو ممیز لڑکے سے پردہ کرنا چاہئے آپ یہ بتائیں کہ بچّے کے ممیز ہونے کو کس طریقہ یا طریقوں سے پہچانا جاسکتا ہے ؟
جواب:۔مستحب ہے کہ خواتین ایسے (ممیز ) بچّے سے پردہ کریں اور ممیز سے مراد یہ ہے کہ جنسی مسائل سے آگاہ ہو .
قربانی بھیجنے کے بعد محصور کی صحتیابی
اس شخص کا کیا وظیفہ ہے جو محصورتھا اور اس نے اپنی قربانی کو منیٰ میں بھی بھیجدیا تھا اس کے بعد اس کی بیماری کی شدت میں کمی آگئی ہے ؟
جواب :۔ اس کے لئے باقی حاجیوں سے ملحق ہونا واجب ہے نیز تمام اعمال انجام دے م قربانی کرے اس صورت میں اس کا حج صحیح ہے ۔
ماں باپ کا مارنا
بہت سے بچے ماں باپ سے بہت سے زیادہ مار کھاتے ہیں اور زخمی بھی ہوجاتے ہیں اور کبھی کھبی اس مار پیٹ کے آثار اسپتال میں دیکھے جاتے ہیں لیکن افسوس کہ ان جیسے موارد کو روکنے کے لئے کوئی قانون موجود نہیں ہے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس طرح کی مار پیٹ کا حکم، دیت اور ارش ہے؛ اور ماں باپ اور دوسروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
علاج کا مضر دوا پر منحصر ہونا
کلی طور پر جدید علوم کے پیش نظر اگر ہمیں معلوم ہو یا احتمال ہو کہ مریض کی نجات کسی ایسی دوا کے علاج سے وابسطہ ہے جو اس کے لیے مضر ہو سکتی ہے اور یہ ضرر احتمال قوی کے مطابق سب کو ہو سکتا ہے اور ڈاکٹر اسے تجویز کر دے تو وہ قصور وار شمار ہوگا؟
اگر دوا اپنی نوعیت میں منحصر بفرد ہو اور اس کا فایدہ نقصان سے زیادہ ہو اور ڈاکٹر نے اس کے بارے میں مریض کو بتا دیا ہو تو ڈاکٹر کے لیے تجویز کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
مقتول مسلمان کے اولیاء دم کاحاضر ہونا
اگر مقتول مسلمان ہو، لیکن اولیاء دم کافر ہوں تو کیا کرنا چاہیے؟
حاکم شرع اولیاء دم کو حاضر کرے گا اور ان کو اسلام کی دعوت دے گا، اگر قبول کرلیا تو قاتل کا اختیار ان کے سپرد کردے گا کہ وہ قصاص کریں یا دیت لے لیں اور اگر اسلام کو قبول نہ کریں تو حاکم شرع دیت لے گا اور بیت المال کو دے دےگا۔
مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرنے والے کا اسلام قبول کرنا
اگر غیر مسلم مرد، مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرے اور اجرائے حد کے شرائط بھی فراہم ہوں، لیکن زانی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے ذیل کے دو فرضوں میں مذکورہ قضیہ کا حکم کیا ہوگا اور اس کی سزا کیا ہے؟الف)اثبات جرم کے بعد مسلمان ہوا ہو؟ب) اثبات جرم سے پہلے مسلمان ہوا ہو؟
جواب: جب بھی گرفتاری سے پہلے مسلمان ہوجائے ، حد ساقط ہوجائے گی اور اگر گرفتاری اور قیام بیّنہ (گواہ) کے بعد اسلام لائے تو حد ساقط نہیں ہوگی اس کی سزا قتل ہے؛ مگر یہ کہ عناوین ثانویہ اس طرح کے موارد میں مانع ہوں۔
ان مزدران پر زکا ت جو کھیتی میں سے حصہ وصول کرتے ہیں۔ (بٹائی پرکھیتی کرنے والے کسان پر زکات)
کھیتی کرنے والے مزدور حضرات جو بٹائی پر کھیتی کرتے ہیں اور حق الزحمت ( مزدوری )کے عنوان سے کھیتی میں سے ، حصہ وصول کرتے ہیں ، کیا ان پر بھی زکات دینا واجب ہے ؟
جواب:۔ اگر کھیتی سے حصہ وصول کرنا ، کھیتی کے تمام کاموں کے مقابلے میں ہے (جیسا کہ ہمارے ملک میں مالک اور رعایہ کے درمیان معمول ہے ) تو ان کے حصہ پر بھی زکات ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کا حصہ وہ نصاب کی مقدار میں ہو، البتہ اگر ( کھیتی کے بعض کام جیسے ) کاٹنے وغیرہ کے بدلے حصہ وصول کرے ( یعنی زکات واجب ہونے کے بعد) تو اس صورت میں ، مزدور پر کچھ نہیں ہے ۔
نذر پورا کرنے کی قدرت نہ ہونا
ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ ہر سال دس روز ے (رمضان کے علاوہ)رکھے گالیکن اب اس وقت ، بوڑھا اور ضعیف ہونے کی وجہ سے اس پر قادر نہیں ہے ،اس شخص کا وظیفہ کیا ہے ؟
جواب:اس کی نذر اس کی عمر کے لحاظ سے صحیح نہیں ہے ۔
مریض کے اسرار کے بارے میں ڈاکٹر کا شرعی وظیفہ
اگر کوئی مریض ڈاکٹر کی طرف رجوع کرے اور ڈاکٹر معاینہ کے دوران اس کی بیماری کے اسرار اور راز سے مطلع اور با خبر ہو جائے، جسے چھپانے کی صورت میں، مریض اور اس کے رشتہ داروں کا تو فایدہ ہو، لیکن اگر ڈاکٹر اسے ملک اور حکومت کے ذمہ داروں تک پہچائے تو ایسا کرنا ملک اور معاشرہ کے لیے فایدہ مند ہو تو اس حالت میں ڈاکٹر کا شرعی فریضہ کیا ہے؟
جواب: صرف اس صورت میں اس راز کو فاش کر سکتا ہے جس میں معاشرہ کی مصلحت خطرے میں پڑتی ہو اور حکومت کے نمایندوں تک بات پہچا سکتا ہے ۔
قصاص کو دیت میں بدلنا
زخموں کے بارے میں قصاص کا فیصلہ ہونے یا قانونی ڈاکٹر کے ذریعہ، زخم کی لمبائی، چوڑائی اور گہرائی کے معین ہونے کے بعد، زخمی ہونے والے اور زخمی کرنے والے کے موٹے یا دبلے کا فرق ہونے کی بناپر مثال کے طور پر، تین سینٹی میٹر گہرا زخم جو زخمی شخص کے لگا ہے، اس کے لئے زیادہ، خطرناک نہیں تھا لیکن اگر قصاص کے طور پر اسی قدر گہرا زخم، زخمی کرنے والے کے لگادیا جائے توکمزور اور دبلا ہونے کی وجہ سے اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوجائے گا، اس صورت میں کیا وظیفہ ہے ، کیا قصاص کا حکم دیت میں بدل جائے گا، نیز راضی نہ ہونے کی صورت میں کیا کیا جائے؟
اس مسئلہ کی چند صورتیں ہیں:الف) اگر زخم کی لمبائی، چوڑائی اور گہرائی کا لحاظ کرنا، کمزور ہونے کی وجہ سے اس مجرم کے لئے یقینی خطرہ یہاں تک کہ جان کا خوف ہو، تب یقیناً قصاص کا حکم دیت میں بدل جائے گا اس لئے کہ قصاص کی دلیلوں کا اطلاق اس صورت کو شامل نہیں ہیں یا دوسرے الفاظ میں، لوگوں کی نظر میں دونوں میں مماثلث اور مشابہت نہیں پائی جاتی اور اس کے علاوہ وہ دلیلیں جو کہتی ہیں جائفہ(۱)، منقلہ(۲) اور مامومہ(۳)،میں قصاص نہیں ہے کیونکہ خطرے کا باعث ہے، وہ بھی مفروض مسئلہ کو شامل ہیں یعنی ان سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس صورت میں قصاص نہیں ہے ۔ب) اگر دوسرے فریق کے لئے خطرہ نہ ہو لیکن دونوں کے جسموں میں اس قدر فرق ہو کہ ایک کے بدن میں ایک سینٹی میٹر کی گہرائی، دوسرے کے بدن میں تین سینٹی میٹر گہرائی کے برابر ہو، اس صورت میں زخم کی گہرائی کا لحاظ نہیں کرنا چاہیے، اس لئے کہ عام لوگوں کی نظر میں دونوں کا برابر ہونا، جو قصاص کی دلیلوں کی بنیاد ہے، مذکورہ صورت میں حاصل نہیں ہے چونکہ مثال کے طور پر، تین سینٹی میٹر گہرا زخم، دبلے آدمی کی ہڈی تک پہنچ جائے گا جبکہ اُسے ایک فربہ اور موٹے شخص کے لئے ایک معمولی زخم سمجھا جائے گا، لہٰذا اس بناپر قصاص کی دلیلوں میں بیان شدہ، مساوات کو شامل نہیں ہے اور وہ مخصوص روایات جو زخم کی گہرائی میں مساوات اور برابر ہونے پر دلالت کرتی ہیں، وہ بھی موجود نہیں ہیں، دوسرے یہ کہ سجاج(۴)--- یا مطلقہ زخم کے بارے میں آنے والی روایات کے مطابق، زخم کی گہرائی کا معیار، (جائفہ، دامیہ(۵)، باضعہ(۶)، سمحاق(۷) ناموں میں سے کسی ایک نام کا صادق آنا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ دبلے اور موٹے شخص پر، زخم کی گہرائی کے لحاظ سے مذکورہ ناموں کا صادق آنا برابر نہیں ہے ۔ج) یہ مسئلہ زخم کی لمبائی اور چوڑائی کے لحاظ سے بھی قابل غور ہے ، بالفرض اگر کسی کے بازو چھوٹے ہیں یا ان کی لمبائی اور چوڑائی بہت ہی کم ہے، اس کے برخلاف دوسرے فریق کے بازو کی لمبائی اور چوڑائی اس کے بازووٴں سے کئی گُنا زیادہ ہے، اب اگر موٹے آدمی کے بازو پر زخم آجائے جو اس کے آدھے بازو کو شامل ہو، یعنی آدھا بازو زخمی ہوجائے جبکہ لمبائی کے لحاظ سے یہ زخم دوسرے فریق (مجرم) کے کامل بازو کے برابر ہو، اس صورت میں بھی ، لمبائی اور چوڑائی کے لحاظ سے دونوں کے زخموں کےبرابر ہونے پر کوئی قانع کرنے والی دلیل نہیں ہے، بلکہ قصاص کے مفہوم کا تقاضا اور سورہٴ بقرہ کی آیہٴ کریمہ میں، مثل کا اطلاق، دونوں نسبی ہیں (جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے یعنی آیت میں لمبائی اور چوڑائی میںبرابری کو بیان نہیں کیا گیا ہے کہ جو کبھی کبھی ایک شخص کے کامل بازو کو شامل ہو جاتی ہے)۱۔ بدن کا گہرا زخم جس پر قصاص نہیں فقط دیت ہے-۲۔ ہڈی کا ٹوٹ کر اپنی جگہ سے ہٹ جان-۳۔ وہ زخم جو ہڈی سے گذر کر مغز تک پہنچ جائے-۴۔ سور صورت کا زخم جس قصاص کیا جاسگتا ہے-۵۔ معمولی زخم جو گوشت تک پہنچ جائے اور خون جاری ہوجائے-۶۔ دامیہ سے کچھ زیادہ گہرا زخم-۷۔ وہ زخم جو ہڈی کی جھلّی تک پہنچ جائے-قسّامہ (قسم اور قسم کھانے والوں کی تعداد نیز مخصوص طریقہ سے قسم کھانے کے ذریعہ، قتل کے دعوے کو ثابت کرنا)
آبیاری کیے ہو ئے گیہوں میں زکات کا نصاب
آبیاری کے لئے گہوں کی زکات کی مقدار اور اس کا نصاب ، بیان فرمائیں ؟
جواب :۔ اس کی زکاة ۲۰/۱ یعنی پانچ فیصد ہے اور ا س کے نصاب کی مقدار دیگر تمام موارد کی طرح ۸۴۷ کلو گرام ہے ۔

