خواتین کیلئے چہرے اور کلائیوں کا چھپانا واجب ہے
عورت کا اپنے چہرے اور ہاتھوں کو نہ چھپانا ، اگر معاشرہ میں عورت کے لئے فساد اور مشکلات کا باعث ہو تو کیا چہرے اور ہاتھوں کو چھپانا واجب ہے ؟
جواب : اگر فساد و مشکلات کا باعث ہے تو واجب ہے ۔
جواب : اگر فساد و مشکلات کا باعث ہے تو واجب ہے ۔
ہوا اللہ تعالی کی بری نعمتوں میں سے ایک ہے اسے بیکار آلودہ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
روایات میں ذکر ہوا ہے کہ روزانہ مریض کی عیادت کو نہیں جانا چاہیے بلکہ ایک دن کا ناغہ اور فاصلہ رکھ کر اس کام کوانجام دینا چاہیے اور اگر بیماری لمبی ہو جائے تو مستقل عیادت کرنا ضروری نہیں ہے مگر اس مقدار بھر جو بیمارکو ناگوار نہ ہو بلکہ اس کے لیے صحت اور بہتری کا سبب ہو۔ اور یہ کہ کس دن عیادت کے لیے جانا چاہیے اور کس دن نہیں، معتبر روایات میں ایسا کوئی ذکر نہیں ہے۔
جواب :۔ کوئی حرج نہیں ہے لیکن وہ سب کا سب ضرورتمندلوگوں کو دیدیں ۔
جواب: چنانچہ جائداد اور زمین کو اس شخص کے قبضہ میں دیدے تب تو کوئی اشکال نہیں ہے، ہبہ نافذ اور لازم ہے البتہ جب تک وہ خود با حیات ہے اس زمین کے منافع کا مالک رہے گا۔
جواب :۔ ضرورت کے وقت سایہ میں جانا جائز ہے ، لیکن کفارہ ہے اوراس کا کفارہ ہر احرام کے لئے ایک بھیڑ( بکری) ہے یعنی مکمل عمرہ کے احرام کے لئے ایک بھیڑ اور مکمل حج کے احرام کے لئے بھی ایک بھیڑ کافی ہے ۔
جواب: اگر کپڑے یا کتے کا جسم گیلا نہ ہو تو نہ لباس نجس ہو گا اور نہ مسجد ۔
جواب: قانونی طریقہ یہ ہے کہ مورد اعتماد شخص اس کے ساتھ معاشرت رکھتا ہو اور غلط کام بھی اس سے نہ دیکھتا ہو یا اپنے اردگرد کے افراد میں پاکیزہ اور صاحب تقویٰ شحص کی حیثیت سے معروف ہو، مذکی وہ مورد اعتماد شخص ہے جو ان امور کی کسی کے بارے میں خبر دے اور اس کی وثاقت وعدالت کی گواہی دے۔
جواب : ۔ ان کے غیر شرعی احکام کی پیروی کرنا جائز نہیں ہے ، لیکن صحیح اور شرعی ( جائز) دستورات میں ان کی اتباع کرنا چاہئیے ، اور ضروری ہے کہ اسلامی معاشرے کے کاموں پر نگراں ، ایسے ، اشخاص رکھے جائیں جو اسلامی احکام کے پا بند ہوں ۔
جواب: جس قدر کر سکتاہے اور قدرت رکھتاہے ،اسی قدر اپنی نذر پر عمل کرے۔
جواب: احتیاط یہ ہے کہ قربانی کی ان بھیڑ بکریوں کو عزاداروں کو کھانا کھلانے میں استعمال کیا جائے ، مگر یہ کہ قرائن و شواہد سے معلوم ہوجائے کہ نذر کرنے والوں کا کوئی دوسرا مقصد تھا۔
جواب : اگر قاضی، حسی یا حس سے نزدیک قرائن سے کسی شخص کے ذریعہ وقوع قتل کا علم رکھتا ہو تو وہ اپنے علم کے مطابق عمل کرے گا قسامہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس صورت کے علاوہ قسامہ جاری ہوگا اور دیت بیت المال سے ادا ہوگی۔
جواب: اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ استمناء غیر طبیعی آسودگی کی ایک قسم ہے، اس کا نقصان دہ ہونا ایک واضح امر ہے اس کے علاوہ بہت سے افراد نے ہماری طرف مراجعہ کیا اور کہا ہے:”ہم نے یہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ استمناء ضرر رکھتا ہوگا، لیکن اچانک اپنے کو اس کے برے آثار کا شکار پایا“ اور یہ بہترین دلیل ہے کہ خوف ان نقصانات کا اصلی عامل نہیں ہے ؛ البتہ خوف ان نقصانات کو شدت بخشتا ہے․ یہ نکتہ بھی اہمےت کا حامل ہے کہ استمناء کے نقصانات خصوصاً جوانوں میں اس کے ترک کرنے کے بعد تدرےجا ختم ہوجاتے ہےں ، مہم یہ ہے کہ جلد بیدار ہوجائیں اور اس کو ترک کردیں۔