سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

حق قصاص کا مرکب ہونا

کیا قصاص، انحلالی اور مرکب حق ہوتا ہے یا غیر انحلال اور بسیط ہوتا ہے؟

مقتول کے ولی سب مل کر ایک ساتھ قصاص کا اقدام کریں یا اس کام کے لئے کسی کو وکیل بنالیں اور اگر ان (اولیاء مقتول) میں سے کوئی تنہا اور دوسروں کی اجازت کے بغیر، قصاص کرے، تو اس نے حرام کام کیا ہے اور اس کو دوسروں کا حق (دیت) ادا کرنا چاہیے ۔

نماز کے دوران منھ سے خون آنا

اگر حالت نماز میں ، نمازی کے منھ میں خون آجائے کیا اس کی نماز باطل ہے ؟

جواب:اگر خون منھ کے اندر ہے تو نماز باطل نہیں ہے لیکن اگر وہ ایک درھم یا اس سے زیادہ مقدار میں ، ہونٹوں سے باہر آجائے ، تو نماز کو ترک کردے ، منھ کو پانی سے دھوئے پھر دوبارہ نماز پڑھے اور اگر خون ایک درھم کی مقدار سے کم ہو ، البتہ لعاب دہن کے ساتھ مخلوط ہو کر منھ سے باہر آجائے ، اس صورت میں بھی نماز ، محل اشکال ہے ، یعنی نماز درست نہیں ہے ۔

دسته‌ها: مبطلات نماز

تملیک کے ساتھ وقف کے عنوان میں اختلاف

جو چیزیں مسجد میں دی جاتی ہیں ممکن ہے کبھی وہ وقف کے عنوان سے دی جائیں اور کبھی تملیک یعنی مسجد کی ملکیت کے عنوان سے ، کیا ان دونوں عنوانوں کے شرعی احکام جدا جدا ہیں؟

جواب: جی ہاں مختلف ہیں، جہاں پر تملیک کے عنوان سے ہے وہاں پر کام آسان ہے اور مسجد کی مصلحت کے مطابق اس کو تبدیل کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر وقف ہے تو جب تک اس موقوفہ چیز کا استعمال ختم ہونے کی حد تک نہ پہونچ جائے اس وقت تک اس کو تبدیل کرنا جائز ہے۔

دسته‌ها: مسجد کا وقف

یسے نماز خانے جن کے مالک کا پتہ نہ ہو

یونیورسٹی اور کالجوںمیں معمولاً نماز کے لئے ایک جگہ مخصوص کی جاتی ہے کیا اس جگہ پر نماز پڑھنے کی و جہ سے ، اسٹوڈینٹس اور طالب علم پر کچھ رقم فقیروں کو دینا واجب ہے اس لئے کہ ان جگہوں کے مالک کا پتہ نہیں ہے اور کیا یہی بات تدریس پر بھی صادق آتی ہے ؟

جواب : اگر وہ جگہ جو نماز کے لئے مخصوص کی گئی ہے ، حکومت کے اختیار میں ہے اور اس کی وضیعت و کیفیت آپ کے لئے روشن ہے ، تو اس صورت میں ذمہ دار حضرات کی اجازت سے ،وہاں پر آپ کے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے فقیروں کو کوئی رقم دینا آپ پر لازم نہیں ہے اور اگر واقعاً وہ جگہ مجہول المالک ہو یعنی اس کے مالک کا پتہ نہ ہو اور مالک کے پتہ چلنے کا کوئی راستہ بھی نہ ہوتو اس صورت میں وہاں پر نماز پڑھ سکتے ہیں لیکن اس کے عوض کچھ رقم فقیروں کے دیدیں

اہل سنت اور اہل کتاب کی شہادت

ذیل کے موارد میں کو نسا فرض صحیح ہے؟الف) اہل سنت کی گواہی اہل تشیّع کے خلاف دیوانی یا فوجداری کے کیس میں جبکہ خواہاں (گواہوں کے طلب کرنے والے) سنی مذہب اور خواندہ (جس کے خلاف گواہی دی جائے) شیعہ ہوں۔ب)اہل سنت کی گواہی اہل سنت کے خلاف دیوانی یا فوجداری کے کیس میں جبکہ خواہاں سنی مذہب اور خواندہ شیعہ ہوں۔ج) اہل سنت کی گواہی دیوانی یا فوجداری کے کیس میںجبکہ خواہاں سنی مذہب اور خواندہ شیعہ ہوں۔د) اہل سنت کی گواہی اہل تشیّع کے حق میں جبکہ خواہاں سنی مذہب اور خواندہ شیعہ ہوں۔ھ) اہل کتاب(یہودی ، عیسائی وغیرہ) کی گواہی مسلمان کے حق میں یا نقصان میں۔

جواب: الف سے لے کر ہ تک: اہل سنت کی شہادت اس صورت میں جبکہ وہ اعتقادی نظر سے مستضعف ہوں اور عمل کے اعتبار سے عادل ہوں نیز ان سے فسق نہ دیکھا گیا ہو، تمام مذکورہ صورت میں قبول کی جائے گی؛ (۱)لیکن اہل کتاب کی شہادت چاہے مسلمان کے حق میں یانقصان میں ، قبول نہیں ہے، لیکن ان مخصوص موارد میں کہ جن کی طرف قرآن مجید کی بعض آیتوں (سورہٴ مائدہ/۱۰۶) میں اشارہ ہوا ہے۔۱۔ آیة الله العظمیٰ خوئی نے ”مبانی تکملة المنہاج ، ج۱، ص۸۰“ پر اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہےاکتالیسویں فصل

حج کے تمام ہونے کے بعد، مطلع ہونا کہ وضوء کے لئے مانع موجود تھا

ایسی خاتون جس کے ناخون اور انگلیوں کی پشت پر پالش چسپاں ہے اور اسی حالت میں حج کے اعمال انجام دےتی اور یہ نہیں جانتی کہ یہ رنگ ، وضو اور غسل کے لئے مانع ہوتا ہے کیا اس کے اعمال صحیح ہیں اور اگر حج کے اعمال بجالانے کے بعد متوجہ ہو جائے تو اس کا کیاوظیفہ ہے ؟

جواب:۔ اس کا طواف اور نماز صحیح نہیں ہے لہٰذا ان دو اعمال کو دوبارہ انجام دے اور احتیاط واجب کی بنابر سعی اور تقصیر کو بھی دوبارہ انجام دے ان کے علاوہ اس کے باقی اعمال صحیح ہیں اور اگر خود انجام نہیں دے سکتی تو کسی کو نائب بنالے۔

دسته‌ها: طواف کے شرایط

خودکشی کا قصد رکھنے والے کو اس سے روکنا

ایک شخص کسی طرح سے خودکشی کرنا چاہتا ہے، اس کے بارے میں ذیل میں دئے جا رہے سوالوں کے احکام بیان فرمائیں:الف۔ کیا اسے خودکشی سے روکنا دوسروں کے لیے واجب ہے؟ب۔ اگر اس شخص کو خود کشی سے روکنا کسی خرچ کا باعث ہو تو ہو کس کے ذمے ہوگا؟ج۔ اگر بچانے والی کی خود کی جان کسی خطرے میں پڑ جائے تو کس اس کا کس حد تک خود کو خطرہ میں ڈالنا صحیح ہے؟د۔ خود کشی کرنے والے کی جان بچانے کے مسئلہ میں، کیا مسلمان، کافر حربی و غیر حربی میں کوئی فرق پایا جاتا ہے؟ھ۔ کیا اس شخص کو خود کشی سے روکنے کے لیے اس کی اجازت کا ہونا ضروری ہے یا نہیں؟و۔ اگر خودکشی والا بچانے والی کی کوشش سے راضی نہ ہو اور بچانے میں اسے کوئی نقصان پہچ جائے تو کیا بچانے والا ضامن ہے؟

جواب: الف تا ج۔ خودکشی سے روکنا ہر مسلمان پر واجب ہے اور اگر اس کے بچانے میں کم ہیسا خرچ ہو رہا ہو تو جان بچانے والے کو خرچ کرنا چاہیے لیکن اگر پیسا زیادہ خرچ ہو رہا ہو تو یا جان کا خطرہ ہو تو اس کے اوپر بچانا لازم نہیں ہے لیکن اگر بیت المال اسے ادا کر سکتا ہو تو اسے ادا کرنا چاہیے ۔د۔ کافر حربی کی جان بچانا لازم نہیں ہے جبکہ کافر ذمی کے بارے میں احتیاط یہ ہے کہ اس کی جان بچانا چاہیے ۔ھ۔ اس کی اجازت کا ہونا ضروری نہیں ہے ۔و۔ اگر اسے بچانے کے راہیں محدود ہوں اور اس میں اسے ضرر پہچ جائے تو اسے بچانے کے لیے ایسا کر سکتا ہے اور ضامن بھی نہیں ہے ۔

دسته‌ها: خود کشی
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت