سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

عصر حاضر میں زنا اور لواط کی حد میں تغیر

ان موارد میں جہاں شارع مقدس نے سزاؤں کے اجرا کے لئے ایک خاص طریقہ یا خاص آلہ معین فرمایا ہے جیسے رجم (سنگسار) یا تلوار سے قتل کرنا، تو آپ فرمائیں:۱۔ کیا مذکورہ طریقہ یا آلہ موضوعیت رکھتا ہے؟ بعبارت دیگر کیا اس طرح کے موارد میں شارع کا مقصد فقط مجرم کو ختم کرنا ہے، چاہے وہ جدید آلات ہی کیوں نہ ہو، یا اس کام کو مخصوص طریقہ اور آلے سے انجام دینا ضرور ی ہے؟۲۔ موضوعیت رکھنے کی صورت میں ، چنانچہ سنگسار کرنا یا ایسی سزئیں جیسے لواط کی حد کو منصوص طریقوں سے، خاص شرائط اور حالات میں اسلام اور اسلامی حکومت کی مصلحت میں نہ ہو (مثلاً اسلام ومسلمین کی توہین کا سبب بنے یا اسلام اور اسلامی حکومت کا چہرہ ، خشونت آمیز دکھلائے) کیا اصل حکم کو جاری کرتے وقت اجرا کے خاص طریقے کو تبدیل کیا جاسکتا ہے؟

جواب: دلیلوں کا ظاہر موضوعیت رکھتا ہے؛ لیکن عناوین ثانویہ کی وجہ سے ان (طریقوں) کو تبدیل جاسکتا ہے اور ہمارے زمانے کے بہت سے حالات میں ، رجم یا حد لواط کے طریقہ اجرا کا انتخاب کرنا مشکل ہے۔

مقتول کے ولی کے ذریعہ مکرہ اور ممسک شخص کو معاف کیا جانا

مجتہدین فرماتے ہیں: قتل پر مجبور کرنے والے کی سزا، ہمیشہ کے لئے قید خانہ ہے اور پکڑنے والے (جیسا کہ کسی نے مقتول کو پکڑ رکھا ہو اور دوسرے نے قتل کیا ہو) کی سزا یہ ہے کہ اس کی آنکھیں پھوڑدی جائیں، لہٰذا اگر ایک آدمی پکڑے دوسرا اسے تھامے رہے اور بھاگنے نہ دے اور تیسرا آدمی قتل کردے، اس صورت میں جیسا کہ مقتول کے ولی ووراث قاتل کو معاف کرسکتے ہیں کیا مجبور کرنے والے اور تھامنے والے آدمی کو بھی معاف کرسکتے ہیں؟ یا یہ بھی زنا کی سزا کی طرح الله تعالیٰ کی معیّن کردہ ایک حد (سزا) ہے جو قابل معافی نہیں ہے؟

چنانچہ مقتول کے ولی ووارث، مجبور کرنے والے اور پکڑنے وتھامنے والے کی خطا سے درگذر کریں، تو ان کے متعلق، ان سے مربوط سزا کا حکم جاری کرنے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے، اس کا حکم بھی قصاص کے مثل ہے نیز مجبور کرنے اور پکڑنے والے یعنی دونوں کی سزا قید ہے، آنکھیں پھوڑنے کی سزا فقط دیکھنے والے (نگران) کی ہے اور وہ بھی خاص صورت میں ۔

دسته‌ها: قصاص کے احکام

غیر نقدی صورت میں ردّ مظالم

وہ شخص جس کے اوپر مظالم ہیں وہ چونکہ اس کے مالک کو نہیں جانتا تو اس کو صدقہ دے دینا چاہیے، اگر جنس (نہ کہ اس کی قیمت) کو صدقہ دے تو کیا حکم ہے؟

اگر مظالم جنس ہے، جیسے گھی، تیل، دالیں وغیرہ تو ان کو فقراء کو دے سکتا ہے، لیکن اگر پیسہ تھا تو پیسہ ہی صدقہ دیا جائے گا ۔

دسته‌ها: رد مظالم

نماز میں خواتین کا پردہ

کیا خواتین کے لئے حالت نماز میں اپنے بدن کو ایسے چھپانا ضروری ہے کہ کسی طرف سے بھی دکھائی نہ دے ؟ نیز کیا ایسی جگہ پر بھی جہاں کوئی نامحرم نہیںہے ، خواتین کے لئے اپنے ہاتھوں اور چہرے کے زیورات کو چھپانا واجب ہے ؟

جواب: نماز کی حالت میں ہاتھ اور چہرے کو چھوڑ کر تمام بدن کا چھپانا واجب ہے کہ کسی طرف سے بھی بدن دکھا ئی نہ دے اور اگر زیورات لباس کے اوپر ہیں تو نماز میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

غلط فکروں کا پھیلانا

کچھ اشخاص ایسے ہیں جن کے افکار واندیشے اکثر فقہائے شیعہ کے نظریات اور اسلامی جمہوریہ پر حاکم فقہ کے مخالف ہیں (جیسے ولایت فقیہ کا نظریہ) کیا ہم اُن نظریات وافکار کو معاشرںے میں منتشر کرسکتے ہیں تاکہ لوگ مختلف اقوال کو سن کر ان میں سے بہترین کا انتخاب کریں؟ جواب کے منفی ہونے کی صورت میں، آیہٴ شریفہ (فَبَشِّر عِبَادِ الَّذِینَ یَستَمِعُون الْقَول فَیَتَّبِعُونَ اٴحْسَنَہ) کی کس طرح تفسیر کریں گے؟

یہ کام اگر بدآموزی کا سبب نہ بنے تو بہت اچھا کام ہے اور عمدتاً یہ مشکل مخالفین کے نظریات کو مناسب طریقے سے بیان کرنے سے حل ہوجاتی ہے، اس طرح کہ ان کے نظریات کو مضر اور مخرّب طریقے سے اور جھوٹ اور تہمت کے ہمراہ بیان نہ کئے جائیں، البتہ توجّہ رکھنا چاہیے کہ مسائل مختلف ہیں؛ کچھ مسائل کو عوام الناس میں بیان کرسکتے ہیں اور کچھ مسائل ایسے ہوتے کہ جن کو فقط حوزہٴ علمیہ، یونیورسٹی اور علمی محافل کی حدود میں رہنا چاہیے؛ کیونکہ اُن مسائل میں تخصصی آگاہی کی ضرورت ہے، یقینا ان دونوں مسائل کا ایک دوسرے سے مشتبہ ہونا معاشرے میں بہت مشکلات کا باعث ہوگا۔

قران میں شفاعت کا ذکر

ہم شیعوں کا عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم)، ائمہ معصومین (علیهم السلام) اور جناب فاطمہ زہرا (علیها السلام) کچھ افراد کی شفاعت کریں گے، حقیر جب کچھ مدّت پہلے قرآن شریف کی تلاوت کررہا تھا تو سورہٴ بقرہ کی آیت نمبر ۴۸ میں اس مضمون کو پایا کہ جس میں خداوندعالم فرماتا ہے: ”اس دن سے ڈرو کہ جب کوئی شخص کسی شخص کی سزا نہ بھُگتے گا اور کسی کی بھی شفاعت کو قبول نہ کیا جائے گا“ التماس ہے کہ اس سلسلے میں مزید وضاحت فرمائیں ۔

اس آیت کے معنی کا سمجھنا شفاعت کے باب میں وارد ہوئی تمام آیتوں کے معنی کے سمجھنے پر موقوف ہے کہ جن میں صریح اور واضح طور سے شفاعت ثابت ہے؛ جیسے آیت الکرسی میں اس بنیاد پر آپ کی ذکر کردہ آیت جس میں شفاعت کی نفی ہوئی ہے اس بات کی طرف اشارہ ہے بغیر اذن خدا کسی کی بھی شفاعت قبول نہ ہوگی اور خداوندعالم بھی اُس جگہ پر اذن دے گا جہاں مدّمقابل بھی شفاعت کی لیاقت رکھتا ہو، اس سے بیشتر وضاحت کو تفسیر نمونہ کی پہلی جلد میں اسی آیت کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں ۔

دسته‌ها: شفاعت

بینک کے قرضے(لون)سے مسجد کیلئے زمین کی خریداری

اگر بینک سے قرض لیکر مسجد بنا نے کے لئے زمین خریدی گئی ہو، اور قرض کی قسطیں جمع نہ کی گئی ہوں ، کیا اپنی رقم واپس لینے کے لئے بینک اس زمین میں تصرف کر سکتا ہے ؟

جواب: زمین کو اپنے ملکیت میں لینے کا بینک کو حق نہیں ہے ،بینک کو فقط اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنے کا حق ہے ہاں اگر قرض لیتے وقت یہ شرط ہوئی تھی کہ اگر قسطیں جمع نہ کی گئیں ، تو زمین بینک کے اختیار میں دینا ہو گی ( تو زمین میںبینک کو تصرف کرنے کاحق ہے ) البتہ توجہ رہے کہ قرض ، شرعی عقد کے مطابق لیا جائے نہ کہ سود والا قرض۔

دسته‌ها: مسجد

منہ اور ہاتھوں کو تین بار دھونا

اگر کوئی شخص وضو میں تین مرتبہ چہرے اور ہاتھوں کو دھوئے تو اس کی وضو اور عبادات کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس کی وضو اور عبادات میں اشکال ہے ، لیکن توجہ رہے کہ دو یا تین مرتبہ دھونے سے مراد یہ ہے کہ وضو کے عضو کو ایک مرتبہ پورا دھوئے، پھر دوسری دفعہ شروع کرے اور مکمل طور پر دھوئے، البتہ کسی عضو پر صرف دو یا اس سے زیادہ دفعہ پانی ڈالنا جب تک مکمل طور پر عضو کو دھونے سے فارغ نہ ہو کوئی حرج نہیں ہے۔

متبرک مقامات میں باراتوں کا داخل ہونا

بہت دنوں سے ایسا ہورہا ہے کہ باراتی دلہن کو لے کر حضرت محمد بن موسیٰ کاظم علیہ السلام کی درگاہ میں آتے ہیں، لیکن افسوس دلہن کے کامل طور سے اسلامی پردہ نہ ہونے کی وجہ سے اور یہ بھی کہ ان میں سے بہت لوگ فقط فلم بنوانے اور فوٹو کچھوانے آتے ہیں، تو ان کا یہ کام ان محترم ومکرم امام زادوہ کی توہین کا سبب ہوتا ہے ۔ ایسی باراتوں کا درگاہوں میں داخل ہونے سے روکنے کیا حکم ہے؟

ان بارتوں کے لئے ضروری ہے کہ شرعی احکام اور متبرک مقامات کی حرمت کا خیال رکھیں؛ اور ان درگاہوں کے خادمین کوچاہیے کہ ان کی روک تھام کے لئے صحیح طریقہ استعمال کریں، جیسے ممانعت کے بورڈ لگائیں اور چھپے ہوئے پرچے بانٹیں اورباربار تذکر دیں، اور یہ کام اس طرح ہونا چاہیے رنجش اور لڑائی کا سبب نہ ہونے پائے ۔

دسته‌ها: شادی کے دن جشن
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت