سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

متوفیٰ عورت کے وارثین کا مہر کا مطالبہ کرنا

اگر ایک خاتون کا مہر سفر حج مقرر تھا اور وہ خاتون حج کے سفر سے مشرف ہونے سے پہلے مرجاتی ہے، کیا اس کے وارث مہر کا مطالبہ کرسکتے ہیں؟ ایک سفر حج کا کئی وارثوں کے درمیان تقسیم کا کیا طریقہ ہوگا؟

جواب: جی ہاں، مطالبہ کرسکتے ہیں اور مرحومہ کے انتقال کے وقت کا ایک حج کے سفر کا خرچ شوہر سے لیں گے اور خاتون کے تمام اموال کی طرح اس مال کو بھی ورثہ کے درمیان تقسیم کریں گے

بے اختیار منی کا خارج ہونا

اگر کسی شخص کی منی اختیار کے بغیر نکل جاتی ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: منی کا ہر صورت میں خارج ہونا غسل کا باعث بنتا ہے، بشرطیکہ اس کو منی کے خارج ہونے کا یقین ہو اور اگرپروسٹیٹ (prostate)(مثانے کے غدود)کے آپریشن کی وجہ سے منی کے ذرات پیشاب میں حل ہوجائیں تو جنابت کا باعث نہیں ہے۔

دسته‌ها: جنابت کے اسباب

نکاح نامہ کی حفاظت

نکاح نامہ کس کے پاس ہونا چاہیےٴ ؟ دلہن کے گھر والوں کے پاس یا دولھا کے پاس ؟

جواب:۔چنانچہ عقد سے پہلے نکاح نامہ کے بارے میں کوئی خاص شرط یا معاہدہ طے نہ کیا گیا ہو تو نکاح نامہ کو دلہن کے گھر والوں کو دینا چاہیےٴ اور ضرورت پڑنے پر شوہر اس کی گواہیدفتر (شادی بیاہ سے متعلق دفتر) سے حاصل کرسکتا ہے

اگر وارثین تین ابوینی (ماں باپ دونوں کی طرف سے ) بہنیں ایک دادی اور ایک نانا ہوں

ایک شخص فوت ہوا، انتقال کے وقت اس کے ورثہ یہ ہیں: تین حقیقی بہنیں (جن کے ماں باپ ایک ہوں)دادی اور نانا، مذکورہ وارثوں کی میراث کے حصّے کا دقیق میزا ن کیا ہے اور کیسے ان میں تقسیم ہوگا؟

جواب: نانا، بھائی کے مثل اور دادی بہن کے مثل ہے ؛ اس بناپر مال کے چھ حصّے کئے جائیں گے، دو حصّے نانا کو دےے جائیں گے اور بقیہ چار حصے دادی اور تین بہنوں میں تقسیم ہوںہو گے ، ہر ایک کو ایک حصہ ملے گا۔

سرکاری نوکری کی عدالتی حیثیت

سرکاری نوکری کی شرعی حیثیت پر روشنی ڈالیں؟ اس بات کے مد نظر کہ ان کی تنخواہیں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہتی ہیں اور ریٹائرمینٹ کے وقت حکومت انہیں کارکردگی کے حساب سے فنڈ اور پنشن دیتی ہے؟

سرکاری نوکری طاہرا عقد اجارہ کے ضمن میں آتی ہے۔ نوکری کے دوران انجام دی جانے والی خدمات،ان کے اوقات اور تنخواہ کے عوض میں پیدا یونے والے معاملات سے اس عقد اجارہ میں کوئی مشکل پیش نہیں آتیں، انہیں ان دو طریقوں سے سمچھا جا سکتا ہے:الف: وکالت کے طور پر، نوکری کرنے والا خود کو نوکری کے آغاز سے مثلا تیس سال کی مدت، معین تنخواہ اور مقرر اوقات میں سرکار کو اپنی خدمات پیش کرتا ہے اور یہ عقد اجارہ (تحریر شدہ شکل میں یا عملی طور پر) دونوں فریق میں ہو جاتا ہے۔ پھر وہ حکومت اور سرکار کو اپنی مطلقہ وکالت دے دیتا ہے جس کے مطابق اگر حکومت چاہے تو مثلا پچیس سال یا اس سے کم و بیش مدت کے بعد اس قرارداد اور سمجھوتے کو ختم کر سکتی ہے اور وہ حکومت کو اس بات کی وکالت بھی دے دیتا ہے کہ وہ کام کے اوقات، تنخواہ کے تعین اور دوسری سہولتوں میں اپنے بنائے ہوئے قانون کے مطابق رد و بدل کر سکتی ہے اور جدید قرارداد اور اگریمینٹ نئے اصول و ضوابط اور ضرورتوں کے تحت تنظیم کر سکتے ہیں۔ حکومت ان معاملات میں جس طرح سے مالک کی حیثیت رکھتی ہے اسے طرح سے وکالت بھی رکھتی ہے۔ب۔ اس عرصہ میں پیش آنے والی تبدیلیوں کو شرط ضمن عقد کے تحت بھی حل کیا جا سکتا ہے، اس معنا میں کہ پہلی قرارداد میں یہ شرط ہوگی کی حکومت جب چاہے گی (قانون کے مطابق) اس سمجھوتے کو ختم کر سکتی ہے اور اسے ریٹائر یا مستعفی کر سکتی ہے۔ یا ایسا ہو سکتا ہے کہ نوکری کرنے والا یہ شرط رکھے کہ اسے تنخواہ کے علاوہ مزید پیسا دیا جائے جو قانون کے مطابق ہو۔واضح رہے کہ یہ شراءط بہت واضح نہیں یوتے مگر اس حد تک ضرور واضح ہوتے ہیں کہ ان پر عمل ہو سکے۔

دسته‌ها: آخرت

اجارہ (کرایہ) پر لی گئی موقوفہ زمین میں کنواں کھدوانا۔

مندرجہ ذیل وضاحت کو مدنظر رکھتے ہوئے نیچے دئے گئے سوالوں کے جواب عنایت فرمائیے:۱۔ وقف کا موضوع اولاد ذکور ”بطناً بعدَ بطنٍ ونسلاً بعدَ نسلٍ“ (اولاد در اولاد،نسل در نسل)ہے ۔۲۔ حالیہ پیٹ سے موقوف علیہم (جن کے لئے وقف ہوا ہے) دس افراد ہیں۔۳۔ موقوفہ مال کا متولی اولاد ذکور میں سب سے بڑا اور سب سے سمجھدار شخص ہے۔۴۔ موقوفہ شئے عبارت ہے ۳۶ گھنٹہ پانی اور ۲۴ قطعہ زمین۔۵۔ہمارا سوال زمین کے بارے میں ہے نہ کہ پانی کے بارے میں ، زمین بھی وہ کہ جو اس وقت آبادی کے اندر آگئی ہے جن کو یا تو کھیتی باڑی کے بارے میں استعمال نہیں کیا جاسکتا یا کھیتی باڑی کرنا حرج ومرج یا وہاں کے ساکنین کے لئے نارضایتی کا سبب ہے۔۶۔ وقف نامہ کے متن میں یہ صراحتاً بیان ہوا ہے: متولی کو چاہیے کہ جو املاک مذکورہ کی سعی وکوشش ونظم ونسق کا لازمہ ہے اس پر عمل پیرا ہو۔۷۔ اور یہ بھی تاکید کی گئی ہے کہ موقوفہ املاک کو نہ خریدا جائے اور نہ بیچاجائے اور نہ ہی رہن ووثیقہ کے طور پر رکھا جائے ۔اب اس صورت میں نیچے دیے گئے سوالات در پیش ہیں:الف) ایسی صورت میں جب کہ موقوف علیہم متعدد اور مختلف مراجع کے مقلد ہوں تو وقف کے اختلافی احکام جاری کرنے سے متعلق متولی کا وظیفہ کیا ہے؟

جواب: متولی کو چاہئے کہ اپنے مرجع تقلید کے فتوے کے مطابق عمل کرے۔ب) اگر موقوف علیہم کے درمیان کسی بھی فرد میں یہ دو صفتیں ”اسن وارشد“ (یعنی عمر میں بڑا ہونا اور سمجھدار ہونا )پائی جاتی ہوں، کیا اس صورت میں متولی کاعمر میں بڑا ہونا ، یا سمجھدار ہونا کافی ہے یا دونوں صفتوں کا ہونا ضروری ہے؟جواب: احتیاط واجب یہ ہے کہ فیصلے دونوں کی نظر کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیے جائیں۔ج) ارشد ہونے کی اصلی صفات اولویت کی ترتیب کے ساتھ کیا ہیں؟ یا ارشد کا مفہوم مختلف موارد وموضوعات کی نسبت زیادہ قیود وشرائط کا حامل ہے؟ مثلاً آیا سوال کے مورد میں کھیتی باڑی میں مہارت رکھنا مفہوم رشد میں دخالت رکھتا ہے؟جواب: اس جیسے موارد میں ارشد وہ ہے جو امور اقتصادی کی مدیریت اور موقوفہ اشیاء کو صحیح طریقہ سے ادارہ کرنے سے آگاہ ہو۔د) کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ واقف نے موقوفہ زمین کو صرف کھیتی میں استعمال کے لئے منحصر کیا ہے؟ آیا وقف نامہ کی اس عبارت ”متولی کو چاہیے جو املاکِ مذکور کی سعی وکوشش اور نظم ونسق کا لازمہ ہے اس پر عمل پیرا ہو“ سے معلوم نہیں ہو تاکہ کھیتی باڑی کے علاوہ تمام صحیح شرعی اور عرفی استعمالات، کوئی اشکال نہیں رکھتےخصوصاً جبکہ دیگر استعمالات زیادہ در آمد رکھتے ہوں اور اصل زمین یا ان کا عوض بھی باقی رہے؟جواب: جب تک اس زمین میں کھیتی باڑی کرنے سے معقول درآمد ہو تو یہ ہی مقدم ہے لیکن اگر کھیتی کرنے میں منافعہ نہ رہے یا بہت کم منافعہ ہو تو اس زمین کو دوسرے کاموں کے لئے جیسے گھر بنانا یا اسی کے مانند دیگر کاموں کے لئے اجارہ پر دیا جاسکتا ہے۔

دسته‌ها: وقف کے احکام
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت