سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

الکحل کی نجاست و طہارت

بعض کیمیکل، شعبہ کے طالب علموں کے نقل کے مطابق، صنعتی اورطبی الکحل بنانے کا مادہ ایک ہی ہے،فقط اس وجہ سے کہ صنعتی الکحل پینے کے قابل نہ رہے اس میں ایک رنگین مادہ ملادیتے ہیں،اس فرض کے ساتھ ان دونوں الکحل کا کیا حکم ہے؟

جواب: طبّی اورصنعتی الکحل پاک ہے کیونکہ رنگین مادہ کے قطع نظر بھی وہ پینے کے قابل نہیں ہے اور یہ ایک قسم کا زہر شمار کیا جاتا ہے ، اس وجہ سے مست کرنے والے سیال کی دلیل اس کوشامل نہیں ہوگی۔

مسجد کے ناقابل استعمال سامان کو فروخت کرنا

کیا مسجد کے غیر ضروری سامان کو بیچ کر ، اس کی رقم کو مسجد میں خرچ کیا جاسکتاہے ؟

جواب : اگر اس سامان کی ضرورت نہیں رہی ہے تو اس کو بیچ دیں اور اسی مسجد میں خرچ کریں ، اس لئے کہ مذکورہ سامان کو مسجد میں وقف یاعطیہ دینے والے شخص کی رائے سے زیادہ قریب یہی ہے کہ اسی مسجد میں خرچ کیا جائے ،لیکن اگر اس مسجد میں ضرورت نہ ہو تو دیگر تمام مساجد میں خرچ کیا جاسکتاہے ۔

دسته‌ها: مسجد

مکہ و مدینہ میں مسافر کی نماز

کیا مکہ اور مدینہ کے قدیم اور نئے بسے ہوئے محلوں میں مسجد الحرام اور مسجد النبی کی طرح، مسافر کو نماز قصر اور تمام ،پڑھنے میں ،اختیار ہے یا قصر پڑھنا ضروری ہے ؟

جواب :۔ مسافروں کو اختیار ہے کہ مکہ اور مدینہ میں اپنی نماز وں کو مسجد النبی اور مسجد الحرام بلکہ مکہ اور مدینہ کے تمام شہر میں کامل پڑھیں یا قصر بجالائیں اور کامل نماز پڑھنا افضل ہے اور قدیم مکہ و مدینہ اور دور حاضر کے مکہ مدینہ میں کوئی فرق نہیں ہے ۔

عدالت میں اعتراف کرنے کے لئے زانی کو حاضر کرنا

برای مہربانی درج ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیں:الف) کیا زناکے ملزم کو، اعتراف کرنے کے لئے، عدالت میں لانا جائز ہے؟ب) جائز ہونے کی صورت میں کیا قاضی کو اجازت ہے کہ ملزم کو یہ سمجھائے کہ اس کا جرم کیا ہے؟ج) دوسرے سوال کے جائز ہونے اور ملزم کے قبول کرنے کی صورت میں، کیا سمجھانے کے ذریعہ قبول جرم کرنا، اقرار کی حیثیت رکھتا ہو، یا یہ کہ اقرار کرے اور اس عمل (بد) کی صراحت بیانی، کو موضوعیت حاصل ہے، نیز ایک بار اقرار کی صورت میں، کیا متعدد بار اور متعدد نشستوں میں، سوال کو دہرانا، لازم یا جائز ہے؟د) کیا ملزم کی خاموشی سے اس کا انکار، ظاہر ہوتا ہے؟

جواب: الف) زنا کے ملزم کو عدالت میں حاضر نہیں کیا جاسکتا مگر یہ کہ عدالت میں جاکر پہلے گواہ ، گواہی دیدں، یا یہ کہ جبراً اور زور زبردستی زنا کیا گیا ہو اور وہ عورت جس سے زنا کیا گیا ہے، عدالت میں شکایت کرے یا ملزم کچھ دوسرے جرائم کا مرتکب ہوا ہو جیسے پرائی عورت کے ساتھ خلوت، کہ اس طرح کے جرم کی وجہ سے عدالت میں حاضر کیا جائے ۔جواب: ب) گذشتہ جواب سے اس کا جواب بھی معلوم ہوگیا ہے ۔جواب: ج) اقرار صاف وشفاف ہونا چاہیے اور اقرار کے لئے، قاضی کے اصرار کرنے کی کوئی وجہ اورحیثیت نہیں ہے ۔جواب: د) خاموشی سے کوئی چیز ثابت نہیں ہوتی اور اس طرح کے موقعہ پر، انکار لازم نہیں ہے بلکہ اقرار ہونا چاہیے ۔

غسل میں معمول سے زیادہ پانی استعمال کرنا

کیا پانی کا زیادہ مقدار میں استعمال کرنا غسل کے لئے نقصان دہ ہے؟ اور اگر کسی شخص کو زیادہ پسینہ آتا ہو اور پسینے کو دھونے سے پہلے غسل کرلے تو کیا اس کا غسل صحیح ہے؟

جواب: پانی کا زیادہ مقدار میں استعمال کرنا غسل کو نقصان نہیں پہنچاتا لیکن اگر پانی کا اصراف ہو تو اصراف کی مقدار حرام ہے، اگر پسینا پانی کو مضاف نہ کرے تو غسل صحیح ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ پہلے پسینے کو دھوئے، اس کے بعد غسل کرلے۔

مولف یا ورثاء کی اجازت کے بغیر کتاب چھاپنا

اگر کوئی ناشر کسی شاعر کا دیوان یا کسی دانشمند کی تالیف و تصنیف کو اس کی یا مرحوم ہونے صورت میں اس کے ورثاء کی اجازت کے بغیر چھابے اور بیچے اور اس سے خود ذاتی فایدہ اٹھائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

حق تالیف ایک عقلایی حق ہے جسے ساری دینا کے عقلاء مانتے ہیں اور جس کی رعایت کی جاتی ہے، اس کی رعایت نہ کرنا ظلم اور ممنوع ہے، کسی مولف کی کتاب یا کسی شاعر کا دیوان اس کی اجازت کے بغیر چھاپبا نایز نہیں ہے۔ اس بات کی طرف توجہ ہونی چاہیے کہ ہمیشہ مصداق عرف سے لیے جاتے ہیں اور احکام شرع سے۔ لہذا اس میں کوئی ممنوعیت نہیں ہے کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ عقلاء کے نزدیک نئے نئے حقوق وجود مین آئیں اور اسلام انہیں اپنے کلی احکام میں شامل کر لے۔

دسته‌ها: طباعت کے حقوق

ڈوبتے کو نجات دینے کے لئے اجرت کے احکام

اسلامی جمہوریہ ایران کے دریائی قانون کے بند ۱۷۴، و۱۸۱ کے بارے میں کچھ سوالات پیش خدمت ہیں، برائے مہربانی ان کے جواب عنایت فرمائیں:بند نمبر ۱۷۴ میں ایسے آیا ہے: ”ہر قسم کی امداد اور نجات جو مفید نتیجہ کی حامل ہو، اس پر منصفانہ اجرت دی جائے گی، لیکن اگر امداد یا نجات دینے کا کام مفید نتیجہ نہ رکھتا ہو تو اس پر کسی قسم کی اجرت نہیں دی جائے گی، نیز کسی مرتبہ بھی نجات حاصل کرنے والی چیز کی قیمت سے زیادہ رقم ادا نہیں کی جائے گی“۔اور بند ۱۸۱ میں آیا ہے: ”وہ لوگ جن کی جان بچائی گئی ہے ان کوکسی طرح کی اجرت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا (یعنی ان کے اوپر کسی طرح کی اُجرت ادا کرنا لازم نہیں ہے) نجات دینے والے حضرات جنھوںنے ایک حادثہ سے مربوط نجات یا امداد کے امور میںلوگوں کو نجات دینے کے لئے خدات انجام دی ہیں، وہ لوگ اس اجرت میں سے مناسب حصّہ وصول کرنے کے حقدار ہیں جو اجرت کشتی، جہاز، سامان اور اس سے مربوط دیگر چیزوں کے نجات دینے والوں کودی جاتی ہے“۔۱۔ یہ دو بند، اسلامی عقود میں کس عقد (معاہدہ) کے تحت قرار پاتے ہیں؟ اور فقہی قواعد میں سے کس قاعدہ کو شامل ہیں؟

پہلے بند میں فقط اس موقع پر اجرة المثل کا مطالبہ کرسکتے ہیں کہ جب مال کے مالک یا کشتی اور جہاز کے مالک کی جانب سے درخواست کی گئی ہو، یا کشتی کے مالکان اور ڈوبتے کو نجات دینے والوں کے درمیان ایک عام معاہدہ ہوا ہو اور اس فرض میں کہ ڈوبتے کو نجات دلانے کی درخواست کی گئی ہے، تب اپنی اجرة المثل وصول کرسکتا ہے، اگرچہ اس کی اجرة المثل نجات پانے والی چیز سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو، اور یہ (بند) عقد اجارہ اور عقد جعالہ کے تحت درج ہوتا ہے، البتہ دوسرے بند کے سلسلے میں، انسانوں کو نجات دینے کے عوض اجرت لینا لازم نہیں ہے اس لئے کہ یہ کام واجب ہے، مگر یہ کہ حکومت نے کچھ لوگوں کو اس کام کے لئے ملازم رکھا ہو جو ہمیشہ اس کام پر نگران وناظر ہوں، اس صورت میں ان لوگوں کو اپنی تنخواہ لینے کا حق ہے، لیکن کشتی اور سامان کو غرق ہونے سے بچانے کی اجرت میں سے کچھ حصّہ انسانوں کو نجات کے لئے قرار دینے پر شرعی دلیل نہیں ہے بہرحال بطور کلی ان دونوں بند کا فقہی قوانین پر تطبیق دینا متعدد مشکلات کا حامل ہے ۔

دسته‌ها: حق الناس
دسته‌ها: نذر کے احکام

طالب علموں اور اساتید کے نماز اور روزوں کے احکام

محترم طالب علموں، اُستادوں اور معلّموں کے نماز وروزہ کا حکم مختلف صورتوں اور فرضوں میں بیان فرمائیں ۔

۱ ۔ اگر پڑھنے کی جگہ یا تدریس کا مقام قابل ملاحظہ ایک مدت مثلاً ایک سال یا ایک سال سے زیادہ کے لئے ہو تو وطن کا حکم اختیار کرلیتا ہے اور وہاں پر نماز اور روزہ قصر نہیں ہے اور وہاں پر لگاتار دس دن روز رہنا بھی شرط نہیں ہے ۔۲۔ وہ اشخاص جو اپنے وطن سے ہفتے میں تین دن یا زیادہ پڑھائی کے لئے دوسری جگہ جاتے ہوں اور ان کا کام قابل ملاحظہ مدت مثلاً ایک سال یا زیادہ تک چلتا رہے تو وہ جگہ ان کے وطن کے حکم میں ہے ۔۳۔ وہ اشخاص جو ایک یا دودن تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے ہوں اور پلٹ جاتے ہوں تو ان کی نماز اور روزہ قصر ہے ۔۴۔ جب کبھی تعطیل کے ایّام میں پڑھائی کی جگہ پر کسی دوسرے کام کے لئے جاتے ہوں تو ان کے لئے وہی مذکورہ بالا حکم جاری ہوںگے ۔۵۔ وہ اشخاص جو روزانہ یا ہفتے میں تین روز تدریس کے لئے یا تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے ہوں، یعنی وہاں پر صبح جاتے ہوں اور شام کو پلٹ آتے ہوں اور ایک مدت تک یہ سلسلہ جاری رہے تووہ کثیر السفر شمار ہوںگے اور اس جگہ جاتے اور آتے وقت ان کی نماز اور روزہ قصر نہیں ہے ۔۶۔ وہ افراد جو ایک مہینے یا اس سے زیادہ روزانہ کسی جگہ شرعی مسافت تک جاتے ہوں اور پلٹے ہوں تو وہ کثیر السفر کے حکم میں ہیں ۔۷۔ فرض شمارہ ایک اور دو کے مشمول طالب علم یا معلمین حضرات اگر چاہیں کہ ان کے اس دن کا روزہ کہ جب وہ تعلیم یا تدریس کی جگہ سفر کرنا چاہیں، صحیح ہو تو یا تو وہ اس طرح جائیں کہ ظہر سے پہلے تدریس یا تعلیم کی جگہ پہنچ جائیں اور نیت کریں، یا اپنے وطن سے ظہر کے بعد چلیں تاکہ ان کے روزہ میں کوئی مشکل پیش نہ آئے ۔۸۔ تدریس یا تعلیم اور ان سے مربوط کام، جیسے امتحان، تھیسوغیرہ سے فراغت کے بعد اگر پھر اس جگہ جائیں تو وہ جگہ ان کے وطن کے حکم میں نہیں رہے گی، مگر یہ کہ ان کا یہ قصد ہو کہ اس جگہ مستمر طور سے پرسکونت اختیار کرے گا ۔

دسته‌ها: مسافر کی نماز
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت