میراث کے تمام طبقوں کو قصاص کا حق ہے
کیا میراث کے دوسرے طبقہ کے وارثوں کو، قصاص کا حق ہے؟
جواب: تما م وارثوں کو جنھیں میراث ملتی ہے، قصاص کا حق ہے، مگر شوہر اور زوجہ کہ انھیں قصاص کا حق نہیں ہے البتہ دیت کی رقم میں حصّہ دار ہیں ۔
جواب: تما م وارثوں کو جنھیں میراث ملتی ہے، قصاص کا حق ہے، مگر شوہر اور زوجہ کہ انھیں قصاص کا حق نہیں ہے البتہ دیت کی رقم میں حصّہ دار ہیں ۔
دوبارہ حج کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
اگر عام لوگ اس کو غلیظ دھواں جانتے ہوں اور آپ نے بھی جان بوجھ کر اور متوجہ ہوتے ہوئے اس کو سونگھا ہو تو آپ کے روزے میں اشکال ہے اور اگر وہ دھواں مشکوک تھا تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔
جواب: اس نے برا کام کیا ہے، لازم ہے کہ اس کو خوش زبانی کے ساتھ نہیں عن المنکر کیا جائے۔
روزہ کے کفارہ کو فقراء اور مسکین دونوں کو دیا جاسکتا ہے ۔
جواب: قرعہ کشی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور اسکو اپنے وظیفہ پر عمل ضرور کرنا چاہیے ، ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ عادل نہیں ہو سکتا ، مگر یہ کہ ایسا کرنے سے فساد وجود میں آ جائے ۔
جب اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ ہو اور خبر کی ضرورت بھی ہو تو کوئی ممانعت نہیں ہے اور اس کو رشوت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔
جواب:۔ جس قدر روز ے کے چھوڑنے کا یقین ہے ، اسی تعداد میں روزوں کی قضا کرے اور کفارہ بھی دے لیکن اگر اس کے لئے سخت ہو اور انجام نہ دے سکتا ہو تو اس صورت میں ، توضیح المسائل کے مسئلہ نمبر ۱۴۰۲ کے مطابق عمل کرے ۔
جواب:۔ بلاد کبیرہ ( بڑے شہر ) اور غیر بلاد کبیرہ کا حکم ایک ہے مگر اس صورت میں کہ جب شہر کا ہر محلہ ایک مستقل شہر شمار ہوتا ہو۔
جواب : ناچ دیکھنے کا وہی حکم ہے جو خود ناچ اور رقص کرنے کا ہے
جواب : جو کچھ پہلے سوال کے جواب میں بیان کیاگیا اس سے حکومت کے وجود کا فلسفہ بھی روشن ہوجاتا ہے اور مرجعیت کا بھی۔
جواب: جی نہیں داخل نہیں ہوسکتا ۔
تقیہ، عقیدہ پوشیدہ رکھنے کا نام ہے اس جگہ پر جہاں اس کے ظاہر کرنے سے خطرہ یا نقصان ہو۔ یہ مسئلہ قرآن مجید، اسلامی روایات اور اصحاب کے حالات میں بیان ہوا ہے اور مشرکوں سے بچنے کے لیے بیان ہوا ہے۔