نشہ آور چیزوں کی خرید و فروخت (ہیروئن چرس وغیرہ)
کیا ہمارا یہ کہنا صحیح ہے کہ ہیروئن(نشہ آور چیزوں)کی خریدو فروخت شراب کی خرید و فروخت کی طرح ہے یعنی خریدار نشہ آور مادے کا (ہیروئن) کا مالک نہیں بنے گا اور بیچنے والا اس کی قیمت اور رقم کا مالک نہیں ہوگا ؟
جواب ۔جی ہاں صحیح ہے اور اس (نشہ آور مادے)کی خریدو فروخت کا معاملہ باطل ہے
باپ کا بیٹا ثابت کرنے کے لیے ڈاکٹر کی سند
اگر جج یا قاضی کی طرف سے کیس عورت کو معاینہ کے لیے پیش کیا جائے کہ اس کے رحم میں جو نطفہ ہے وہ اس کے شوہر کا ہے یا کسی اجنبی کا، اور اسے اس کام کے قانونی پیروی کرنے والے سرکاری ڈاکٹر کے پاس بھیجا جائے، اس صورت میں ڈاکٹر قطعی طور پر یہ معین کر سکتا ہے کہ یہ نطفہ اس کے شوہر کا نہیں بلکہ کسی اجنبی کا ہے لیکن اس کے ایسا کرنے سے معلوم ہو کہ اس کے رشتہ دار اسے جان سے مار دیں گے اور اگر اس کے بر خلاف گزارش دے تو بچہ اس کے شوہر سے ملحق ہو جائے گا اور قانونی و میراث و محرمیت وغیرہ کے دوسرے مسائل اور مشکلات پیش آئیں گی، ایسی صورت میں اس ڈاکٹر کا شرعی فریضہ کیا ہے؟
جواب: مہم یہ ہے کہ ڈاکٹر کا قول اور اس کا یقین جج اور قاضی کے لیے اس طرح کے موارد میں حجت نہیں رکھتا اور حتی کے اگر خود قاضی کا یقین جو اس روش سے حاصل ہوتا ہے وہ بھی حجت نہیں رکھتا بلکہ محل اشکال ہے، لہذا ضروری نہیں ہے کہ ڈاکٹر اپنے یقین کو اس طرح کے موارد میں پیش کرے اور نتیجہ کے طور پر بچہ حکم ظاہری کے مطابق اس کے شوہر سے ملحق ہو جائے گا اور اس طرح کے احکام ظاہری سے کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی۔
روزہ دار کے لئے ۸۰فی صد ضرر کا احتمال
بعض موقعوں پر ڈاکٹر حضرات بیماروں کے لئے اپنی رائے کا اس طرح اظہار کرتے ہیں :”اس شخص کے لئے روزہ رکھنا ۸۰فی صد نقصان دہ ہے“ اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ایک علمی سروے کے مطابق ایسے مرض میں مبتلا افراد نے اگر روزہ رکھا ہے تو ان میں سے ۸۰فی صد مریضوں کو نقصان ہوا ہے، اگر یہ اظہار رائے انسان کے لئے یقین آور ہو، لیکن اپنی حالت کو اس سروے پر تطبیق نہ دے تو اس کے لئے روزہ کا کیا حکم ہے؟
ایسے سروے اگر متدین اطبّاء سے سنے جائیں تو طبیعی طور پر ضرر کے خوف کا باعث ہوتے ہیں لہٰذا اس صورت میں روزہ واجب نہیں ہے ۔
اس شخص کا نائب ہونا جو حرم میں مرگیاہو
مراجع کرام فرماتے ہیں : جو شخص استطاعت حاصل ہونے کے چند سال بعد یااستطاعت حاصل ہونے کے پہلے سال ، مکہ مکرمہ میں شرفیاب ہو اور حرم کی حدود میں داخل ہونے کے بعد مرجائے، اس کے لئے نائب بنانا واجب نہیں ہے ، اب اگر کوئی شخص عمرہ تمتع کے تمام اعمال مکمل انجام دینے کے بعد دنیا سے چل بسے تو کیا اس پر بھی ، نائب بنانا واجب نہیں ہے ؟
جواب :۔ اگر حرم کی حدود میں داخل ہونے اور احرام باندھنے کے بعد مرگیا ہو یا عمرہ تمتع کرنے کے بعد انتقال ہوا ہے تو نیابت لازم نہیں ہے ۔
وصیت نامہ لکھتے وقت وارثوں کا موجود ہونا
صلح نامہ یا وصیت نامہ لکھتے وقت کیا تمام وارثوں کا موجود ہونا لازم ہے؟
جواب: وارثوں کا حاضر ہونا، لازم نہیں ہے، مگر یہ کہ ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت ہو تب (ایک تہائی سے زیادہ ترکہ کی) وصیت کرنے کے لئے وارثوں کا راضی ہونا شرط ہے ۔
اجنبی عورت کا تخمدان لگانا
اگر کسی عورت کا رحم (گردے کے پیوند کی طرح) کسی دوسری عورت کو حاملہ ہونے کے لیے لگایا جائے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ الف۔ کیا اس کی دیت واجب ہے؟ ب۔ کیا رحم قابل فروخت ہے؟ ج۔ جس عورت کو دیا جا رہا ہے اس کی اولاد کا کیا حکم ہوگا؟ د۔ جس عورت کا رحم تھا اسے ماں کا حق ملے گا یا نہیں؟
جواب: اگر بہت اہم ضرورت کا تقاضا نہ ہو تو اس کام سے صرف نظر کرنا چاہیے لیکن اگر واقعا ضرورت ہو تو پیوند دینے اور اس کے بدن میں لگانے کے بعد وہ اس کے بدن کا حصہ ہوگا اور بچہ اس سے متعلق ہوگا اور اس فرض میں دیت بھی واجب نہیں ہے اور اس کی خرید و فروش جائز ہے، اگر چہ بہتر یہ ہے کہ پیسے کو اجازت کے عوض کے طور پر لیا جائے، عضو کے نہیں۔
سنگ مر مر اور سیمینٹ پر سجدہ کرنا
کیا سیمنٹ، موزائیک( مارول ) اور سنگ مرمر پر، سجدہ کرناجائز ہے ؟
جواب: ۔ کوئی حرج نہیں ہے ۔
فرقہ ارامنہ(عیسائی)کا مسجد میں آنا اور مرنے والوں کی رسومات ادا کرنا
ایک ایسی زمین پر جو مقامی مسلمان اور عیسائیوں کی مشترک زمین ہے خود انھیں کی اجازت سے مسجد تعمیر کی گئی ہے اور اہل کتاب (عیسائی) اپنے مردوں کے ایصال ثواب کی رسومات مسلمانو ں کی مسجد میں انجام دیتے ہیں مسلمان مقرر اس جلسہ میں تقریر کرتا ہے خود عیسائی بھی جلسہ میں حاضر ہوتے ہیں اسی طرح مسجد میں جب مسلمانوں کی مجالس منعقد ہو تی ہیں تب بھی عیسائی شریک ہو تے ہیں کیا ان کا مسجد میں آنا مسجد کی بے حرمتی کا سبب نہیں ہے ؟
جواب : اگر انکا مسجد میں آنا اسلام سے زیادہ ر غبت و محبت کا سبب بنے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
استقرار حمل کے بعد حمل کا ضایع کرنا
کیا حمل ٹھرنے کے بعد اسے سقط کرانا جائز ہے؟
جواب: اگر کسی خطرہ کا یقین یا احتمال نہ ہو اور ماں کو شدید نقصان نہ پہچ رہا ہو تو جائز نہیں ہے اور دیت واجب ہے ۔
حمل کا ایک رحم سے دوسرے رحم میں منتقل کرنا
ڈاکٹر بچے کو اس عورت کے رحم سے نکال سکتے ہیں جس میں حمل مستقر (ٹھر) نہیں رہ پاتا اور اسے کسی دوسری عورت کے رحم میں ڈال سکتے ہیں جس میں وہ سالم طور پر پرورش پا کر پیدا ہو، اس تمہید کے ضمن میں درج ذیل سوالوں کے جواب عنایت کریں:الف: اگر ایک مرد کی دو بیویاں ہوں (نطفہ ایک ہی شوہر کا ہونے کی صورت میں) کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ب: اگر عورت اجنبی ہو تو ایسا کرنے کا کیا حکم ہے؟ج: ایسا کرنے میں روح پڑنے یا نہ پڑنے سے کوئی فرق پڑتا ہے؟
جواب: مذکورہ تینوں صورتوں میں (حمل ٹھرنے کے بعد) نطفہ منتقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن چونکہ ایسا کرنا عام طور پر حرام لمس و نظر کا باعث ہوتا ہے لہذا صرف ایسی صورت میں جائز ہے جہاں شدید ضرورت کا تقاضا ہو۔
ایک مسجد کو دوسری مسجد کی زمین میں توسعہ دینا
اگر مسجد میں فرش (قالین چٹائی وغیرہ)یا دیگر سامان ،اضافی ہوں کیا مسجد میں ضرورت نہ ہو نے کی صورت میں دوسرے مستحق کو وہ اضافی قالین وغیرہ دے دیا جائے ؟
جواب : جائز نہیں ہے لیکن اس کو فروخت کر کے ،مسجد کی ا سی ضرورت کے مثل دوسری ضرورتوں میں خرچ کیا جاسکتا ہے ۔
جس شخص نے وطن میں قصر نماز پڑھی ہو
اگر کوئی شخص مسافر ہونے کے خیال میں نماز قصر پڑھے یامسافر نہ ہونے کے خیال میں ، نماز کامل اداکرے اور روزہ بھی رکھے ، اورچند روزوںکے بعد اپنی غلطی کی طرف متو جہ ہو جائے اس صورت میں اس کی گذشتہ نمازا و ر روزے کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ دونوں صورتوں میں ، احتیاط واجب کی بناپر دوبارہ بجالائے۔
اہل سنت کے نظریہ کے مطابق عید منانا
جس شہر میں اہلسنت حضرات ،اکثر تعداد اور شیعہ حضرات اقلیت( کم تعداد)میں ہوں کیا ان کے ساتھ عید فطر اور عید قربان منا سکتے ہیں،جبکہ ان کے بر خلاف عید نہ ہو نے کا یقین بھی نہ ہو۔اور اگر رمضان المبارک کے ۲۹روزے گزر گئے،نجف اشرف میں، عید کا چاند ہو گیا، لیکن استانبول(تر کیہ کے شہر) میں چاند نظر نہیں آیا، جبکہ اہلسنت تیس روزے رکھتے ہیں اور نجف اشرف سے ایک دن کے بعد عید منا تے ہیں، اس صورت میںہم شیعو ں کا کیا وظیفہ ہے؟
جواب ۔اگر تقیہ کے شرائط موجود ہیں تو ان کے ساتھ عید منا سکتے ہیں،اور اگر نجف میں چاند ثابت ہو جائے تو استا نبول کے لیے کافی ہے۔
نشے کی عادت چھڑانے والے شربت کا بنانا اور بیچنا۔
نشہ کی عادت کو چھڑانے والی چیزوں کا بنانا، بیچنااور استعمال کرنا کیا حکم رکھتا ہے؟
جواب: اگر واقعاً نشے کی عادت کو چھڑانے کے لئے ہے تو کوئی اشکال نہیں رکھتا۔

