چوری کے مال کو رکھنا اور چھپانا
کیا چوری کے مال کا رکھنا، چھپانا، اٹھاناہر ایک جدا جرم شمار ہوگا ، یا عمل واحد کے حکم میں ہے؟۔
جواب: اس صورت میں جب اس پر حد شرعی جاری ہو تو ان امور کی وجہ سے کوئی چیز اس کے اوپر عائد نہیں ہوتی۔
جواب: اس صورت میں جب اس پر حد شرعی جاری ہو تو ان امور کی وجہ سے کوئی چیز اس کے اوپر عائد نہیں ہوتی۔
سب سے پہلے انسان کے لیے دینی علوم کا حاصل کرنا ضروری ہے اس کے بعد ایسے علوم جو ایک اسلامی معاشرہ کے لیے ضروری ہیں، ان کا حاصل کرنا واجب کفایی اور اسلامی سماج کی سر بلندی اور رفع ضرورت کے لیے ضروری ہے۔
جواب: اگر رشتہ دار، جان پہچان والوں اور جانکاروں سے پوچھ تاچھ اور دریافت کرنے کے بعد بھی مسئلہ واضح نہیں ہوا تو اس صورت میں احتیاط یہ ہے کہ دونوں کے وارث آپس میں مصالحت کریں البتہ اگر وارثوں میں، نابالغ بچہ نہ ہو ورنہ احتیاط یہ ہے کہ نابالغ بچہ کے حق کی رعایت کی جائے ۔
نشہ آور چیزوں کا استعمال کرنا کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اگر کئی شخص ترک کرنا چاہے تو اس کی جان خطرے میں پڑ جائے
گذشتہ عمرہ کے متعلق جو تم نے لکھا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور آئندہ کے متعلق جو لکھا ہے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔
جواب: نبش قبر کے لئے کوئی خاص مدت معین نہیں ہے ، اس لئے کہ اشخاص کا بدن اور اسی طرح قبر کی زمینیں مختلف ہیں، فقط اس صورت میں نبش قبر جائز ہے کہ جب یقین ہو جائے کہ میت کے بدن کے تمام آثار و نشا نات، ختم ہوگئے ہیں ۔
حکومت کو دینی موسسوں کے استقلال کو مخدوش نہ کرنا چاہیے اور ان کو اپنی چادر تلے لے لینا چاہیے؛ لیکن ان کے اوپر دائمی اور سازندہ نظارت بہت بجا ہے، تاکہ خدا نخواستہ صحیح راستے سے منحرف نہ ہوجائیں ۔
اگر پیسہ کا مالک کسی رقم کو صدقہ یا خمس کے عنوان سے الگ کردے، اس میں تصرف کرسکتا ہے؛ لیکن اسے کسی کی امانت میں تصرف کا حق نہیں ہے ۔
جواب:۔ اگر حضر میں نماز پڑھے تو بلند آواز سے قرا ئت کرنا ،مستحب ہے اور اگر سفر میں ہوتو اس صورت میں بلند آواز سے قراٴت کرنا مستحب ہے ، جب جماعت سے نماز پڑھے،فرادیٰ کی صورت میں نہیں ۔
اگر نماز اجارہ ایسے شخص کی ہو کہ جس کی نماز قطعی طور سے قضا ہوئی ہے تو ایسے امام کی اقتداء میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
جواب:۔ جس قدر روز ے کے چھوڑنے کا یقین ہے ، اسی تعداد میں روزوں کی قضا کرے اور کفارہ بھی دے لیکن اگر اس کے لئے سخت ہو اور انجام نہ دے سکتا ہو تو اس صورت میں ، توضیح المسائل کے مسئلہ نمبر ۱۴۰۲ کے مطابق عمل کرے ۔
زنا کے ذریعہ پیدا ہونے والے بچہ کا حکم، پرورش اور اس کے اخراجات وغیرہ کے لحاظ سے (ان صورتوں کے علاوہ جہاں دلیل مستثنیٰ قرار دیتی ہے جیسے میراث کا مسئلہ) وہی ہے جو شرعی بچہ کا ہوتا ہے لہٰذا اس بناپر، محرم ہونے، اس کی پرورش، نگہداشت اور تربیت کے تمام احکام ولد الزنا کے بارے میں جاری ہوں گے فقط اس کو میراث نہیں ملے گی ۔
جواب: ایسا کرنے میں کوئج حرج نہیں ہے ۔
جواب:۔ اگر اس شخص کو نہیں جانتا جس نے پیسہ دیا تھا تو دوسرے مجتہد کی اجازت سے کسی شخص کو اجرت دے کر اس کام پر مامور کرسکتا ہے ۔