غسل جمعہ کی قضا
کیا جمعہ کے غسل کی قضا کے بارے میں کوئی دلیل موجود ہے ؟
جواب : جی ہاں اس کے بارے میں روایت میں ہے کے ہفتہ کے دن مغرب کے وقت تک قضا کرسکتا ہے ۔
جواب : جی ہاں اس کے بارے میں روایت میں ہے کے ہفتہ کے دن مغرب کے وقت تک قضا کرسکتا ہے ۔
اگر کافی حد تک شعور، تمیز اور اچھے بُرے کی پہچان رکھتے ہوں تاکہ عبادات بجالاسکیں تو اس صورت میں ان کے اوپر شرعی احکام لازم ہیں
مرد ،عورت ( ہونے والی بیوی ) کاوکیل ہوسکتا ہے اور صیغہ نکاح پڑھ سکتاہے اور اپنی جانب سے نکاح کو قبول کر سکتا ہے ، مثال کے طور پر یہ کہے : اپنی موکلہ فلاں خاتون کو ، فلاں مدت میں فلاں مہر پر اپنے متعہ میں لے لیا ، اس کے بعد کہے کہ میں نے قبول کیا ،اگر عربی میں پڑھ سکتا ہے تو عربی میں پڑھے اور اگر عربی میں نہیں پڑھ سکتا تو فارسی ( یعنی دوسری کسی زبان) میں پڑھے اور عورت بھی مرد کی طرف سے وکیل ہوسکتی ہے ۔
جواب:۔ کوئی حرج نہیں ہے، لیکن ایک دن سے متعلق ، ظہر عصر ، مغرب اور عشاء کی قضا نمازوں کو اسی ترتیب سے بجا لائے ۔
حق تاٴلیف عقلائی حقوق میں سے ہے، جس پر شارع مقدس نے کتاب وسنت کی بنیاد پر امضاء کیے ہیں، کیونکہ عقلاء کے عرف میں اس کی عدم رعایت ایک طرح کا ظلم شمار ہوتا ہے ۔ اور یہ حق دوسروں کی طرف انتقال کے قابل بھی ہے ۔
جواب: اس مسئلہ کی دلیل وہ روایتیں ہیں جو ائمہ معصومین ٪ سے وارد ہوئی ہیں جن سے قرآنی کی آیات تخصیص ہوجاتی ہے اور آیات میراث کی تخصیص فقط اس مورد میں منحصر نہیں ہے بلکہ یہ مطلب شیعہ اور اہل سنت کی فقہ میں متعدد مقامات پر دیکھا جاسکتا ہے ، مزید اطلاع کے لئے جواہر الکلام کی ۳۹ جلد کا مطالعہ کیا جائے۔
جواب:۔ اسی حالت میں اپنی نماز ادا کرے اور اگر اس کی مدت کم تھی تو احتیاط کے طور پر قضا بھی کرے لیکن اگر طویل مدت تھی تو قضا پڑھنا ضروری نہیں ہے ۔
جواب ۔مطلق ذکر کی نیت سے کو ئی حرج نہیں ہے۔
جواب: جب بھی حد سرقت کے شرائط مکمل ہوں تو قاضی کو وسوسہ نہ کرنا چاہئے اور حدود الٰہی جاری کرنا چاہئے البتہ ضروری نہیں ہے کہ حد ملاٴعام میں جاری ہو تاکہ مخالفین اس کے اوپر منفی پروپیکنڈہ نہ کرےں۔
جواب : اسے چاہےئے کہ اس مکان کا مجہول المالک ( یعنی جس کے مالک کا پتہ نہ ہو) کے عنوان سے ، حاکم شرع کی اجازت سے ، صدقہ دے اور اگر خود ہی مستحق ہو تو حاکم شرع کی اجازت سے اس مکان میں تصرف کرسکتا ہے ۔
جواب:۔جو امور معاشرے کیلئے ضروری ہیں ان میں جائز ہے -.
جواب: مشکل ہے )یعنی ثواب ملنا مشکل ہے)
جواب:۔ احتیاط یہ ہے کہ جس کا نفقہ واجب ہے اس کو مطلقاً کفارہ نہ دیاجائے ۔
جواب : ضرورت کے وقت ایسے مواد کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔