زندہ افراد کی طرف سے اعمال خیر انجام دینا
کیا کسی کی زندگی میں اس کی طرف سے ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے جسیے مسجد میں قرآن وغیرہ ہدیہ کرنا ؟
ایصال ثواب زندہ و مردہ دونوں کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
ایصال ثواب زندہ و مردہ دونوں کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
جواب: اوّلاً کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے کہ الکحلی مشروبات کم اور محدود مقدار میں استعمال کرنا مضر نہیں ہے بلکہ کم مقدار کا ضرر کم ہوتا ہے، ثانیاً: جب بھی ایسی اجازت لوگوں کو دے دی جائے تو یہ کسی بھی صورت کنٹرول میں نہیں رہے گی اور بہت جلدی پورا معاشرہ اس سے آلودہ ہوجائے گا، اسی وجہ سے شریعت نے اس کو بطور کلی ممنوع قرار دیا ہے، ثالثاً: قانون، عمومی پہلو رکھتا ہے اور یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ مختلف افراد کو مختلف بہانوں کے ذریعہ حکم سے جدا کیا جائے ، سعی کریں کہ انشاء الله ایسے شیطانی وسوسوں کا آپ شکار نہ ہوں۔
جواب: مسلّم قانون اور مشہور روایت "الوقوف علی حسب ما یوقفہا اہلہا" کے مطابق، موقوفہ کی آمدنی کو اس چیز میں صَرف کرنا چاہیے، جس کے لئے وقف نامہ میں صراحت سے بیان ہوا ہے، مگر یہ کہ وقف نامہ کی ایک یا چند باتیں قابل عمل نہ ہوں، جیسے ہمارے زمانے میں تانبے کے برتن، جنہیں دوسرے برتنوں سے بدل لیا جاتا ہے۔
جواب:۔ اگر نماز طواف کا موقعہ آنے سے پہلے کی مدت میں ، اپنی نماز کو کامل کرسکتا ہے تو اس صورت میں کوئی ممانعت نہیں ہے ورنہ اس صورت کے علاوہ اس کی نیابت میں اشکال ہے ۔
جواب:۔ مفروضہ مسئلہ میں ان سب کے لئے شہر قم وطن کے حکم میں ہے ۔
پوری آیت سجدہ کے پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہوتا ہے اور ریڈیوں یا کیسٹ وغیرہ سے سننے میں احتیاط سجدہ کرنے میں ہے اور پیشانی کو ایسی چیز پر رکھا جائے جس پر سجدہ کرنا جائز ہے ۔
پانچ چیزیں معتکف پر حرام ہیں ۔۱۔ اپنی بیوی سے لذّت اٹھانا؛ اگرچہ حلال طریقے سے ہی کیوں نہ ہو، جیسے اپنی بیوی کے ساتھ ملاعبہ کرنا ۔۲۔ عطر اور خوشبو کا سونگھنا؛ اگرچہ لذّت کے قصد سے نہ ہو ۔۳۔ ضروری نہ ہوتے ہوئے خرید وفروش بلکہ مطلقاً تجارت کرنا؛ لیکن دنیوی مباح کاموں کو انجام دینا جیسے کپڑا سلنے وغیرہ میں اشکال نہیں ہے ۔۴۔ دینی یا دنیوی مسائل میں مدمقابل پر غلبہ اور اظہار فضیلت کی خاطر بحث ومباحثہ یا جدل کرنا اور ان کاموں میں رات دن کا کوئی فرق نہیں ہے بہرحال گذشتہ امور میں سے ہر ایک کام اعتکاف کو باطل کردیتا ہے ۔
جواب: اقرار کے بعد انکار قابل قبول نہیں ہے، مگر یہ کہ ثابت ہوجائے واقعاً غلطی ہوگئی تھی؛ مثلاً کسی اجنبی کو اپنے بیٹے کی جگہ تصور کرلیا تھا۔
جواب:۔اس کام کو ترک کرنا بہتر ہے مگر ضرورت کے موارد میں .
جواب :۔ ہر حال میں اس خاتون کا احرام صحیح ہے ، لیکن پا ک ہونے تک صبر کرے گی ، اس کے بعد طواف اور نماز طواف کو بجا لائے گی اور اس کے بعد عمرہ کے باقی اعمال ، انجام دے گی ۔
جواب:اگر اجارہ فقط کھیتی کے لئے تھا تو کنواں کھود کر پانی نکالنے کے لئے دوسرے اجارہ کی ضرورت ہے، مگر یہ کہ عرف عام میں زمین کے اجارہ کے ساتھ کنواں کھودکر پانی نکالنا بھی شامل ہو ۔