بھولے ہوئے تشہد کی قضا
اگر کوئی شخص ، نماز میں تشہد بھول جائے ، کیاتشہد کی قضا بجالانے کے بعد، سلام پڑھے؟
جواب:۔ احتیاط یہ ہے کہ سلام بھی پڑھے ، اور اس کے بعد سجدہٴ سہو بھی کرے ۔
جواب:۔ احتیاط یہ ہے کہ سلام بھی پڑھے ، اور اس کے بعد سجدہٴ سہو بھی کرے ۔
جواب: اگر اس نے بچہ کی حفاظت میں مطابق معمول عمل نہیں کیا ہے اور کوتاہی کی ہے تو وہ ذمہ دار ہے ۔
جواب: خمسی سال کی تاریخ ،معین تاریخ سے ہر مقدار میں پہلے لانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن بعد کی تاریخوں کی طرف لے جانا، حاکم شرع کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔
جواب: زوجہ کو ثابت کرنا چاہئے کہ طلاق مرض الموت میں واقع ہوئی ہے، ورنہ کوئی حق نہیں رکھتی، لیکن بہتر ہے کہ ورثہ کے ساتھ ایک رقم پر مصالحہ کرلے۔
جواب: مہم ضرر کی صورت میں ان کا کھانا حرام ہے۔
جواب:۔ ان کے طواف میں کوئی شکال نہیں ہے ، اس لئے کہ طواف میں ، معروف حد کی مراعات کرنا واجب نہیں ہے بلکہ احتیاط مستحب ہے اور صفوں سے متصل ہونا بھی شرط نہیں ہے ۔
کام کی اجرت ( مزدوری ) سے مقصود وہ حق الزحمت ہے جو بینک یا قرض الحسنہ وغیرہ کے ملازموں کو ، تنخواہ کے عنوان سے اس زحمت کے بدلے جو حساب کو محفوظ اور دیگر خدمات کے بدلے ، دیا جاتا ہے ، چنانچہ اسی قصد اور نیت سے ، مزید رقم لی جائے اور تنخواہ کے عنوان سے ملازموں اور دیگر اخراجات میں خرچ کیا جائے تو کوئی ممانعت نہیں ہے ، لیکن جوصورت آپ نے تحریر کی ہے اس میں اشکال ہے۔
جواب : جن قوانین کی آپ نے اوپر وضاحت کی ہے ان کی مخالفت نہ کریں ۔
جواب : مذکورہ صورت میں احتیاط واجب یہ ہے کہ جس قدر غسل کرنا باعث ضرر نہیں ہے غسل کرے ، اور جب باعث ضرر ہو تیمم کرنا جائزہے لیکن احتیاط کے طور پر وضو بھی کرلے یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ منی کے ذرّات پیشاب میں مل کر مکمل طور پر ختم نہ ہوئے ہوں ،اور اگر منی کے ذرّے ، پیشاب میں ملکر بالکل ختم ہوگئے ہیں ۔ تو اس پر غسل ضروری نہیں ہے ، اسی طرح اگر اسے شک ہو کہ وہ منی کے قطرے ہیں ( یا دوسری ( مذی وغیرہ) چپکنے والی چیز ہے جو کبھی کبھی پیشاب کے راستہ سے خارج ہوتی ہے ، توبھی غسل نہیں ہے ۔
بے شک کامل مساوات نہ فقط فقہ شیعہ کی ضرورت کے مخالف ہے بلکہ ضرورت اسلام اور قرآن کی نص صریح اور روایات متواترہ کے مخالف ہے، اور علماء اسلام میں کوئی ایک بھی نہ آج ایسی مساوات کا قائل ہے اور نہ گذشتہ زمانہ میں کی کا قائل تھا، دراصل بین الاقوامی تنظیموں کو یہ سمجھا دیا جائے کہ قومیں اور ملتیں اپنی تہذیب اور مذہب کو الوادع نہیں کہہ سکتیں اور آنکھوں اور کانوں کو بند کرکے ایسے قوانین کو تسلیم نہیںکرسکتیںکہ جن کے بنانے میں وہ نہ ہی تو حاضر تھے اور نہ ہی منطق اور وجدان کی نظر سے ان میں قاطعیت پائی جاتی ہے، ممکن ہے بعض جزئی موارد میں علماء اسلام کے درمیان گفتگو کی گنجائش ہو، لیکن کامل طور سے مساوات کا جیسا کہ کہا گیا ہے کہ کوئی موافق نہیں ہے ۔
جواب: اگر اس میں تمام شرائط شہادت پائے جاتے ہیں تو کوئی مانع نہیں ہے ۔
جواب: اگر وہ ایسے مجتہد کی تقلید کرتا ہوے جو اس کام کو جائز جانتا ہوے نیز دوسری جہتوں سے بھی وہ شخص عادل ہے تو شاہد بن سکتا ہے۔
جواب: دیت کی رقم میت کے مال کے حکم میں ہے اور متوفی کے قرضوں کو اس سے ادا کیا جائے گا۔
جواب:۔ مذکورہ فرض میں آپ کے لئے مستحب روزہ رکھنا جائز ہے لیکن کوشش کریں اور جس قدر بھی ہو سکے ان کی رضایت حاصل کریں ۔