کلاس میں خواتین ٹیچر (معلّم) کا مذاق
لڑکیوں اور لڑکوں کی مشترک کلاس میں، طلباء کی تھکن کو دور کرنے کی غرض سے لیڈی ٹیچر کا مزاق، ہنسنا اور ہنسانے کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ کلاس میں، آداب عفت کی رعایت کرنا واجب ہے .
جواب:۔ کلاس میں، آداب عفت کی رعایت کرنا واجب ہے .
جواب: انسان کا قتل کسی بھی بہانہ سے جائز نہیں ہے، یہاں تک کہ ترس کھا کر اور ہمدردی میں بھی نہیں، اور اگر مریض خود بھی ایسا کرنے کو کہے تب بھی نہیں، اسی طرح سے اس کا معالجہ ترک کد دینا تا کہ وہ جلدی مر جائے، جایز نہیں ہے ۔ اس مسئلہ کی دلیل آیات و روایات میں قتل کا حرام ہونا مطلقا بیان ہونا ہے اور اسی طرح ان دلائل سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے جن میں جان کا بچانا واجب قرار دیا گیا ہے اور ممکن ہے کہ اس کا فلسفہ یہ ہو کہ اس بات کی اجازت دینا بہت سے سوء استفادہ کا سبب بن جائے گا اور اس طرح کے بے تکے اور بے بنیاد بہانوں کے تحت ترس اور ہمدردی میں قتل ہونے لگیں گے یا بہت سے افراد اس قصد سے خودکشی کی راہ اختیار کرنے لگیں گے ۔ ویسے بھی طبی مسائل غالبا یقین آور نہیں ہیں اور بہت سے افراد جن کی زندگی سے مایوسی ہو چکی ہے، عجیب و غریب طریقہ سے موت کا شکار ہونے لگ جائیں۔
جواب :۔ اگر وصیت نامہ میں کسی خاص شخص کی شرط نہیں لگائی ہے تو بیٹی او ربیوی بھی اس کی نیابت میں حج کرسکتی ہیں ۔
جواب:۔ جائز نہیں ہے اس کو صبر کرنا لازم ہے، جب تک خداوند عالم اس کیلئے کوئی گشائش و راستہ فراہم کرے .
اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ایسی حالت میں منی پیشاب کے ساتھ نکلتے وقت پیشاب میں مل جاتی ہے تو اس صورت میں غسل کا سبب نہیں ہے ، لیکن اگر بغیر پیشاب کے منی نکلے یا منی کی شکل میں بغیر پیشاب کے فقط منی نکلے تو غسل واجب ہوگا اور اگر متعدد بار غسل کرنا سخت عسروحرج کا باعث بن رہا ہو تو غسل کے بدلے تیمم کرے ۔
جواب الف: اس سے مراد یہ ہے کہ تساہلی سے کام نہ لے اور اس کو تاخیر میں نہ ڈالے ۔جواب ب: اگر نماز واجب کے دوران زلزلہ آجائے تو نماز واجب ختم کرنے کے بعد نماز آیات بجالائے ۔جواب ج : ایسے شخص پر نماز آیات واجب نہیں ہے، اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ اس کو بجالائے ۔
جواب: حرام ہے اور تعزیر کا باعث ہے ، مگر ان موقعوں پر جب کوئی مھم غرض ہو یا س کو سرکہ میں تبدیل کرنا چاہتے ہوں۔
جواب :خواتین کے لئے حالت حیض میں مسجد میں ٹہرنا حرام ہے اور اگر مسجد کا فرش خون سے آلودہ ہوجائے تو پاک کرنا واجب ہے اور جاہل و نادان اشخاص کو ان مسائل سے آشنا کرنا ضروری ہے ۔
جواب: یقینی ضرورت کی صورت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
جواب :جائز نہیں ہے ،اس کے لئے دوسری جگہ نظر میں رکھی جائے وہ جگہ (فاطمیہ )وقف کے حکم میں ہے ۔
اگر گناہ کا سبب نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
جواب:۔قصد ریبہ اور لذت کے بغیر، لباس کے اوپر سے (ہاتھ) چھونے میں اشکال نہیں ہے .
جواب : اگر مسجد میں استعمال کے قابل نہیں ہیں یا بالکل بوسیدہ اور ختم ہونے کی حالت میں ہیں تو ان کو بہتر میں تبدیل کیا جاسکتا ہے یعنی انھیں میوزیم یا غیر میوزیم کو بیچ کر ان کے بدلے نئے قرآن خرید لیں اور اسی مسجد میں وقف کردیں ۔
جواب : قاضی اگر خود مجتہد ہے تو اپنے نظریہ کے مطابق حکم کرے گا اور ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے اگرغیر مجتہد قضاوت کے منصب پر فائز ہوجائے تو وہ اپنے مرجع تقلید کے نظریہ پر عمل کرے گا اور اگر حکومت اسلامی کے قوانین اور مرجع تقلید کے نظریہ میں اختلاف پایا جاتا ہو تو ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ وہ احتیاط پر عمل کرے اور اگر اسکے لئے یہ ممکن نہ ہو یا ضررو نقصان یا عسر و حرج کا باعث ہو ، تو ایسی صورت میں عمومی اور اجتماعی مسائل میں حکومت اسلامی کے قوانین مقدم ہیں ۔ اور خصوصی مسائل میں وہ اپنے مرجع کے نظریہ کے مطابق عمل کرے ۔
جواب : اگر وہ لوگ اسلام کے مثبت ثقافتی امور انجام دیتے ہیں اور نمازیوں کے لئے زحمت کا باعث بھی نہیں ہے تو جائز ہے، بانی مسجد کی رضایت بھی ضروری نہیں ہے ۔