وعدہ وفا کرنا
کیا زوجہ سے کیےٴ گئے وعدہ کو پورا کرنا واجب ہے ؟
جواب:۔بہتر یہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ اپنے وعدہ کو پورا کرے مگر ان موقعوں پر کہ جب وہ قادر نہ ہو .
ہمسر کی توہین کرنا
زوجہ کا شوہر کی توہین اور شوہر کا زوجہ کی توہین کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔کسی کو بھی دوسرے کی توہین کرنے کا حق نہیں ہے یہاں تک شوہر و زوجہ کو بھی نہیں .
دو جگہوں پر جماعت سے نماز پڑھنا
کیا دو جگہ پر نما ز عیدین کی جماعت کرائی جا سکتی ہے ؟
جواب:۔ ایسا کرنے میں اشکال ہے لیکن نماز پنجگانہ میں دو جگہ دو مختلف گروہوں کے ساتھ جماعت کرائی جاسکتی ہے ۔
شکار کئے ہوئے حیوانات کا گوشت کھانا
جیسا کہ حضور کے علم میں ہے کہ حال حاضر میں شکار کرنا ملک کے بعض علاقوں جیسے شمال کے حصّے دریائے جنوب کے مضافات کے علاوہ روزی حاصل کرنے کے لئے نہیں رہ گیا ہے اور تقریباً اکثر جو شکار ہوتے ہیں ان کو مالدار کرنے متمول افراد تفریح، فنکاری اور خوشگذرانی کے طور پر کرتے ہیں، مذکورہ فرض کے تحت وحشی جانوروں کے شکار کرنے کا حکم شرعی کیا ہے؟
اگر زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے یا آمدنی اور کام کی غرض سے قوانین وضوابط کے تحت شکار کیا جائے تو شرعاً جائز ہے لیکن اگر تفریح اور خوشگذرانی کے لئے ہو۔ ہرچند کہ اس کے گوشت کو استعمال کیا جائے ۔ شرعاً حرام ہے، لہٰذا اس طرح کے سفر میں حرام سفر ہونے کی وجہ سے نماز وروزہ قصر نہیں ہوگا ۔
وقت ضرورت چھت والی گاڑی میں سوار ہونا
حج کے زمانے میں قافلہ کا ایک کارکن شخص خواتین کے ساتھ ، راننما کی حیثیت سے ، دن کے وقت چھت والی گاڑی میں مکہ مکرمہ جاتا ہے ، کیا اس پر کفارہ لازم ہے ؟
جواب :۔ ضرورت کے وقت سایہ میں جانا جائز ہے ، لیکن کفارہ ہے اوراس کا کفارہ ہر احرام کے لئے ایک بھیڑ( بکری) ہے یعنی مکمل عمرہ کے احرام کے لئے ایک بھیڑ اور مکمل حج کے احرام کے لئے بھی ایک بھیڑ کافی ہے ۔
شوہر کا مستحب اعمال بجالانے سے منع کردینا
اگر زیارہ مستحب کام انجام دینے کی وجہ سے کوئی خاتون اس قدر تھک کر چور ہو جائے کہ شوہر، ضروری لذّت اس سے حاصل نہ کرسکے، کیا شوہر اسکو ایسے مستحب اعمال کرنے پر عمل کرنے سے منع کر سکتا ہے، اور آیا اِن جگہوں پر شوہر کی اطاعت کرنا واجب ہے ؟
جواب:۔شوہر اس کو روک نہیں سکتا مگر یہ کہ کلی طور پر لذّت حاصل کرنا ، ختم ہوجائے، اس صورت میں چونکہ شوہر کے حق سے ٹکراؤ ہوگیا ہے لہذا زوجہ شوہر کی اجازت کے بغیر (مستحب) عمل نہیں کرسکتی .
میراث کے حصّہ پر ہبہ کا اثر نہیں ہوتا
کیا حالت حیات میں، ہبہ کردینا، میراث سے محروم ہونے کا باعث ہوگا؟
جواب: جو مال انسان اپنی زندگی میں اپنے وارثوں کو بخشدیتا ہے، وہ مال ترکہ میں سے ان کے محروم ہونے کا باعث نہیں ہوگا ۔
بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان میراث کو برابر تقسیم کرنے کی وصیت
دوسال پہلے میری والدہ محترمہ کا انتقال ہوگیا تھا، جبکہ ان کی اولاد میں سے ہم چار بھائی اور تین بہنیں ہیں، مرحومہ کی میراث میں ایک جگہ ہے جس کی قیمت تقریباً ایک کروڑ تومان ہے ، ہم لوگوں کا ارادہ تھا کہ اس کو فروخت کرکے، سب بہن بھائی اپنا اپنا حصہ لے لیں، لیکن ہماری بہنیں مرحومہ والدہ کی اس مضمون کی تحریر پیش کرتی ہیں کہ میراث تقسیم کرتے وقت میرے بچے، بیٹی اور بیٹے کے حصہ میں کوئی فرق نہ رکھیں اور سب برابر طور پر حصہ وصول کریں ، اب جبکہ ہم سب اپنی ماں کی تحریر کے صحیح ہونے یعنی یہ کہ وہ تحریر ہماری والدہ کی ہے، یقین رکھتے ہیں، لیکن ممکن ہے کہ ہمارے بعض بھائی تہہ دل سے اس بات پر راضی نہ ہوں لہٰذا آپ فرمائیں کہ ہمارا شرعی وظیفہ کیا ہے؟
جواب: اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ ماں کو اپنے مال کے ایک تہائی حصہ میں تصرف کرنے کا حق حاصل تھا، لہٰذا جو کچھ انھوں نے تمھاری بہنوں کے حصّوں کے بارے میں لکھا ہے، اس میں کوئی اشکال نہیں ہے، اس لئے کہ مذکورہ فرق ایک تہائی حصّہ سے کم ہے، لہٰذا اس بناپر ماں کی وصیت کے مطابق عمل کریں ۔
بینک سے بغیر معاہدہ کے فائدہ لینا
ایک شخص کو علم ہے بینک، پیسہ رکھنے پر سود دیتا ہے اسی وجہ سے وہ بینک میں پیسہ رکھتا ہے ، لیکن کوئی بھی تحریری یا زبانی معاہدہ نہیں کرتا ، کیا مذکورہ فائدہ حرام ہے ؟
جواب: اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ بینکوں میں پیسہ، مضاربہ کے عنوان سے رکھا جاتا ہے، اور مضاربہ کے فائدہ میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
چینل اور سلسلہ وار بنانے کی صورت میں قرض الحسنہ سوسائٹی کا قرض دینا
ایک قرض الحسنہ سوسائٹی عوام کو ساتھ سات لاکھ تومان کا قرض دینے کے مقصد سے درج ذیل شرائط کے ساتھ بنائی گئی ہے:۱۔ قرض کے خواہشمند حضرات ، درخواست دیتے وقت مبلغ تین ہزار تومان سوسائٹی کے کارکنان کے محنتانہ کے طور پر، ادا کریں ۔۲۔ درخواست دینے والا ہر آدمی ، قرض کے ضرورتمند تین لوگوں کو آشنا کرائے (یعنی تین ممبر بنائے) اور ان تینوں میں سے بھی ہر آدمی مبلغ تین ہزار تومانمحنتانہ کے طور پر اداکرے ۔۳۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے یہاں تک کہ درخواست دینے والا پہلا شخص، ساتویں نمبر پر پہونچ جائے ، تب اس صورت میں وہ شخص قرض لینے کے لئے اقدامات کرسکتا ہے ۔۴۔ یہ بتا دینا ضروری ہے کہ قرض الحسنہ سوسائٹی، مذکورہ محنتانہ کے علاوہ قرض لینے والوں سے مزید اور کوئی فائدہ وصول نہیں کرتی۔شریعت کی رو سے مذکورہ اقتصادی کاموں کا حکم کیا ہے؟
یہ کام حقیقت میں ایک قسم کے جوئے سے مشابہ ہے اور تھوڑا پیچیدہ ہے، افسوس اس کی اصل جڑ مغری دنیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پہلے مرحلہ میں ساٹھ لاکھ سے زیادہ رقم، محنتانہ طور پر وصول کی جاتی ہے، اور ساتھ لاکھ قرض دیا جاتا ہے جبکہ وہ بھی واپس کمیٹی کی جیب میں چلا جاتا ہے، محنتانہ ان لوگوں کی زحمتوں کا منصفانہ حق ہوتا ہے جو اس ادارے میں کوئی کام انجام دیتے ہیں، جسے اُن کے کام کی مقدار کے مطابق، اجرت کے طور پر انھیں دیا جانا چاہیے اور ایک ہی مرحلہ میں ساٹھ لاکھ تومان کی کثیر رقم کو محنتانہ کا نام دینا ایک قسم کا دھوکہ وفریب ہے، یقیناً آپ حضرات اس ناجائز کام میں ملوث ہونے کے لئے تیار نہیں ہوں گے ۔
ایسے شخص کو اجیر (نائب )بنا ناحس کی قرائت صحیح نہ ہو
جس شخص کی نماز کچھ زیادہ صحیح نہیں ہے اگر اپنے لئے یا دوسرے کی نیابت میں حج کرنے جائے کیا نماز طواف ادا کرنے کے لئے دوسرے شخص کو نائب بنا سکتا ہے ؟
جواب :۔ اپنے حج کے متعلق جس قدر توانائی رکھا ہے خود انجام دے اور جس قدر بھی ہو سکے نماز کی قرائت کی اصلاح کرنے کی کو شش کرے لیکن اگر اس کی قرائت صحیح نہیں ہے تو دوسرے کا نائب بنے میں اشکال ہے ۔
مسجد بنانے کے لئے پڑوسیوں کی رضایت
کیا مسجد بنانے میں پڑوسیوں کی رضا ( اجازت) شرط ہے ؟
جواب: پڑوسیوں کا راضی ہونا شرط نہیں ہے ، لیکن ان کے لئے زحمت ایجاد نہیں ہونا چاہئیے ، مثال کے طور پر مسجد کے لاوٴڈاسپیکر ، یامسجد کے آس پاس گاڑیوں کی پارکنگ کے ذریعہ پڑوسیوں کو زحمت نہیں دینا چاہئیے ۔
پھانسی کے طریقہ کا بدلنا
اگر کسی آدمی کو لواط کے جرم میں، فقہ میں مذکورہ کوئی بھی سزا ہوگئی ہے، کیا اس صورت میں، اس کو پھانسی کے تختہ یا گولی مار کر قتل کیا جاسکتا ہے؟
اگر مصلحت تقاضا کرے تب، قتل کی نوعیت کو تبدیل کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
اس جگہ پر امام بارگاہ بنانا جس کے موقوفہ ہونے میں شک ہو۔
گاوٴں کے کنارے ، ایک قدیمی مسجد کے دروازے کے قریب کچھ بنجر زمین پڑی ہے جس سے کوئی استفادہ نہیں کیا جاتا تقریبا ً۳۰ سال پہلے ، بچوں کے چند جنازے وہاں پر دفن کر دئے گئے تھے جبکہ اس زمین کے موقوفہ ہونے پرکوئی سند موجود نہیں ہے لہٰذا انجمن” محبان چہادہ معصومین علیہم السلام “ نے بستی والوں کی رضایت سے ، یہ عزم کیا ہے کہ اس زمین کا حصارکر کے وہاں پر امام باڑہ بنائیں اور قدیمی مسجد کی جو تقریباً گرنے والی ہے ، مرمت کرائیں اور اس کو وسعت دیں ، کیا شریعت کی رو سے یہ کام جائز ہے ؟
جواب:۔ اگر اس زمین کے موقوفہ ہونے پر کوئی سند موجود نہیں ہے نیز امام باڑہ بنانا، نبش قبر کا باعث نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔

