سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

ایسے بینک میں کام کرنا جس کے معاملات فرضی ہوں

میں جنابعالی کا مقلِّد ہوں اور ایک بینک میں کام کرتا ہوں ، افسوس کہ سن ۱۳۷۳ ھ ش کے بعد بینکوں کے سود لینے اور کھاتے میں باقی ماندہ رقم کی بنیاد پر سہولیتیں فراہم کرنے سیایت سبب ہوئی کہ عقود اسلامی پر نظارت نہ ہو ۔ لہذا بہت سے معاملات عمداً یا سہواً با اطلاع یا بغیر اطلاع خانہ پُری کے عنوان سے انجام پاتےہیں ، اور اس کا وضعی اثر ہماری زندگی میں نمایاں ہے ۔ اب اس وقت کہ جب میں جنابعالی کو خط لکھ رہا ہوں مجھے یقین ہے بینکوں کی آمدنی حلال اور حرام سے مخلوط ہے اور ہماری تنخواہ بھی انھیں سہولتوں سے دی جاتی ہے ۔ اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ میرے نزدیک کوئی بھی چیز رضائے پروردگار سے مہم نہیں ہے ، یہاں تک کہ میں اس تخواہ لینے سے بھی کراہت رکھتا ہوں اور ملازمت کو باقی رکھنے پر آمادہ نہیں ہوں ، لہٰذا میرے دوسوالوں کے جواب عنایت فرمائیں۔۱۔ کیا یہ صحیح ہے کہ میں ان حالات میں اپنی ملازمت کو باقی رکھوں ؟۲۔ ان سوسائٹیوں میں کام کرنے کا کیا حکم ہے جو بینکوں کی نظارت میں ہیں اور ان کا خرچ کسی دوسری جگہ مہیّا ہوتا ہے ؟

جواب: بینک کے اس شعبے میں کام کرنا کہ جو عقود کی خانہ پری کے عنوان سے سود لیتے ہیں ، جائز نہیں ہے ؛ لیکن دوسرے شعبوں میں کام کرنے میں اشکال نہیں ہے اور آپ کی تنخواہ اگر حلال کام کے عوض میں ہے اور آپ کو اس کے عیناً حرام ہونے بھی یقین نہ ہے تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

ضرورت کے وقت نبش قبر کا جائز ہونا

ایک مومن کی قبر کے پاس ، بیت الخلاء بنادیئے ہیں جس کی وجہ سے ، قرآن کا ایک سورہ بھی وہاں پر پڑھنا ،ممکن نہیں رہاہے ، مربوطہ عہدہداران اور ذمہ داران سے بیت الخلاء دوسری جگہ منتقل کرنے کے سلسلے میں رجوع کیا گیا جو موٴثر واقع نہیں ہوا ، کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ کہ قبر کو کھول کر میت کو دوسری جگہ منتقل کردیں ؟

ان پر زور ڈالئے کہ بیت الخلاء کو دوسری جگہ منتقل کریں اور ان ذمہ داران و عہدہ داران کو بتائیے کہ یہ کام شرعاً جائز نہیں ہے ، اسلئے کہ یہ موٴمن کی قبر کی توہین ہے اور اگر اس حالت کا باقی رہنا میت کی بے حرمتی کا باعث ہوتو اس کو دوسری جگہ منتقل کرنا جائز ہے ۔

اسلامی قوانین کا عورت اور مرد کے درمیان عدم فرق کے کنویشن سے ٹکراؤ

کنوینشن کے مضمون کو مدنظر رکھتے ہوئے، کیا حضور اس بین الاقوامی معاہدہ کے احکام اسلامی کے ساتھ متعارض مورد کو اس طرح بیان کرسکتے ہیں کہ اس کی جزئی باتوں کو اس طرح سے حذف نہ کریں کہ کنوینشن کی روح یعنی مرد اور عورت کے ہر طرح کے عدم افتراق کے مخالف نہ ہو توکیا اس صورت میں احکام اسلامی کے مخالف موارد کو حذف کرتے ہوئے اس معاہدہ کو قبول کیا جاسکتا ہے؟

اس کنوینشن کا احکام اسلامی کے ساتھ تعارض اس حد تک ہے کہ جس کی احکام اسلامی کے ساتھ تطبیق دینا ممکن نہیں ہے، لیکن بعض موارد میں راہ حل موجود ہیں، البتہ احکام اسلامی کے ساتھ کامل طور سے اس کی تطبیق کی کوئی راہ نہیں ہے، کتنا اچھا ہے کہ دنیا کے مسلمان اپنے مکتب اور مذہب کی حفاظت کی خاطر اس طرح کے معاہدوں کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں اور ان جیسے معاہدوں کے سامنے تسلیم ہونے کی جگہ اسلام کے بزرگ علماء آپس میں ملکر بیٹھیں اور جس چیز پر سب اتفاق اور اجماع ہو اسے بیان کریں اور اختلافی موارد کو مجتہدین کے اوپر چھوڑدیں ۔ اور ہمیشہ کے لئے تہذیبوں اور قوانین کے تھوپنے والوں کی سازش کو اسلام کی ضرورت اور قوانین کے مخالف ہونے کے ذریعہ مایوس کردیں ۔

دسته‌ها: عورتوں کا حق

زنا ہونے کے یقین کی وجہ سے زنا کار کو قتل کردینا

ایک شخص نے اس یقین کے ساتھ کہ اس کے داماد نے اس کی زوجہ (یعنی اپنی خوشدامن) کے ساتھ زنا کیا ہے، عمداً اس کو قتل کردیا ہے، کیا زنا کا جاننا، قتل کا جواز ہے؟ اور کیا قاتل کا یقین واعتقاد، قتل کی نوعیت میں اثر رکھتا ہے اور مقتول کے مہدور الدم (جن کا خون رائگاں اور قصاص نہ ہو) ہونے کے اعتقاد سے ملحق ، موضوع ہے؟

فقط زنا سے واقف ہونا، قتل کرنے کا جواز نہیں ہوسکتا مگر یہ کہ اس کو اپنی زوجہ سے زنا کرتے ہوئے دیکھ لے کہ اس صورت میں اس کا قتل جائز ہے لیکن جب تک عدالت میں ثابت نہ کرے، عمدی قتل شمار ہوگا اور ان موارد میں کہ جہاں ثابت ہوجائے کہ قاتل، مقتول کے مہدور الدم ہونے کا یقین رکھتا تھا اور اسی یقین سے اُسے قتل کردیا ہے، تب یہ قتل، قتل شبہ عمد شمار ہوگا ۔

کفر اور مرتد ہونے کا الزام و تہمت

جو شخص، دوسرے پر کفر والحاد کی تہمت لگاتا ہے اور حاکم شرع کے سامنے اس الزام کو ثابت نہیں کرسکتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟الف) کیا اس طرح کے مورد کو قذف کا مصداق سمجھا جاسکتا ہے؟ب) جواب کے منفی ہونے کی صورت میں، اس کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرنا چاہیے؟ج) چنانچہ وہ شخص، جس پر تہمت لگائی گئی ہے، اپنے حق سے صرف نظر اور درگذر کرے تو کیا اس طرح کا الزام لگانے والے شخص سے، سزا (حد) یا تعزیر ساقط ہوجائے گی؟

الف و ب) قذف فقط دو صورت میں ہوتا ہے: زنا کی تہمت لگانا یا لواط کا الزام لگانا، باقی دوسرے ناجائز الزامات لگانے پر تعزیر (غیر معین سزا) ہے ۔جواب: ج) ظاہر یہی ہے کہ حقدار کے اپنے حق سے درگذر کرنے سے، تعزیر کا حکم جاری نہیں ہوگا، مگر یہ کہ حاکم شرع تشخیص دے کہ اس طرح کے موارد میں، تعزیر ی سزا کو ترک کرنا، معاشرے میں گناہ وفساد کا سبب بنے گا، تب عنوان ثانوی کے اعتبار سے اس کو تعزیر کیا جائے گا ۔

دسته‌ها: تعزیرات
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت