ایسے والدین کی نگہداشت جن کے یہاں بیٹا نہیں ہوتا
کیا ایسے ماں باپ کی خدمت کرنے کی ذمّہ داری کہ جن کے بیٹا نہیں ہے ، ان کی بیٹیوں کے اوپر ہے ؟
جواب:۔ جی ہاں ان کی بیٹیوں کے اوپر ہے جس قدر وہ قدرت رکھتی ہیں .
جواب:۔ جی ہاں ان کی بیٹیوں کے اوپر ہے جس قدر وہ قدرت رکھتی ہیں .
جواب: چنانچہ گواہ، وقف کی گواہی دیں، یا اسی مقام پر اس چیز کا وقف ہونا مشہور ہوگیا ہو تو اس پر وقف کا حکم جاری ہوگا اور وقف کرنے کے لئے صیغہ وقف میں عربی شرط نہیں ہے بلکہ ہر زبان میں جائز ہے، یہاں تک کہ اگر صیغہٴ وقف بھی نہ پڑھے بلکہ وقف کو ان لوگوں کے حوالہ کردے جن کے لئے وقف کیا ہے، تب بھی کافی ہے اور دماغی توازن کا دعویٰ کسی گواہ یا دلیل کے بغیر، قبول نہیں کیا جائے گا۔
جواب:۔ جب کوئی شخص تقصیر کو بھول جائے اور حج کے اعمال انجام دینے چلا جائے ( یعنی احرام باندھے اور عرفات میں چلا جائے ) اس کا عمرہ اور حج صحیح ہے اور اس پر کوئی چیز ( یعنی کفارہ ) نہیں ہے لیکن بہتر ہے کہ کفارہ کے عنوان سے ایک بھیڑ بکری ذبح کرے ۔
جواب: اگر آپ کا سوال یہ ہے کہ چور کئے ہوئے مال کی چوری کی کیا سزا ہے تو جواب یہ ہے کہ اس کام کی کوئی شرعی حد نہیں ہے ، لیکن ےہ کام لوگوں کے اموال میں تصرف کی خاطر تعذیر رکھتا ہے۔
جواب: نذر کرتے وقت اگر کسی خاص عزاخانے کو مدنظر نہیں رکھا تھا تو آپ اس کی رقم کو چند عزاخانوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔
جواب: اس صورت میں جبکہ پانے والا شخص شرعی شرائط کے مطابق اس چیز کو اپنی ملکیت میں لایا ہو، ہر طرح کا تصرف کرنا جائز ہے چاہے وقف عام ہو یا وقف خاص۔
جواب: شوہر کا اقرار، یا شوہر کے اقرار پر شاہدوں کی شہادت، قاضی کے عدم حضور میں بھی زوجہ کو اس مسئلہ میں طلاق کا حق دیتا ہے، مگر یہ کہ معتبر قرائن وشواہد موجود ہوں کہ شوہر کا قصد زوجہ کو تمکین کے اوپر اکسانا تھا ۔
جواب: ان لوگوں کی نظر جنھوں نے پیسے کو وقف خاص کے عنوان سے دیا تھا، انھیں کی نظر کے مطابق عمل کیا جائے۔
جواب: اگر ممکن ہو تو مجلس اور اطعام (کھانا کھلانا) کو مختصر طور پر انجام دیا جائے تاکہ دونوں کام حاصل ہوجائیں اور اگر یہ ممکن نہیں، اس چیز پر عمل کریں جو پہلے ذکر ہوئی ہے۔
جواب : ایسا شخص منحرف اور مستحق تعذیر ہے اور حاکم شرع پر لازم ہے کہ اس کی تھام کرے لیکن موت کا حکم نہیں رکھتا، مگر بعد میں اس پر مفسد فی الارض کا عنوان صادق آجائے۔
مسئلہ کے فرض میں ہمسایہ کی رضایت حاصل کرنا ضروری نہیں ہے ۔
۱، سے۴ تک: بیمہ ایک عقد مستحدثہ (نیا عقد) ہے کہ جو عقلاء کے درمیان رائج ہے اور اگر اس میں عقود کے شرائط موجود ہوں تو اس کے صحیح ہونے میں کوئی اشکال نہیں ہے، اور جس طرح معاہدہ ہوا ہے اسی کے مطابق ہونا چاہیے، اور اشخاص کے حصّے کو فیصد کے حساب سے معیّن کرسکتا ہے نہ کہ ریال کے حساب سے، اور اس کو عہد پر وفا کرنے کی دلیلیں شامل ہیں ۔
جواب : جائز نہیں ہے، مگر ایسے مورد میں جہاں معاشرے کے مہم مسائل خطرہ میں ہوں، یاوہ کسی اور جرم کا مرتکب ہوا ہو، اس صورت میں اس کو بعنوان تعذیر روکا جاسکتا ہے۔
جواب: متولی اور کام کرنے والوں کے مجتہد کا نظریہ، شرط ہے۔