ایسی خاتون سے شادی کرنا جو شریعت کے احکام کی پابند نہیں ہے
کیا ایسی لڑکی سے شادی کرنا جائز ہے جو بظاہر مسلمان ہے لیکن نماز نہیں پڑھتی کافروں سے شادی کرنے کی طرح ہے ؟
یہ شادی جائز ہے لیکن آہستہ آہستہ اس کو واجبات پر عمل کرنےکی دعوت دینا چاہئے ۔
یہ شادی جائز ہے لیکن آہستہ آہستہ اس کو واجبات پر عمل کرنےکی دعوت دینا چاہئے ۔
جواب :الف)مذکورہ تصریح دوسرے مجتہدین کے رسالے پر عمل کرنے سے انکارنہیں کرتی بلکہ ممکن ہے چند جائز التقلید مجتہد ، اجتہاد کے شرایط میں برابر ہوں۔ ہاں اگر کسی کی توضیح المسائل میں یہ لکھا ہوا ہو کہ صرف اسی پر عمل کرنا متعین ہے اور دوسروں کے رسالے پر عمل کرنا جایز نہیں ہے تو اس بات کا مفہوم دوسروں کی نفی کرتا ہے جبکہ میں نے ابھی تک کسی بھی رسالہ کے مقدمہ میں ایسی بات لکھی ہوئی نہیں دیکھی ۔ب) صحیح ہے کہ قدرت بیان کا پایا جانا انسان کی معرفی کا باعث ہے لیکن اگر کوئی شخص بیان کی قدرت نہیں رکھتا جس کے نتیجہ میں اس کا علم لوگوں کے درمیان مجھول رہ جائے اور جستجو کے با وجود بھی اس کا علمی مقام واضح نہ ہوپائے تو ایسی صورت میں لوگوں کی ذمہ داری نہیں ہے کہ اس کو پہنچوائے ، وہ اس خزانہ کے مانند ہے جو پہچانا نہ گیا ہو اور ایسے خزانے کے بارے میں لوگوں کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔
امام زمانہ(علیه السلام) سے ملاقات کی لیاقت کی اصلی شرط عالی درجہ کا تقویٰ ہے ، لیکن کبھی کبھی آپ اسلام اورمسلمین کی مصلحت کی خاطر اپنے نورانی چہرے کی غیرلائق حتّیٰ کہ غیر شیعہ اور غیر مسلمان افراد کو بھی زیارت کرادیتے ہیں ۔
ا ۔ سے آخر تک: وہ میوزک اور گانے جو لہو ولعب کی تقریب کے مناسب ہوتے ہیںوہ سب حرام ہیں اور اس کے علاوہ جائز ہیں، نیز اس قسم کے گانے بجانے میں، مرد یا عورت کے درمیان کوئی فرق نیہں ہے اب رہا عورتوں کے لئے جائز گانے کا سوال تو وہ اس صورت میں جائز ہے کہ جب تقریب خواتین سے مخصوص ہو (یعنی اگر کوئی مرد اس میں شریک نہ ہو) اب چاہے وہ مل کر گائیں یا تنہا ایک عورت گائے ، لیکن عزیز القدر جوان متوجہ رہیں کہ مغربی دنیا کی تہذیب کے سیلاب سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے، اپنے دینی احکام کو ان کی تہذیب کے مطابق ڈھالنے کا تصور نہیں کرنا چاہیے اور اس لئے کہ مغربی تہذیب، جوانوں کو آہستہ آہستہ شہوت پرست اور اس کا مکمل غلام بنادیتی ہے، ان کو اندر سے کھوکھلا کردیتی ہے اور اس طرح ان کی خواہشات کی راہ میں آنے والی ہر قسم کی رکاوٹ کو ختم کردیتی ہے ۔
جواب: جب اس کو یقین ہو جائے کہ وہ گوسفند تلف ہوگئی ہے یا کسی اور شخص کو فرخت کر دی گئی ہے جو اس کی دسترس سے باہر ہے ، تو اس موجودہ حالت میں اس پر کوئی وظیفہ نہیں ہے ، اسے چاہیئے کہ اپنے س فعل سے واقعی طور پر توبہ کرے اور کلی طور پر اپنے ماضی سے الگ ہو جائے ،اس کے بعد جب بھی ،اس کے اندر خد ا ترسی اور عدالت کا ملکہ حاصل ہو جائے تو امام جماعت بن سکتاہے ،اور اگر احتمال دیتاہے کہ ابھی بھی وہ بھیڑ اس گلہ میں موجود ہے تو قرعہ کشی کرے ،اس ترتیب کے ساتھ کہ بھیڑوں کو دو حصوں میں تقسیم کرے ،اور ان پر قرعہ ڈالے پھر دوبارہ جدھر قرعہ نکلے ان بھیڑوں کو دو حصوں میں تقسیم کرے اور پھر قرعہ ڈالے یہاں تک کہ آخر کا ر ایک بھیڑ بچ جائے ، تب اس کو ذبح کرے گا اور اس کے گوشت کو جلا دے گا ،اور اگر اس کی ذاتی بھیڑ نہیں ہے تو اس کے مالک سے خریدے مگر یہ کہ یہ کام مہم مشکلات اور مہم مخدور و اشکالات کا باعث ہو
دو صورتوں میں ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی ، ایک یہ کہ شادی کرے اور دخول بھی کرے اگرچہ جہل اور نادانی کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو ، دوسرے یہ کہ مسئلہ جانتے ہوئے شادی کرے اگر دخول نہ بھی کرے ۔
جواب:۔بالغ ہونے تک بچہ کی حفاظت و پرورش کے سلسلہ میں، دادا کے اوپر بچہ کی ماں مقدم ہے، حتیٰ شادی کرنے کی صورت میں بھی، لیکن بچہ کے مال پر ولایت کے سلسلہ میں، حق ، دادا کے ساتھ ہے اور بچہ کے مال پر، ماں کی کوئی ولایت نہیں ہے .
نہی عن المنکر کریں اور اگر قبول نہ کرے تو ٹیکسی سے اُتر جائیں مگر یہ کہ ایسا کرنا شدید مشقت کا باعث ہو ۔
کامل طور سے اس کا امکان ہے؛ بشرطیکہ اس کے مضمون میں زیادہ دقّت سے کام لیا جائے ۔
یہ کام عورتوں کے شایان شان اور ان کی شخصیت کے لئے مناسب نہیں ہے ۔
اس کے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں ، دوسی بیوی کےلئے محرم ہوں گے اس لئے کہ باپ کی بیوی اور دادا کی بیوی محرم ہیں ۔
اس طرح کے موقع پر یونیورسٹی یا ادارے کے ذمہ دار اشخاص سے مل کر اس قسم کی مشکلات کو دور کرنا چاہیے تاکہ طلباء کو کوئی مشکل پیش نہ آئے اور اساتذہ اپنے وظیفہ پر عمل کریں ۔
جواب : احتیاط ایسا کرنے میں ہے کہ معمول کے مطابق بسم اللہ دہراتا رہے۔
جواب : ہر تیز دھار والی دھات سے جائز ہے ۔