سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

زوجہ کا نفقہ نقد رقم میں ادا کرنا

کیا شوہر کے اوپر لازم ہے کہ اپنی بیوی کے ماہانہ یا روزانہ کے اخراجات کیلئے رقم ادا کرے اور واجب ہونے کی صورت میں شوہر کو (مذکورہ) رقم خرچ کرنے کیلئے اسکا مصرف معین کرنے کا حق ہے ؟

جواب:۔کوئی حرج نہیں کہ نان نفقہ فراہم کرنے کیلئے شوہر اپنی زوجہ کو اپنا وکیل بنادے اور زوجہ پر لازم ہے کہ اس شرط کے مطابق عمل کرے یہ اس صورت میں ہے کہ جب نان و نفقہ فراہم کرنے کیلئے شوہر اپنی زوجہ کو وکالت دیدے لیکن اگر نفقہ کے حق کو خود اُسی پر چھوڑ دے تو زوجہ اس کے مصرف کے سلسلے میں مختار ہے .

دسته‌ها: نفقه

عقد متعہ کی عِدّت کے دوران ، زنا

عقد متعہ کی عدت کے دوران ، زنا کا کیا حکم ہے ؟ کیا ہمیشگی حرام کا باعث ہے ؟ اس سلسلے میں امام خمینی (رہ) کا کیا فتویٰ ہے ؟

عقد متعہ کی عدت کے دوران ، زنا مسلما ً حرام ہے ، لیکن اس عورت کے ہمیشہ کے لئے حرام ہونے کا باعث نہیں ہے ، اور تحریر الوسیلہ اور توضیح المسائل میں امام خمینی (رہ) کا فتوی ٰ بھی یہی ہے ۔

مسجد میں نعرے لگانا۔

مسجدوں میں مذہبی جیسے نعرہٴ حیدری لگانا جیسا کہ پاکستان کی بعض مسجدوں میں رائج ہے ، کیا یہ عمل ، مکروہ ہے ؟

جواب: ایسے نعرے لگانے میں کوئی حرج نہیں ، جن کا مضمون صحیح اور مذہبی ہو لیکن شرط یہ ہے کہ نماز یوں کے لئے مزاحمت ایجاد نہ کریں نیزوہ نعر ے ایسی آوازوں پرمشتمل نہ ہوں جن سے مسجدوں کی توہین ہوتی ہے ۔

دسته‌ها: مسجد کے احکام

دیت اور قصاص میں شوہر /بیوی کا حصّہ

اس جملے میں "میاں یا بیوی کو قصاص کا حق نہیں ہے" مگر یہ کہ قصاص کا دیت سے مصالحہ کرلیں " مصالحہ سے کیا مراد ہے ؟

جواب: اس سے مراد یہ ہے کہ مقتول کے وارثین قاتل سے سمجھو تاکریں کہ وہ قصاص کی جگہ دیت لے لیں گے ؛ اس صورت میں میاں اور بیوی دونوں شریک ہونگے۔

اس زرتشت (آتش پرست) کی عدّت جو مسلمان ہوگئی ہے

یہ بات مدّنظر رکھتے ہوئے کہ مجھے اسلام قبول کئے ہوئے دوسال ہوگئے ہیں اور اپنے زرتشتی (آتشت پرست) شوہر سے جدا ہوئے بھی چھ مہینہ کا عرصہ گذر گیا ہے، میرے عدّت رکھنے کی کیا کیفیت ہوگی ؟

جواب:۔ چنانچہ آپ کواسلام قبول کئے ہوئے دو سال ہوگئے ہیں، تو آپ کے اسلام قبول کرنے کے وقت سے ہی، آپ کی عدّت شروع ہوگئی ہے اور اگرآپ کے شوہر اس بات سے آگاہ تھے اور آپ کی عدّت کے دوران انہوں نے اسلام کو قبول نہیں کیا ہے، تو آپ کی عدّت ختم اور آپ شوہر سے جدا ہوگئی ہیں اور طلاق کی بھی ضرورت نہیں ہے .

دسته‌ها: عدت کے احکام
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت