سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

حاملہ عورت کی تعزیر اور حد

اگر کسی بیمار کے اوپر حد (سزا) ثابت اور واجب ہوجائےکیا اس صورت میں اسّی (۸۰) باریک لکڑیوں کو ایک ساتھ ملاکر ایک مرتبہ میں اس بیمار کے بدن پر ماری جاسکتی ہیں؟ جواب کے مثبت ہونے کی صورت میں کیا تعزیر (غیر معیّن سزا) کا بھی یہی حکم ہے؟ اس تمہید کو پیش نظر رکھتے ہوئے درج ذیل سوال کا جواب مرحمت فرمائیں: کسی خاتون نے شادی سے پہلے کے زمانے میں کوئی ایسا کام کیا تھا جس کا حکم تعزیر تھا اور اب شادی کے بعد جبکہ وہ حاملہ ہوگئی ہے اور اس کا شوہر بھی اُس کے اس کام (جرم) سے آگاہ نہیں تھا، اس کا جرم ثابت ہوگیا ہے، لہٰذا یہ ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اس وقت وہ بیمار ہے اور حاملہ ہے نیز یہ کہ اگر اسے تعزیر اور سزا دی جائے تو اس کے شوہر کو پتہ چل جائے گا اور ممکن ہے اُسے طلاق دیدے یا دیگر مشکلات پیش آئیں، کیا اس صورتحال میں تیس (۳۰) باریک لکڑیاں ایک ساتھ ملاکر تعزیر کے عنوان سے ایک مرتبہ میں اس کے بدن پر ماری جاسکتی ہیں؟

بیمار کے سلسلہ میں تو، حد (سزا) کی تعداد کے مطابق لکڑیوں کو ایک ساتھ ملاکر ایک بار ہی اس کے بدن پر ماری جاسکتی ہیں لیکن حاملہ عورت کو وضع حمل کے بعد سزا دی جائے گی، البتہ تعزیر (غیر معین سزا) کی صورت میں چند کوڑوں پر اکتفا کی جاسکتی ہے اور تعزیر کوڑوں کی سزا ہی میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس طرح کے موقعوں پر سرزنش کرنے یا نصیحت کرنے پر بھی اکتفا کی جاسکتی ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کے اس میں نصیحت وغیرہ کے اثر کرنے کی امید ہو ۔

اگر میت کے وارثوں میں، شوہر ، باپ ، ماں اور ایک بیٹی ہو

جناب احمد نے ایک خاتون، فاطمہ سے شادی کی، مہر دس لاکھ تومان معیّن ہوا، جس میں دو لاکھ تومان، نقد ادا کردیا گیا اور باقی آٹھ لاکھ تومان کا چیک، احمد نے فاطمہ کے نام لکھ دیا اور چند شرائط کے تحت، میرے پاس امانت کے طور پر رکھ دیا، جو میرے پاس موجود ہے، وہ خاتون یعنی فاطمہ کچھ عرصہ بعد، دنیا سے گذر جاتی ہے، اس مرحومہ کی پہلے شوہر سے (جو ابھی زندہ ہے) ایک بیٹی ہے جو اپنے نانا کے ساتھ رہتی ہے، مرحومہ کے والد نے تجویز پیش کی ہے جناب احمد کا چیک جو مرحومہ کے نام ہے، وہ انہی کو واپس کردیا جائے، یہ یاددہانی بھی ضرور ی ہے کہ مرحومہ فاطمہ کے والدین باحیات ہیں نیز مرحومہ کے کچھ بہن بھائی بھی موجود ہیں، یہ تمہید مدنظر رکھتے ہوئے درج ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیں:الف) اس مرحومہ کے وارث کون ہیں؟ب) مذکورہ چیک کی رقم میں سے، مرحومہ کی بیٹی کا حصّہ کس قدر ہے، جو اپنے نانا کے پاس رہتی ہے؟ج) کیا میں شرعی طور پر مذکورہ چیک کو مرحومہ کے والد کے حوالہ کرسکتا ہوں تاکہ وہ مرحومہ کے شوہر (احمد) کو بخش دیں یا نہیں؟د) شریعت کی رو سے، میرے اختیار میں چیک ہونے اور اس میں ان کے تحریر کردہ شرائط نیز اس سلسلہ میں میرے قاضی ہونے کے متعلق، میرا کیا وظیفہ ہے؟

جواب: الف) اس کے وارث، شوہر، باپ، ماں اور ایک بیٹی ہے (البتہ اگر دوسری کوئی اولاد نہ ہو) اس کے شوہر (احمد) کا حصّہ ایک چوتھائی، والدین میں سے ہر ایک کا چھٹا حصّہ اور باقی یعنی چھ حصوں سے، ڈھائی حصّے، بیٹی کے ہیں جو اسے ملیں گے ۔جواب: ب وج) مذکورہ چیک کی رقم تمام وارثوں سے متعلق ہے اور ان کے والد فقط اپنا حصہ بخش سکتے ہیں اور جبکہ آپ کسی خاص شخص (وارث) کے حوالہ، چیک نہیں کرسکتے ہیں لہٰذا سب کے اختیار میں دیدیں ۔جواب: د) آپ کے لئے تمام وارثوں کو اطلاع دینا ضروری ہے تاکہ وہ خود جمع ہوکر چیک کی وضعیت کو روشن کریں ۔

طلاق رجعی (پہلی اور دوسری طلاق جس میں شوہر کو رجوع کرنے کا حق ہوتا ہے) میں مطلّقہ بیوی کا شوہر کے گھر میں رہنا

طلاق رجعی کہ جس میں، زوجہ کو اس گھر سے، جس میں شوہر کے ساتھ زندگی بسر کررہی تھی ،نکلنا نہیں چاہیےٴ، اور شوہر کو، جب تک زوجہ مطلقہ عدّت میں ہے، گھر سے باہر نکالنے کا حق نہیں ہے، یہ منع کرنا کس کا وظیفہ ہے ؟زوجین کا یا اس دفتر کا جس میں طلاق، ثبت ہوتی ہے، یاطلاق پڑھنے والے کا یا پھر عدالت کا کہ جہاں سے طلاق کی اجازت ملتی ہے، اور اگر صیغہ طلاق کے جاری کرتے وقت شوہر اور زوجہ ایک دوسرے سے جدا زندگی گذارتے ہوں، یا اجنبی شہر میں طلاق دی جائے اور میاں بیوی ایک جگہ کے رہنے والے نہ ہوں تو کیا وظیفہ ہے ؟

جواب:۔قرآن مجید کی آیہٴ شریفہ اور دیگر تمام دلیلوں کے مطابق، یہ نہی زوجین کا وظیفہ ہے: لیکن عدالت یا شادی و طلاق کا دفتر، امر بالمعروف اور جاہل کی راہنمائی کے مسئلہ کے مطابق، انہیں اس حکم کے بارے میں ، آگاہ کرتے ہیں ، اور دونوں کی رہائش کے جدا ہونے کی صورت میں ، چنانچہ دونوں کی رضایت سے ہو، اور ان دونوں کے جدا جدا رہنے کا مطلب ، آپس میں ناراضگی نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے .

دسته‌ها: طلاق رجعی

مرد میں مقاربت کی صلاحیت نہ ہونا

اگر کوئی شخص شادی سے پہلے ہی مجا معت کرنے سے عاجز ہو اور رخصتی کے بعدد لہن سمجھ جائے اور فوراً عقد نکاح کو فسخ (توڑ) کر کے شوہرسے جدا ہوجائے تو کیا اس صورت میں وہ خاتون بغیر طلاق کے دوسری شادی کرسکتی ہے ؟

ایسے موارد میں ، عورت کو حاکم شرع کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور حاکم شرع مرد کو ایک سال کی مہلت دے گا ، اگر علاج ہوگیا تو ، شادی باقی رہے گی ورنہ عورت نکاح کو فسخ کرسکتی ہے ، اور طلاق کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، لیکن اگر فسخ کرنے کے بعد مردٹھیک ہوجاتاہے تو دوبارہ عورت کی طرف رجوع کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے مگر نئے عقد کے ذریعہ ۔

پہلے شوہر کی بیٹی کا دوسرے شوہر کے والد کیلئے محرم ہونا

ایک شخص ایک شہید کی بیوہ سے جس کی ایک بیٹی ہے ، شادی کرلیتا ہے ، کیا وہ بیٹی اس شخص کے دادا کے لئے محرم ہے ، اگر محرم نہیں ہے تو محرم ہونے کا کیا طریقہ ہے ؟

نامحرم ہے ، لیکن اگر اس کے دادا کا دوسرا بیٹا ہو تو اس لڑکی سے اس کا شرعی صیغہ پڑھے تو اس کی بہو کے حکم میں ہوجائے گی ، اور اس کے لئے محرم ہوجائیگی ۔

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت