ممدوح اور مذموم طنز کا معیار
طنز اور تنقید مذموم اور طنز، مزاح اور تنقید ممحدوح کی جدائی کا معیار کیا ہے؟
اس کا معیار شرعی موازین کی رعایت، اور حلال کو حرام سے جدا کرنا ہے ۔
اس کا معیار شرعی موازین کی رعایت، اور حلال کو حرام سے جدا کرنا ہے ۔
جواب:۔ شادی کرنے کی صورت میں ، بچے کی سرپرستی کا حق (حضانت) ساقط ہو جاتا ہے، خواہ نکاح دائم کرے یا نکاح متعہ، مگر یہ کہ نکاح متعہ کی مدّت بہت کم ہو تو اس صورت میں ساقط نہیں ہوگا اور دوسرے شوہر سے طلاق لے لے تب بھی حضانت (سرپرستی) کا حق واپس نہیں آئے گا اگر چہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس سلسلہ میں شوہر، بیوی رضایت دیں اور مصالحت کریں .
جواب :جب اس جانور تک پہونچنے اور ذبح کرنے کے لئے وقت کافی نہ ہو اور گولی نے اس کے بد ن کو زخمی کر دیا ہو اور اس سے خون نکل گیا ہو اس صورت میں حلال ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کہ تمام شرائط جیسے شکار کرتے وقت اللہ کا نام لینا، شکار کرنے والے شخص کا مسلمان ہونا ، بھی اس میں موجود ہیں اور اگر اس جانور کو ذبح کرنے کے لئے وقت تھا اور ذبح کرنے میں کوتاہی کرے تو اس صورت میں حرام ہے ۔
اس طرح کے مورد میں صغیر کی مصلحت دیت لینے میں ہے؛ جتنی مقدار پر بھی مجرم راضی ہوجائے۔
جواب:۔قرآن مجید کی آیہٴ شریفہ اور دیگر تمام دلیلوں کے مطابق، یہ نہی زوجین کا وظیفہ ہے: لیکن عدالت یا شادی و طلاق کا دفتر، امر بالمعروف اور جاہل کی راہنمائی کے مسئلہ کے مطابق، انہیں اس حکم کے بارے میں ، آگاہ کرتے ہیں ، اور دونوں کی رہائش کے جدا ہونے کی صورت میں ، چنانچہ دونوں کی رضایت سے ہو، اور ان دونوں کے جدا جدا رہنے کا مطلب ، آپس میں ناراضگی نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے .
جواب: الف) اس کے وارث، شوہر، باپ، ماں اور ایک بیٹی ہے (البتہ اگر دوسری کوئی اولاد نہ ہو) اس کے شوہر (احمد) کا حصّہ ایک چوتھائی، والدین میں سے ہر ایک کا چھٹا حصّہ اور باقی یعنی چھ حصوں سے، ڈھائی حصّے، بیٹی کے ہیں جو اسے ملیں گے ۔جواب: ب وج) مذکورہ چیک کی رقم تمام وارثوں سے متعلق ہے اور ان کے والد فقط اپنا حصہ بخش سکتے ہیں اور جبکہ آپ کسی خاص شخص (وارث) کے حوالہ، چیک نہیں کرسکتے ہیں لہٰذا سب کے اختیار میں دیدیں ۔جواب: د) آپ کے لئے تمام وارثوں کو اطلاع دینا ضروری ہے تاکہ وہ خود جمع ہوکر چیک کی وضعیت کو روشن کریں ۔
ایسے موارد میں ، عورت کو حاکم شرع کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور حاکم شرع مرد کو ایک سال کی مہلت دے گا ، اگر علاج ہوگیا تو ، شادی باقی رہے گی ورنہ عورت نکاح کو فسخ کرسکتی ہے ، اور طلاق کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، لیکن اگر فسخ کرنے کے بعد مردٹھیک ہوجاتاہے تو دوبارہ عورت کی طرف رجوع کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے مگر نئے عقد کے ذریعہ ۔
جواب:۔اگر آپ نے اس کے باپ (دادا) سے معاہدہ کیے بغیر خود اپنی جانب سے اس بچّہ کا خرچ دیا ہے تو آپ ان سے مطالبہ نہیں کرسکتے لیکن اگر اس کے باپ کی خواہش یااجازت سے یہ کام انجام دیا ہے تو نفقہ کا مطالبہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے .
جواب: والد کی میراث میں سے (ان کے ساتھ میں مرنے والے) بچوں کا حصہ لیکر ان کے وارثوں کو دیا جائے گا اور باقی حصہ دوسرے وارثوں کو دیا جائے گا ۔
١ و ٢ لوگوں کے خصوصی مسائل کے بارے میں تجسس کرنا جائز نہیں ہے ، لیکن اگر وہ فساد کا مرکز ہو یا ضرورت اس بات کا اقتضاء کرتی ہو ۔
ہم نے اس موضوع کی بحث میں کہا ہے کہ یہ روایتیں ہمارے زمانے کو شامل نہیں ہیں اور اس کی دلیلیں ”کتاب قواعد فقہیہ“ کی تقیہ کی بحث کے آخر میں بیان کی ہیں-
نامحرم ہے ، لیکن اگر اس کے دادا کا دوسرا بیٹا ہو تو اس لڑکی سے اس کا شرعی صیغہ پڑھے تو اس کی بہو کے حکم میں ہوجائے گی ، اور اس کے لئے محرم ہوجائیگی ۔
جواب:۔جن چیزوں کی واقعاً ضرورت ہے اور شوہر انہیں فراہم کرنے پر قادر ہے تو اس پر لازم ہے .
اس کے معنا یہ ہیں کہ اسان جان بوچھ کر خود کو ضرر اور نقصان ہچانے کے لیے کوئی کام انجام دے۔ مثلا وہ جانتا ہے کہ اس چیز کی قیمت ہزار روپیے نہیں ہے مگر کسی لحاظ میں اسے ہزار روپیے میں خرید لے۔