سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

مالک کی مالکیت پر کرایہ دار کا دعویٰ

سولہ سال پہلے ایک شخص کو ایک دکان کرایہ پر دی گئی تھی اور ہرسال کرایہ کی مدت تمام ہونے سے پہلے دوبارہ اسی کو دے دی جاتی رہی، تین سال پہلے دکان کی مالکہ کا انتقال ہوگیا جبکہ اس دکان کے موجودہ مالک تین اشخاص ہیں، اس میں ایک تہائی مرحومہ کا حق ہوتا ہے، مرحومہ کے انتقال کے بعد اس کے وصی اور وارثوں نے دکان کے کرایہ کی دوباہر تجدید کردی ہے لیکن اب فی الحال وارثوں نے دکان کے کرائے کی درخواست کی، کرایہ دار کہتا ہے: ”میںدکان کو خالی کردوں گا لیکن ممکن ہے اس میں میرے بچوں کا بھی حق ہو، کہ اگر وہ حق مالکوں کو بخشدوں تو میں ذمہ دار رہوں“ برائے مہربانی درج ذیل دوسوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:الف) کیا اس کا یہ دعویٰ صحیح ہے؟ب) اگر اس کرایہ دار کا حق ہو اور وہ اپنا حق بخشدے تو کیا اس صورت میں اس کے بچّے دعویٰ کرسکتے ہیں؟

جواب: اگر کرایہ دار نے پگڑی نہیں دی ہے تو اسے کوئی حق نہیں ہے اور کرایہ کی مدت ختم ہونے کے بعد اُسے چاہیے کہ دکان کو خالی کردے، لیکن بہتر یہ ہے کہ عام رواج کے مطابق جو دکاندار اور اس پیشہ کا حق شمار ہوتا ہے اس کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ مصالحت کریں ۔جواب: اگر اس کا حق ہو اور وہ بخشدے تب اس کے بچّے کوئی دعویٰ نہیں کرسکتے ۔

مضاربہ ( شراکت) کے منافع کے بارے میں مصالحت کرنا

عقد مضاربہ اور اسی طرح کے دیگر عقد و معاہدہ میں کام کرنے والے یا سرمایہ دار کے لئے جو فیصدی منافع معین کیا گیا ہے کیا اس منافع کو رقم کی معین مقدار میں صلح کی جاسکتی ہے ؟

اگر حاصل شدہ منافع اور اس کی مقدار مبہم( نامعلوم ) ہے تو اس صورت میں صلح کرنے میںکوئی اشکال نہیں ہے لیکن منافع کے ظاہر ہونے سے پہلے صلح کرنا جائز نہیں ہے۔

سوتیلے ماں باپ سے میراث کا نہ ملنا

ایک چند بچوں کی بیوہ خاتون دوسری شادی کرلیتی ہے ، کچھ مدت کے بعد یہ شوہر بھی فوت ہوجاتا ہے، اس شوہر کے مال میں ، مذکورہ خاتون کے بچوں کی میراث کا کیا طریقہ ہے؟ مسئلہ کے برعکس صورت میں آیا ورثہ اپنی سوتیلی ماں سے میراث حاصل کرسکتے ہیں؟

جواب: بیوی کی اولاد اپنی ماں کے شوہر سے میراث نہیں پائیں گے اور نہ شوہر اپنی بیوی کی اولاد سے، ایسے ہی اس کے برعکس مسئلہ میں یعنی شوہر کے بچے بھی اپنی سوتیلی ماں سے میراث نہیں پائیں گے۔

دسته‌ها: مختلف مسایل

زنا کی حد کے مورد میں قانون دفعہ ۶۶، اور ۶۳ کی وضاحت

اسلامی قانون کے دفعہ کے ۶۳ میں اس طرح آیا ہے : ”زنا عبار ت ہے مرد کا اس عورت کے ساتھ جماع کرنا جو اس پر ذاتاً حرام ہے“ کبھی کبھی اس جملے سے یہ استفادہ ہوتا ہے: چنانچہ عورت اور مرد کے درمیان ازدواجی تعلقات ذاتاً حرام نہ ہوں تو یہ زنا حرمت نہیں رکھتا اور جب حرمت نہیں ہوگی تو سنگسار یاکوڑے لگانا ان کے شامل حال نہیں ہوگا“ اسی قانون کی دفعہ ۶۶ میں اس طرح آیا ہے: ”جب کوئی عورت اور مرد مجامعت کے بعد ناآگاہی اور اشتباہ کا دعوا کریں اور مدعی کے سچا ہونے کا احتمال دیا جاسکے، اس صورت میں مذکورہ دعویٰ بغیر قسم کے قبول اور حد ساقط ہوجائے گی“ آخری جملوں کا مفہوم مخالف یہ ہوگا ”اس صورت میں جب مدعی کی سچائی کا احتمال نہ دیا جاسکے، مدعی اس بات پر قسم کھاکر کہ وہ بھول اور لا علمی کا شکار ہوا ہے، اپنے آپ کو حد کے اجرا سے نجات دے سکتا ہے“ کیا وہ ”کلمات جو مادّہ اخیر میں آئے جیسے“ اشتباہ وناآگاہی“ ان کلمات سے اشتباہ حکمی اور اشتباہ موضوعی دونوں مراد ہیں یا فقط اشتباہ موضوعی مقصود ہے؟ بقیہ مذکورہ موارد کو بھی واضح فرمائیں۔

جواب: ”ذاتاً حرام ہے“ اس جملے سے مقصود اس مورد کو خارج کرنا ہے جو بالعرض حرام ہو، مثلاً عورت حیض کی حالت میں، یا رمضان المبارک کے دنوں میں حرام ہوجاتی ہے، یہ حرمت ذاتی نہیں ہے، لہٰذا اس کے ساتھ ہمبستری زنا میں شمار نہیں ہوگی؛ لیکن اگر آپس میں عقد نکاح نہ پڑھا ہو تو ذاتاً حرام ہے لیکن ”بغیر شاہد اور قسم․․․“ کے جملے سے منظور ، اشتباہ کا دعویٰ کافی ہے اور اس کو قسم پر آمادہ کرنا لازم نہیں ہے اور اگر صدق کا احتمال موجود نہ ہو تو قسم بے فائدہ ہے، اشتباہ اور غلطی کا دعویٰ چاہے حکم کے اعتبار سے ہو یا موضوع کی حیثیت سے برابر ہے۔

دسته‌ها: زنا کی حد

تقلید کے بغیر، عبادت کا انجام دینا

ایک شخص دس سال سے تقلید کے بغیر عبادت کرتا ہے ، اسکی عبادت کا کیا حکم ہے ؟

جواب : اس کو اسی وقت تقلید کرلینا چاہئے اور اس نے جو اعمال اپنے مرجع تقلید کے فتووں کے مطابق انجام دئیے ہیں وہ صحیح ہیں اور جو اعمال اس کے مطابق نہیں ہیں ان کا اعادہ کرے۔

حج کے لئے وصیت کرنے پر مجبور کیا جانا

ایک شخص مستطیع نہیں ہوا تھا لیکن چند سال پہلے ، مرض موت میں، چند لوگ اس کو حج میقاتی کے عنوان سے پانچ ہزار افغانی کی وصیت کرنے پر مجبور کرتے ہیں ، کیا یہ وصیت صحیح ہے اور اگر صحیح ہے تو چونکہ یہ رقم میقاتی حج کے لئے کافی نہیں ہے تو اس سلسلہ میں کیا وظیفہ ہے ؟

جواب :۔ اگر وصیت کرنے پر واقعاً مجبورکیاتھا تو یہ وصیت نافذ نہیں ہے لیکن اگر لوگوں کے اصرار کرنے سے وہ شخص خود وصیت کرنے پر راضی ہو گیا تھا اور مذکورہ رقم ، میقاتی حج کے لئے کافی نہیں ہے تو اس رقم کو کارخیر میں خرچ کریں ۔

دسته‌ها: مختلف مسائل

شعبدہ بازی (نظر بندی ) کے ذریعہ آمدنی

شعبدہ بازی کو اپنے کام کاج کی حیثیت سے اپناے کا کیاحکم ہے ؟کیا ایسی نشستوں شریک ہونا جہاں شعبدہ (نظر بندیہاتھ کی صفائی )کیا جاتا ہے اشکال رکھتا ہے ؟

جواب جو کھیل نمائش سر گرمی تفریح کے عنوان سے بعض نشستوں میں مشاہدہ میں آتے ہیں اور کسی شخص کی چالاکی اور ہاتھ کی صفائی کو ظاہر کرتے ہیں اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا مقصد نہیں ہوتا لیکن اگر لوگوکو دھوکا دینے کے لئے ہو تو یہ بھی جادو کی ایک قسم ہے کہ جس سے کمائی کرنا حرام ہے اور ایسی نشست میں شریک ہونا بھی حرام ہے

دسته‌ها: مشاغل
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت