سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

کھائی پی نہ جانے والی اشیاء کا کھائی پی جانے والی اشیاء کو مُہیّا کرنے کے لئے چوری کرنا

اضطراری حالت میں چوری کی حد کے بارے میں نیچے دئےے گئے دوسوالوں کے جواب عنایت فرمائیںالف۔ اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ حدسرقت پر عمل درآمد کے شرائط میں سے ایک شرط عدم اضطرار ہے ےہ کہ چوری اضطرار کی وجہ سے واقع ہوئی ہو اور اضطرار کے رفع کرنے میں بلاواسطہ رابطہ رکھتی ہو؟ بعبارت دیگر:آیا ضروری ہے کہ مجرمانہ فعل بلاواسطہ اضطرار اور ضرورت کو رفع کرے؟ مثلا اگر کوئی بھوک مٹانے کے لئے ایک سامان کی چوری کرے تاکہ اسے بیچ کر غذا تہیہ کرے ، کیا احکام اضطرار اس کو شامل ہونگے یا اضطرا ر فقط اس صورت مےں رفع مجازات کا سبب ہوگا کہ جب مضطر بھوک مٹانے کے لئے فقط غذا یا کھائی یا پی جانے والی چیز کی چوری کرے ۔ب۔ کیا اوپر کے فرض میں اس حالت کے درمیان جہاں غذا کا چوری کرنا اور دوسرے سامان کی چوری سے غذا مہیہ کرنا برابر ہو اور اس حالت میں جہاں دو میں سے ایک طریقہ زیادہ سہل ہو یا اس حالت میں جہاں فقط رفع اضطرار اور غذا کا حاصل کرنا دوسرے سامان کی چوری اور ضرورت پر منحصر ہو ، کوئی فرق ہے؟۔

جواب: کوئی فرق نہیں ہے۔جواب: جب بھی دوطریقہ موجود ہوں اور سارق رفع اضطرار کی نیت سے کسی ایک پر اقدام کرے ، اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔

قرآن کے مطابق شرعی ذمہ داریوں کا پورا کرنا

کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی مسلمان صرف قرآن مجید سے کام کو انجام دے جیسے نماز و وضو وغیرہ اور دوسرے کام؟

دین کے احکام کو جاننے کے لیے یا انسان درس پڑھے اور اجتہاد کرے اور احکام کو ادلہ چہار گانہ (قرآن، سنت، اجماع و دلیل عقل) سے استنباط و استخراج کرے اور اگر ایسا نہیں کر سکتا تو تقلید کرے۔

دوسرے کے مال پر قبضہ کرنے کیلے وکیل کی مدد

چنانچہ کوئی شخصی حقیقی یا حقوقی کے عنوان سے کسی شخص کا وکیل ہو اور متوجہ ہو جائے کہ اس کے موکل کا ارادہ ہے کہ جو مال مد مقابل کا ہے اس کو قانونی طریقوں سے اس سے چھین لے ،کیا (یہ وکیل) شریعت کی رو سے ، ذمہ دار ہے یا نہیں ؟

جب وکیل جانتا ہو کہ اس کے موکل کا شرعی حق نہیں ہے ، تو اس کی طرف سے دفاع نہیں کرنا چاہیے یا دوسرے سے نا حق کو ئی چیز لیکر اپنے موکل کے حوالے نہیں کرنا چاہئے اور اگر وکالت کی اجرت اپنے کام کے بدلے حاصل کرتا ہے تو وہ اس صورت میں جائز ہے کہ جب شرعی حقوق کو حق ثابت کرنے کے لئیے کوشش کرے ۔

دسته‌ها: وکالت کے احکام

ذبح کرنے سے پہلے بے حس کرنے والی دوا کا استعمال

اگرحلال گوشت جانور کو ذبح کرنے سے پہلے ، انجکشن یا کسی دوسری چیز کے ذریعہ ، سست کردیں اس غرض سے کہ وہ درد کا کم احساس کرے کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

جواب: اگر شوک گرنٹ لگنے اور سست ہونے کے بعد وہ جانور زندہ رہے تو کوئی اشکال نہیں ہے ،اور ہر وہ کام کہ جس سے جانور کم سے کم درد برداشت کرے مستحب ہے ۔

دسته‌ها: ذبح کے احکام

مقر کا غیر معین مقر لہ کے لیئے اقرار کا حکم

مردّد شخص کے لئے اقرا رکے آثار (نتائج) بیان فرمائیں:الف) کیا ایسا اقرار صحیح ہے؟ب) صحیح ہونے کی صورت میں مقرّلہ کا معین کرنا کس کی ذمہ داری ہے اور یہ کیسے انجام پائے گا؟ج) اقرار کے معین ہونے کے بعد مقرّ یا مقرلہ یا مخاطبین کے درمیان اختلاف کی صورت میں کیا حکم ہے؟د) اگر کوئی اور شخص مقرّلہ ہونے کا ادعا کرے، اس کا ادّعا کیا اثر رکھتا ہے؟ کیا اس صورت میں مقرّلہ پر عنوان مدّعی، وطرف دیگر پر عنوان منکر صادق آتا ہے، نتیجةً کیا یہاں پر مخاصمہ (مقدمہ) کی صورت پیدا ہوجائے گی؟ھ) اگر مقرّلہ کے علاوہ مقرّبہ بھی مردّد ومبہم ہو، تو کیا نتیجہ نکلتا ہے؟و) اگر مقرّ، مقرّلہ کے معین کرنے سے خودداری کرے یالاعلمی کا اظہار کرے اور وہ دونو ں (یعنی مردّد اشخاص ) اس کی تصدیق کریں تو کیا تعیّن لازمی ہوجائے گا، یا یہاں پر کوئی اور حکم ہے؟ز) اگر مقرّ معین کرنے سے خودداری کرے یا لاعلمی کا اظہار کرے، وہ دونوں یا ان میں سے ایک مقرّ کے عالم ہونے کا ادعا کریں، کیاقسم کے ذریعہ مقرّ کا ادّعا قبول کیا جاسکتا ہے؟۔ح) کیا اقرار کے لئے مخاطبین کی تصدیق یا عدم تصدیق ، مقرّ کی لاعلمی کے اظہار کی بہ نسبت کوئی اثر رکھتی ہے؟

جواب: مبہم شخص کے لئے اقرار کرنا جائز ہے ، لیکن حاکم شرع ،مقرّ کو مُلزَم (مجبور) کرے گا کہ اپنے اقرار کے لئے مناسب تشریح بیان کرے، تشریح سے امتناع کی صورت میں حاکم شرع اس کو قید یا تعزیر کرسکتا ہے، بہرحال اس کے اقرار کی قدر متیقّن حجت ہے اور اس کے مطابق عمل بھی کیا جاسکتا ہے، مگر قسم کے حکم کا اجراء ان جیسے موارد کے لئے مشکل ہے۔

دسته‌ها: اقرار کے احکام

دیت پر محکوم ، جنایت کرنے والے کا تنگدستی کا دعویٰ

ایک شخص نے عمداً کسی کی آنکھ کو پھوڑدیا، شہود کی شہادت اور طرفین کی تحقیق کے مطابق مقدمہ کا موضوع قصاص کے موارد میں سے تشخیص دیا گیا ہے لیکن جانی نے صدور حکم سے پہلے قصاص کو دیت میں تبدیل کرنے کا تقاضا کیاہے ، مجنی علیہ بھی اس پر راضی ہوگیا اور دیت کا حکم صادرہوگیا لیکن ابتدائی عدالت کے حکم کو قطعی ہونے اور تجدید نظر کرنے کے بعد محکوم علیہ نے اپنے تنگ دست ہونے کا دعوا کردیا، حضور فرمائیں:۱۔ کیا تنگدستی کا تقاضا اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ قصاص ، مصدوم (جس کو نقصان پہنچایا گیا ) کی درخواست کی وجہ سے دیت میں تبدیل ہوا تھا، سماعت کے قابل ہے؟۲۔ اگر مجنی علیہ کی موافقت دیت کے ادا کرنے پر مشروط تھی تو کیا حکم ہے؟۳۔ اگر بغیر شرط کے قبول کیا تھا تو کیسا ہے؟۴۔ اگر دیت میں تبدل کرنے کا تقاضا مجنی علیہ کی طرف سے تھا اور جانی نے اس کی موافقت کی تھی توکیا حکم ہے؟

۱۔ سے ۴/تک : اس صورت میں جبکہ شخص جانی کے حالات تبدیل نہ ہوئے ہوں تو اس کا تنگدستی کا دعوا قبول نہیں ہوگا؛ لیکن اگر حالات بدل گئے ہوں مثلاً اس مدت میں اس کو مہم ضرر اور نقصان پہنچا ہو تو اس کا یہ دعوا شہود کی شہادت کے ساتھ قبول کیا جائے گا۔