سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

ملزم سے اقرار لینے کے لئے اس پر سختی کرنا

بعض لوگوں کو چوری کے الزام میں گرفتار کرکے تھانہ میں لایا جاتا ہے، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر عام طور پر پٹائی اور زدوکوب کے بغیر ان سے پوچھ تاچھ کی جائے تو وہ اقرار نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے ساتھیوں کا نام بتاتے ہیں، جس کے نتیجہ میں ۔، لوگوں کا چورایا ہوا مال جیسے گاڑی، قالین اور دیگر سامان، چوروں کے پاس رہ جاتا ہے، لیکن اگر کوڑے اور زدوکوب کا طریقہ استعمال کیا جائے تو اکثر اوقات، اپنے جرم کا اقرار اور اپنے ساتھیوں کا نام پتہ بھی بتادیتے ہیں، ایسی صورتحال میں ، تھانہ کے ملازم کیا کریں جو شرعی لحاظ سے جواب دہ نہ ہوں؟

جواب: کسی بھی ملزم کو ، شرعی طور پر اس کا جرم ثابت کئے بغیر، زدوکوب نہیں کیا جاسکتا مگر دوصورتوں میں:الف) جبکہ ملزم ایسے جرائم، جیسے لوگوں کے گھروں میں بغیر اجازت کے داخل ہونا، کار، گاڑی وغیرہ کا دروازہ کھول لینا یا غیر اخلاقی جرائم کا مرتکب ہوا ہو اور خود اس کے اعتراف کرنے سے اس قسم کے جرائم، ثابت ہوگئے ہوں نیز تعزیرات اور سزا کی دلیلیں اس کو شامل ہوں، اس صورت میں تعزیر کے عنوان سے اس کو سزا دی جاسکتی ہے اسی کے ذیل میں اس سے بازپرس کی جائے تاکہ جرائم کو وضاحت سے بیان کرے ۔ب) جبکہ مسئلہ اس قدر مہم ہو کہ اسلام یا اسلامی حکومت یا وسیع سطح پر مسلمانوں کی جان ومال سے تعلق رکھتا ہو، اس صورت میں، اہم ومہم کے قاعدہ کے مطابق، مذکورہ قسم کی سزا وتعزیر کا امکان ہوسکتا ہو، ضمناً یہ بھی بیان کردیا جائے کہ دور حاضر میں، ایسے طریقہ دنیا میں پائے جاتے ہیں جن کے ذریعہ، ملزم کو زد وکوب کئے بغیر، اس سے زیادہ بازپرس کرکے اس کے بیان حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔

دسته‌ها: اقرار کے احکام

گھر میں مرد کے لیے عورتوں کی چیزیں استعمال کرنا

کیا گھر کے اندر مر دکے لئے زنانہ چپلیں اور عورت کے لئے مردانہ چپلیں پہنے میں کوئی اشکال ہے ؟

جواب: کوئی حرج نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کے مخصوص لباس پہنے میں اگر کوئی قباحت نہ ہوتو پہن سکتے ہیں لیکن اگر گناہ کا باعث ہو تو حرام ہے

دسته‌ها: لباس (کبڑے)

”یاعلی“ کے وِرد کا ختم

کچھ دنوں پہلے، ”یاعلی کا ختم“ رائج ہوگیا ہے، اس سلسلے میں جنابعالی کی کیا نظر ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ معصومین علیہم السلام خصوصاً وجود مبارک امیر المومنین علیہ السلام سے توسل کرنا اور بارگاہ خداوندی میں ان کو شفیع قرار دینا، بہترین عبادت اور حل مشکلات کا سبب ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ مذہب اہل بیت علیہم السلام کے پیروان ایسی دعاؤں اور توسلات سے استفادہ کریں جو معصومین علیہم السلام سے نقل ہوئی ہیں؛ جیسے دعائے توسل کیونکہ اس کو علامہ مجلسیۺ اور دیگران نے معتبر کتب کے حوالے سے آئمہ علیہم السلام سے نقل کیا ہے، اور حاجتوں کی برآوری کے لئے بہت زیادہ موٴثر ہے ۔

دسته‌ها: دعا

رجوع کرنے کےلئے رقم رصول کرنا

اگر کوئی شخص اپنی زوجہ کو طلاق دیدے زوجہ کے وارث اس سے کہیں کہ اس قدر رقم لے لو لیکن طلاق نہ دو، کیا اس صورت میں، شوہر رجوع کرسکتا ہے ؟

جواب:۔جس شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی ہے وہ رقم لیکر رجوع کرسکتا ہے، اور اگر طلاق رجعی نہیں ہے تو دوسرے نکاح کی ضرورت ہے .

دسته‌ها: رجوع کے احکام

ہمسر (شوہر وبیوی) پر ناجائز تعلقات کا الزام لگانا

اگر کوئی شخص اپنی زوجہ پر ناجائز تعلقات کا الزام لگائے اور عدالت میں اس الزام کو ثابت نہ کرسکے ؟الف)کیااس شخص کے لئے دوبارہ اپنی زوجہ کے ساتھ زندگی بسر کرناممکن ہے ؟ب)کیا شرعی لحاظ سے زوجہ کے اوپر واجب ہے کہ اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی جاری رکھے ؟ج) خصوصاً اس مورد میں کیا زوجہ طلاق کا تقاضا کرسکتی ہے اور اپنے حقوق، مہر، جہیز اور دولت وثروت کو حاصل کرسکتی ہے ؟

جواب:الف۔اگر مشاہدہ کا دعویٰ نکرے تو کوئی خاص رسم کیےٴ بغیر اس کے ساتھ ازدواجی زندگی کو جاری رکھ سکتا ہے، لیکن اس پر جو الزام لگا یا ہے اس سلسلہ میں زوجہ حاکم شرع کے یہاںحد قذف (الزام لگانے کی سزا) کا تقاضا کر سکتی ہے (اس کی سزا اسّی کوڑے ہیں) مگر یہ کہ زوجہ اس کو معاف کردے .جواب: ب:۔جی ہاں لازم ہے ( ازدواجی) زندگی جاری رکھے .جواب:ج۔اگر شوہر طلاق دینے پر راضی ہو جائے تو کوئی اشکال نہیں ہے .

دسته‌ها: تهمت

اس قاتل کے قصاص اور دیت کا طریقہ جس نے دو اور شخصوں کو زخمی کیا ہو

چنانچہ ایک شخص ایک قتل عمد اور دواشخاص پر ضرب وجرح کا مرتکب ہوا ہے اگر مقتول کے اولیاء دم قصاص کے خواہاں ہوں اور قاتل کے پاس دو اشخاص کی دیت دینے کے لئے کوئی مال نہ ہوکیا قصاص کا جاری کرنا دیت کی ادائیگی سے پہلے ممکن ہے؟ جواب کے منفی ہونے کی صورت میں دیت کی ادائیگی کس طرح میسر ہے۔

قصاص اولیاء دم کے تقاضے کے مطابق انجام پائے گا، شخص جانی (قاتل) اگر کوئی مال رکھتا ہوگا تو دیت کو اس کے مال سے ادا کریں گے ، اس صورت کے علاوہ میں دیت میّت کے ذمہ رہے گی اور اگر اعضاء کی جنایت عمدی اور قابل قصاص ہو تو پہلے قصاص عضو کریں گے، بعد میں قصاص قتل انجام پائے گا۔

دسته‌ها: اعضاء کی دیت

ریٹائرمینٹ کی سرکاری حیثیت

ریٹائرمینٹ کی شرعی حیثیت اور دونوں فریق کے حقوق کے بارے میں توضیح دیں؟

ریٹائرمینٹ کے مسائل کو بھی دو طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے:الف: پہلی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اسے اصل قرارداد کے ضمن میں ایک نئے عقد کا عنوان دیا جائے، جس میں عقد کی تمام شرطوں کا لحاظ کیا گیا ہو جیسے دونوں فریق بالغ ہوں، عاقل ہوں۔ ریٹارمینٹ کے مسائل کے باب میں جو ابھامات پائے جاتے ہیں جسیے یہ کہ اس عقد میں سفاہت کے حکم نہیں لگ سکتے، اس لیے کہ اس کا عقلی حکم واضح ہے اور یہ بات اس عقد کے صحیح ہونے میں مانع نہیں ہے۔ در حقیقت یہ عقد اور قرارداد بیمہ کے عقد اور قرارداد کی طرح ہے جو ایک مستقل عقد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس آیہ کرہمہ (اوفوا بالعقود) کے ضمن میں آتا ہے۔ مذکورہ عقد میں ادا کی جانے والی کل رقم کے واضح نہ ہونے اور اس جیسے پیش آنے والے دوسرے مسائل سے اصل عقد پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح سے ربا کا مسئلہ نہ ہی عقد بیمہ میں جاری ہو سکتا ہے اور نہ ہی ریٹائرمینٹ کے عقد میں۔ب۔ یہ مسئلہ اپنی تمام خصوصیات اور قوانین و ضوابط کے ساتھ شرط ضمن عقد کی صورت میں قرارداد میں شامل کیا جائے گا اور اس میں جو ابھامات یا شکوک پائے جاتے ہیں وہ اس کے صحیح ہونے کی راہ میں مانع نہیں بنتے۔ جیسا کی اوپر بیان کیا گیا۔

دسته‌ها: حکومتی قوانین

پردے کی ضرورت

چونکہ پردہ کا مسئلہ اسلام کا ایک ضروری حکم ہے ، نیز اسلامی جمہوری ملک ایران خصوصاً اس کے مذہبی شہروں جیسے مقدس شہر قم میں ، اسلامی قانون کی زیادہ پابندی اور رعایت ہونا چاہئیے ، کہ بحمد للہ ابھی تک مقدس شہر قم میں اسلامی قانون کی رعایت ہوتی ہے ، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج کل اس مقدس شہر میں ،کچھ اس طرح کے اعمال ، مشاہدہ میں آتے ہیں ، جو اس مقدس شہر کی شان و منزلت ، کے مناسب نہیں ہیں ، جیساکہ با رہا دیکھاگیاہے ، خصوصاًشادی بارات کی ان گاڑیوں میں جو حضرت معصومہ سلام اللہ علیہما کے روضہ کے سامنے سے گذرتی ہیں ، غیر مناسب اعمال انجام دئے جاتے ہیں، یاکلی طور پر مقدس مقامات پر انہی مقامات میں سے ایک مقام مسجد جمکران بھی ہے، جس پر پر وردگار عالم اور حضرت امام زمان (عج)کی خاص توجہات اور عنایات ہیں ، مذکورہ اعمال انجام پاتے ہیں جو نہایت ہی افسوس کی بات ہے ، چونکہ اس مقدس شہر کی شان اس سے بلند و بالا ہے کہ اس طرح کے اعمال انجام دئے جائیں لہٰذا چونکہ عظیم الشان ، مراجع اور مجتہدین کرام ، ہمیشہ اور ہر حال میں اسلام و انقلاب کے ، مدد گار رہیں ہیں، اور اپنے فتووں کے ذریعہ ، دنیا کی ظالم و جابر اور متکبر حکومتوں کو ، منھ توڑ کر جواب دیتے رہے ہیں ، اس لئے ہم نے چاہا کہ اس مسئلہ میں ، مقدس شہر قم کے سلسلہ میں ، جناب عالی کا صریح اور واضح فتوی ، معلوم کریں -؟

جواب : کسی شک و شبہ کے بغیرپردہ دین اسلام کا مسلم حکم ہے ، اس کے بارے میں تمام مجتہدین کا نظریہ متفق ہے ، اور ہر قسم کی بے پر دگی مقدس شریعت کے خلاف ہے ، خصوصاً مذہبی شہروں میں ، اور اس سے بڑھکر مقدس مقامات پر زیادہ پابندی ہونی چاہئیے، ان مقامات پر بے پردگی کا گناہ دوسرے مقامات کی نسبت زیادہ ہے بیشک ہر جگہ خصوصا ایسے مقدس مقامات پر برقعہ پہنا زیادہ بہتر ہے ۔

دسته‌ها: پرده (حجاب)
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت