زرتشتیوں کی دیت
مشہو ر فقہاء کے فتوے کے مطابق اہل کتاب کفار ذمّی کی دیت ۸۰۰ درہم ہے، کیا زرتشتیوں کی اقلیت کو بھی یہ حکم شامل ہوگا؟
جواب:احتیاط یہ ہے کہ اہل کتاب کی دیت منجملہ زرتشتیوں کی دیت مسلمانوں کے برابر ادا کرنی چاہئے۔
جواب:احتیاط یہ ہے کہ اہل کتاب کی دیت منجملہ زرتشتیوں کی دیت مسلمانوں کے برابر ادا کرنی چاہئے۔
جواب: حرام ہے ۔
جواب: اس صورت میں جبکہ پانی قدیم الایام سے مذکورہ راستے سے گذرتا تھا اور گھروں اور باغوں کے مالکان بھی اسی راستے پر عملاً توافق رکھتے تھے، پانی کے راستے سے کو تبدیل کرنا اشکال رکھتا ہے، اسی طرح پائپ بچھانا یا نالی کو سمینٹ سے بنانا بھی بغیر مالکوںکی رضایت کے اشکال رکھتا ہے، لیکن اگر پانی کے راستے میں کوئی خرابی ہو تو صاحبان باغ اس کو درست کرائیں، ورنہ پانی کے مالکان اپنے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے بندوبست کرسکتے ہیں اور اس پانی کو باغوں کے لئے استعمال کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اس پانی میں حصہ رکھتے ہوں۔
جواب:۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ اگر باپ اپنے نابالغ بچہ کو کوئی چیز ہبہ کرے بچہ بالغ ہو نے کے بعد اس کا خمس اداکرے ۔
جواب:۔اگر نہی عن المنکرکو ترک کرے تو فاسق ہے .
جواب: دیت کو قتل کے علاوہ بیت المال یا جانی کے اقرباء سے لینے پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔
یہ کام جائز نہیں ہے اور جو تنخواہ وہ وصول کریں گے اس میں اشکال ہے۔
اس سے مراد اپنے اعزا و اقارب سے متعارف اور عام رابطہ اور تعلق رکھنا ہے۔ البتہ رشتہ جتنا نزدیکی ہو رابطہ ان ہی زیادہ اور مستحکم ہونا چاہیے۔
اگر ان کو ووٹ دینے کے سلسلہ میں یہ مشورہ کی کڑی ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ اس میں ان کے صفات کا بیان ہونا چاہیے، ان کی توہین و تحقیر و تزلیل یا خدا نخواستہ ان پر تہمت نہیں لگانا چاہیے۔
اس طرح کہ مسائل میں سختی سے کام نہ لیں اتنا کافی ہے کہ اس طرح پڑھیں کہ عربی لوگ کہیں کہ صحیح ہے، اور ہرگز نماز ظہرو عصر کی قرائت میں اپنی آواز کو بلند نہ کرے ؛ ایسا لگتا ہے کہ آپ وسوسہ اور شک کے شکار ہوگئے ہیں، کوشش کریں کہ اس کو ترک کردیں ۔
جواب:۔ ان کا وظیفہ بھی پہلے مسئلہ کے مطابق ہے ۔ ج)۔تیسرے گروہ کے کام کا مقام آرامگاہ سے شرعی مسافت کا فاصلہ ہے ،یہ لوگ بھی روزانہ یااکثر، کام پرجاتے ہیں اور اپنے کام کی نو عیت کے اعتبار سے ، ظہر سے پہلے یا بعد میں واپس آجاتے ہیں ۔ جواب:۔ یہ لوگ کثیر السفر ہیں ،( زیادہ سفر کرنے والوں کے لئے نماز روزہ قصر نہیں ہے ) د)۔ اسی گروہ کے کچھ لوگ یعنی جن کے کام کے مقام کا فاصلہ ، شرعی مسافت کے برابر ہے ، ایک ہفتہ دن میں کام پرجاتے ہیں ، رات میں واپس آجاتے ہیں اور ایک ہفتہ رات میں کام پر جاتے ہیں دن میں واپس آجاتے ہیں ۔ جواب:۔ ان کاوظیفہ گذشتہ مسئلہ کے مطابق ہے ۔ ھ)۔ کچھ لوگ آرامگاہ پر ہی کام کرتے ہیں لیکن کبھی کبھی وقتی طور پر ،اتفاق سے شرعی مسافت طے کرتے ہیں اورپھر دوبارہ اپنے مقام یعنی آرامگا ہ پر واپس جاتے ہیں ۔جواب:۔ اگر انہوں نے وہاں آرامگاہ پر دس دن تک رہنے کا قصد نہیں کیا ہے تو ان کی نماز راور روزہ قصر ہے ۔ و)۔ کیا ان لوگوں میں جو زیادہ مدت سے ، اس کام میں مصروف ہیں ،اور ان لوگوں میں جو نئے نئے کام پر آئے ہیں کوئی فرق ہے ؟ جواب:۔ کوئی فرق نہیں ہے
جواب :۔ آپ شب میں رمی جمرات کرسکتے ہیں لیکن آپ کے ساتھی قادر ہیں تو دن میں رمی کا عمل انجام دیں ۔