سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

ملزم کے قاتل نہ ہونے پر رشتہ داروں کی شہادت

قبائلی زندگی بسر کرنے والوں کے یہاں یہ رسم ورواج ہے کہ اگر ایک خاندان دوسرے خاندان کے ساتھ لڑائی جھگڑے کا قصد رکھتا ہے اور مدمقابل میں کسی کو قتل یا زخمی کرنا چاہتا ہے تو اپنے تمام اہل خاندان سے مشورہ اور ان کو اس ماجرے سے باخبر کرتا ہے ، اس کے بعد سب قسم کھاتے ہیں کہ اس طرح کا جرم انجام دیں گے ، اس بالا مقدمہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ذیل کے سوال کا جواب عنایت فرمائیں:۱۔ مقتول کا سابقہ دشمنی کی وجہ سے کسی کے ساتھ اختلاف تھا، یہاں تک کہ پہلے چند مرتبہ، مقتول کے خاندان اور قاتلوں کے خاندان کے درمیان لڑائی کی وارداتیں ہوئی تھیں، نیر مقتول کو انھوں نے کئی مرتبہ مارا پیٹا اور دھمکیاں وغیرہ بھی دی تھیں، ایک رات مقابل گروہ کے دو آدمیوں نے اس کے گھر پر حملہ کیا اور اس کو اس کی بیوی اور چھوٹے بچوں کی نظروں کے سامنے قتل کرنے کے بعد ، فرار ہوگئے ! ابھی مقتول میں کچھ جان باقی تھی کہ اس کا چچا اس کے سرہانے حاضر ہوا، مقتول نے اپنے چچا سے کہا: ”فلاں شخص نے مجھے اسلحہ سے زخمی کیا ہے“ دوسری طرف سے قاتلین کے خاندان کے دو تین آدمیوں (بھائی اور چچاکے بیٹے) نے گواہی دی ہے کہ فلاں شخص نے یہ کام نہیں کیا ہے، کیا قاتل کے خاندان والوں کی گواہی جو قتل کے پلان میں شریک تھے اور غرض کے ساتھ گواہی دے رہے ہیں، قابل قبول ہے؟

جواب: ان کا یہ شہادت دینا کہ وہ قاتل نہیں ہے کوئی اثر نہیں رکھتا؛ ہرچند شہود یعنی گواہوں کو قتل کے کیس میں متہم نہیں ہونا چاہیے ، جبکہ اس مقام پر مفروضہ مسئلہ میں شہود متہم بھی ہیں، البتہ مقتول کی شہادت بھی کوئی اثر نہیں رکھتی، مگر یہ کہ قاضی کو مقتول اورمقتول کے عزیزو اقارب کی گواہی کہ جو موقعہ واردات پر حاضر تھے اور اسی طرح کے دوسرے قرائن کے ذریعہ علم ہوجا ئے کہ شخصِ مذکور ہی قاتل ہے۔

ماہ محرم سے سال جدید کے شروع ہونے کا سبب

اس بات کے مد نظر کہ نبی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکہ سے مدینہ ہجرت ربیع الاول کے مہینے میں تھی، کیوں محرم کے مہینے سے قمری سال کا آغاز ہوتا ہے؟

ظہور اسلام سے پہلے بھی محرم کے مہینے سے سال کا آغاز ہوتا تھا اور پیغمبر اکرم (ص) کی ہجرت ہمارے اسلامی انقلاب کی شروعات کی طرح ہے۔ اگر ہم انقلاب شروع ہونے والے سال کو نیا سال بنانا چاہیں تو ہمیں بہمن کے مہینے سے سال کا آغاز کرنا ہوگا جبکہ ہمارا سال فروردین سے شروع ہوتا ہے۔

دسته‌ها: نبوت

پیغمبر اکرم (ص) اور امیرالمومنین (ع) کی سیادت

پیغمبر اسلام (ص) کی سیادت کا سر چشمہ کیا ہے؟ اور کیا امام علی علیہ السلام بھی سید ہیں؟

سیادت عظمت و بزرگی کے معنا میں ہے اور نبی اسلام (ص) کی عظمت و جلالت اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور آپ کے اجداد جناب ہاشم تک سب آپ کی وجہ سے سادات اور با عظمت تھے اور حضرت علی علیہ السلام اپنے بلند مقام کے علاوہ بنی ہاشم سے ہیں۔

دسته‌ها: نبوت

ایسے شخص کی دیت اور قصاص جس نے اپنی زوجہ کو قتل کردیا ہو

اگر کوئی شخص عمداً اپنی زوجہ کو قتل کردے اور مقتولہ کے وارثوں میں فقط ایک اس کی ماں اور ایک بیٹی ہو اور یہ ملحوظ رکھتے ہوئے کہ بیٹی کے ذریعہ باپ کا قصاص کرنا ممکن نہیں ہے لیکن مقتولہ کی ماں نے قصاص کرنے کا تقاضا کیا ہے:الف) چونکہ قصاص کی تقاضا مند (مقتولہ کی ماں) کی طرف سے آدھی دیّت قاتل کو دینا لازم ہے، سوال یہ ہے کہ کیا لڑکی کے حصّہ کی دیت بھی ادا کرے یا نہیں، نیز توجہ رکھتے ہوئے کہ قاتل کا باپ موجود ہے جو اس کا نابالغ بیٹی کا دادا ہوتا، کیا نابالغ بچی کی مراعات کرتے ہوئے، دیت کا تقاضا کرنا یا معاف کردینے کا کام اس کے داد کے ذمّہ ہے؟ب) اگر قصاص کا تقاضا کرنے والی (مقتولہ کی ماں) میں، بچی کے حصّہ کی دیت کی رقم کو ادا کرنے کی استطاعت نہ ہو یا ادا کرنے سے انکار کرنے کی صورت میں کیا قصاص کا حق ساقط ہوکر دیت کے حکم میں تبدیل ہوجائے گا یا اس کے اجرا کرنے میں تاخیر کی جائے گی، نیز تاخیر کی صورت میں کیا مجرم کو قید سے رہا کردیا جائے گا یا نہیں؟

الف) بچی کے حصّہ کی دیت ادا کرے اور بظاہر اس کام میں داد اس کے ولی ہیں ۔ ب) اگر ولی قصاص میں مختصر سے عرصہ کے بعد، مالی استطاعت کی امید ہو تو اس کے مستطیع ہونے کا انتظار کرنا چاہیے نیز مجرم سے کافی حد تک ضمانت لے کر اُسے رہا کردیا جائے گا، لیکن اگر اس کے مستطیع ہونے کی امید نہیں ہے تب قاتل پر دیت لازم ہوجائے گی ۔

وفات کی عدّت میں عقد نکاح

چنانچہ کسی خاتون کا وفات کی عدّت کے دوران، نکاح کردیں اور تقریباً پندرہ دن کے بعد کہ جب عدّت ختم ہو جائے ، اس کی رخصتی کردیں اور زفاف واقع ہوجائے ، یعنی نکاح عدّت میں اور دخول عدّت کامل ہونے کے بعد ہو اہو اور دونوں حضرات (شوہر و زوجہ) مسئلہ سے جاہل رہے ہوں یعنی انہیں معلوم نہ ہو کہ عدّت کے دوران، شادی کرنا حرام ہے، برائے مہربانی آپ فرمائیں: آیا ان کے لئے حرمتِ ابدی ثابت ہوگئی ہے یا فقط عقد باطل ہے ؟ اور کیا پہلے شوہر کی عدّت ، کامل کرے یا نہیں ؟ اوربالفرض اگر عقد باطل ہوگیا ہو اور دوسرا نکاح پڑھنا چاہیں تو کیا دوسرے شوہر کے لئے بھی عدّت رکھے گی ؟

جواب:۔نکاح باطل ہے ، لیکن ہمیشہ کیلئے حرام نہیں ہوگی، اُسے چاہیےٴ کہ دوسرے شوہر کے لئے وطی شبہ کی وجہ سے، عدّت کامل کرے، اور عدّت کے ختم ہونے کے بعد کسی دوسرے شخص سے شادی کرسکتی ہے لیکن دوسرے شوہر سے شادی کرنے کے لئے اس کو وطی شبہ کی بناپر، عدّت رکھنے کی ضرورت نہیں ہے .

زنا سے بچنے کیلئے استنماء کرنا

اگر کوئی انسان زنا سے بچنے کے لئے استمناء کرنے پر مجبور ہوجائے تو کیا وہ استمناء کرسکتا ہے نیز کیا یہ کام اس کے لئے جائز ہے؟

ایک گناہ سے نجات حاصل کرنے کا راستہ دوسرا گناہ نہیں ہے، اُسے شادی کے متعلق فکر کرنا چاہیے، یا روزہ اور ورزش، جیسے طریقوں سے گناہ سے بچنا چاہیے اور دوسرے گناہ کا سہارا نہیں لینا چاہیے ۔

دسته‌ها: استمناء

قصاص (پھانسی) کے بعد قاتل کا زندہ ہوجانا

چنانچہ کسی شخص کو قصاص کے طور پر سزائے موت ہوجائے اور وہ شخص قصاص کے عنوان سے پھانسی کے تختہ پر چڑھا دیا جائے اور قانونی ڈاکٹر گواہی دیدے کہ مرگیا ہے لیکن برف خانہ میں جاکر ہوش میں آجائے اور زندہ ہوجائے:الف)کیا قصاص کا حکم اپنی جگہ پر باقی ہے یا ساقط ہوجائے گا؟ب) اگر قصاص کا حکم اپنی جگہ پر باقی ہو تو کیا اسے (مجرم کو) پھانسی دینے کی دیت، دی جائے گی؟ج) دیت ادا کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟د) دیت ادا کرنے کی مدّت کیاہے؟

الف) قصاص کا حکم اپنی جگہ پر باقی ہے اور مقتول کے وارث، اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں ۔ب و ج) اگر زخم یا کسی عضو میں نقص یا گوئی دوسرا نقص پیدا ہوجائے تب احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے ۔البتہ یہ اس صورت میں ہے کہ جب قاضی اور اس کے ملازموں کے ذریعہ، پھانسی کے حکم پر عمل در آمد کیا جائے اور حکم کو جاری کرنے میں عمداً کوتاہی نہ کی گئی ہو۔د) تمام دیتوں کی طرح ہے ۔

ایسے قطع نخاع (اہم رگیں یا ہڈّی کا مغز وغیرہ) کی دیت اور قصاص جو کسی کی موت کا باعث ہو

ایک شخص کے بدن میں گولی لگی اور دوسری طرف سے باہر نکل گئی، جس کے نتیجہ میں وہ شخص مکمل طور پر مفلوج ہوگیا، کچھ عرصہ کے بعد اس کا انتقال ہوجاتا ہے، قانونی ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ سبب موت، وہی پہلے زخم اور ان سے پیدا ہونے والے نقصانات تھے، اب یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے کہ مارنے والا پہلے ہی ایک مکمل دیت، مفلوج کرنے کی وجہ سے، نیز کامل دیت کی دوتہائی رقم، جائفہ(۱) کی بناپر، مقروض ہے، آپ سے التماس ہے کہ مذکورہ مسئلہ میں نیز مارنے والا کس قدر دیت ادا کرے گا، آپ اپنا نظریہ بیان فرمائیں؟۱۔ بدن پر گہرا زخم لگانا جس پر قصاص نہیں ہوتا دیت وصول کرسکتا ہے اور اس کی دیت، کامل دیت کا ایک تہائی حصّہ ہوتا ہے ۔

اگر عمداً گولی چلائی تھی، تو مارنے والا، دیت کی دی گئی رقم کو واپس وصول کرے گا اور قصاص کے لئے تیار ہوجائے گا اور اگر غلطی سے یا شبہ عمد کی صورت ہے تو مزید دیت اس پر لازم نہیں ہے، وہی ایک دیت کافی ہے اور اگر ایک ضرب (ایک بار گولی چلانے) سے موت ہوئی ہے تب تو جائفہ--- کی دیت بھی نہیں ہے ۔

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت