غیبت کے معنیٰ
برای مہربانی غیبت کے معنیٰ بیان فرمائیں ؟
جواب۔غیبت یہ ہے کہ کسی کے پوشیدہ عیب کو اس کے پیچے بیان کریں ،لیکن ان مقامات پر جہاں مہم مسئلہ در پیش ہو جیسے مشورہ کرنا اور آپس میں صلح کرانا یا اس جیسے مسائل میں مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے
جواب۔غیبت یہ ہے کہ کسی کے پوشیدہ عیب کو اس کے پیچے بیان کریں ،لیکن ان مقامات پر جہاں مہم مسئلہ در پیش ہو جیسے مشورہ کرنا اور آپس میں صلح کرانا یا اس جیسے مسائل میں مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے
جواب:۔پہلے عقد متعہ کی عدّت اس طرح کے کاموں سے، ساقط نہیں ہوگی اور جب تک عدّت ، ختم نہیں ہوگی اسکی دوبارہ شادی صحیح نہیں ہوگی، اور بغیر عدّت رکھے، اس خاتون کی کسی بھی شخص کے ساتھ شادی نہیں ہوسکتی .
جواب: اگر اس نے بچہ کی حفاظت میں مطابق معمول عمل نہیں کیا ہے اور کوتاہی کی ہے تو وہ ذمہ دار ہے ۔
اگر آخر میں مغز کی موت کا انجام قطعی موت ہوجائے تو ایک دیت سے زیادہ نہیں ہے، جس کو حادثہ کے ذمہ داران اپنی غلطی کی نسبت سے ادا کریں گے۔
جواب: مفروضہ سوال میں اگر جنایت قتل کے مانند ہو تو بیت المال سے ادا کی جائے گی۔
جواب:۔جس عورت کا شوہر لاپتہ ہوگیا ہو اس کی چند حالت ہیں :الف)اگر صبر کرے تاکہ اس کی کوئی خبر مل جائے تو کوئی ممانعت نہیں ہے، اس صورت میں اس کا نفقہ شوہر کے مال سے ادا کرنا چاہیےٴ .ب) اگر کوئی نفقہ دینے والا مل جائے، ولی ہو یا غیر ولی ہو، تو صبر کرے مگر یہ کہ شدید عسر و حرج یا مہم ضرر ونقصان ہوجائے، اس صورت میں حاکم شرع اس کو طلاق دے سکتا ہے .ج)ان دو صورتوں کے علاوہ، بات ، حاکم شرع تک جائے گی اور حاکم شرع، چار سال تک، اس کے لاپتہ ہونے کے مقام کے آس پاس کے علاقوں میں، تفتیش کرائے گا، اگر پھر بھی پتہ نہ چلے تو پہلے اس کے ولی کو طلاق دینے کی پیشکش کرے گا، اور اگر اس نے طلاق نہ دی تو خود طلاق دیدے گا، اس کے بعد عدّت وفات رکھے گی،(اگر چہ طلاق رجعی کی عدّت کافی ہونا بھی، قوی ہے، لیکن حتی الامکان احتیاط ترک نہیں ہونا چاہیےٴ) تب شادی کرے گی، اور اگر عدّت کے دوران ، پہلا شوہر آجائے تو وہی بہتر ہے، اور اگر عدّت کے ختم ہونے کے بعد (یہاں تک کہ دوسری شادی کرنے کے بعد بھی) پہلا شوہر آجائے تو بھی طلاق نافذ ہے،، اور فقط دونوں کی رضایت اور دوبارہ نکاح کے ذریعہ واپسی کا امکان ہے
جواب:مرد کی کامل دیت کی بنیاد پر محاسبہ ہوگا۔
اگر ابھی تشہد پڑھنے کی جگہ ہو تو پڑھا جائے اور اگر وہاں سے گذر گئے ہوں تو اس کی طرف توجہ نہ کرنا چاہیے ۔
جواب:۔ تین سلام جو تین طرف (رخ کرکے) پڑھے جاتے ہیں ان کے لئے کوئی خاص نص موجود نہیں ہے لیکن زیارت کے مطلقہ حکم کی نیت سے کوئی حرج نہیں ہے ۔
اگر توہین و تحقیر و تذلیل کی غرض سے ہو تو جایز نہیں ہے۔
عربی متن کے بغیر قرآن کا چھپنا سبب ہوگا کہ آہستہ آہستہ اصل قرآن فراموش ہوجائے اور اسلام کے لئے یہ خطرہ ایک بہت بڑی چیز کے ضائع ہونے کا سبب ہوگا ۔ لیکن وہ قرآن جنھیں ہم نے یا دوسروںنے چھاپا ہے ان میں عربی متن بھی موجود ہے اور فارسی ترجمہ بھی؛ کوشش کریں کہ آہستہ آہستہ دونوں سے ہی آشنا ہوں اور اگر ابتداء میں غلط بھی پڑھیں تو کوئی حرج نہیں ہے، تدریجاً صحیح ہوجائے گا ۔
عقل کے اعتبار سے یہ کام ممکن ہے، لیکن شریعت کی نظر میںجائز نہیں ہے، اس کے بہت زیادہ نقصانات ہیں
۱۔۲:ہر ایک سبب جس مقدار میں بھی حادثہ کے وجود میں آنے میں موثر واقع ہو ا ہو اسی مقدار ضامن بھی ہے اور اس صورت میں جب تاثیر کی مقدار معین نہ ہوتو پہلے مورد اطمینان ماہر کی طرف رجوع کیا جائے گا، اگر پھر بھی مشخص نہ ہوسکے، خسارت کو ان کے درمیان بطور مساوی تقسیم کیا جائے گا۔
جواب:۔ دوسرے طریقہ کو تورک کہتے ہیں اور اس کو مستحبات میں شمار کیا گیا ہے ۔