سکہ او رکرنسی نوٹ سے نجاست کے سرایت کرنے کا حکم
ایسے نوٹ یا سکے جو لوگوں کے درمیان رد وبدل ہوتے رہتے ہیں کیا ان پر گیلا ہاتھ لگنے سے ہاتھ نجس ہوجائے گا؟
جواب: جب تک نجاست کا یقین حاصل نہ ہو جائے پاک ہے۔
جواب: جب تک نجاست کا یقین حاصل نہ ہو جائے پاک ہے۔
جواب:۔ اگر مقصود یہ ہے کہ ” یوم کی “ یاء کے تلظ میں ، پیش کی بو آتی ہے تو کوئی حرج نہیں ، اس لئے کہ عرب حضرات بھی اس جگہ پر اسی طرح تلفظ کرتے ہیں لیکن اگر صراحت کے ساتھ یاء کوکو پیش کے ساتھ پڑھے تو اشکال ہے التبہ اگر جاہل قاصر ہے تو کوئی حرج نہیں ہے
اگر چیک یا یة ایک معتبر شخص کی جانب سے ہو تو اس کو وثیقہ کے عنوان سے قبول کیا جا سکتا ہے۔
اگر اس کے بالغ ہونے میں زیادہ وقت ہو تو کافی حد تک ضمانت لے کر قاتل کو قید سے رہا کردیا جائے گا ۔
اگر توریہ کے ذریعہ گردن خلاصی کا امکان ہو تو احتیاط یہ ہے کہ اس راہ کو استعمال کرے ۔
اگر مظالم مثلی ہوں جیسے گیہوں، جو وغیرہ تو دونوں فریق کے توافق کی صورت میں سامان یا پیسے کو موجودہ زمانہ کے حساب سے ادا کرے گا اور اگر مثلی نہ ہو تو جیسے مختلف قسم کے حیوانات ہوں تو ان کی قیمت کو گزشتہ زمانہ کے حساب سے ادا کرے گا۔
جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو مارنے سے پرہیز کیا جائے اور ضرورت کے وقت اس کے ولی کی خاص یا عام اجازت سے ایسا کیا جائے۔ البتہ ایسا کام نہ کریں جس سے دیت واجب ہو جائے اور چونکہ مارنے کے منفی اثرات زیادہ ہیں لہذا اس سے پرہیز کیا جائے۔
جواب: اگر تقسیم کرلی گئی ہے اور اس پر سب راضی ہیں تو اسی تقسیم کے مطابق عمل کریں اور ہر شخص کا حصّہ وہاں پر رائج اور مشہور کے مطابق ہے ۔
اگر علاج انہیں دواوں پر منحصر تھا تو انہیں تجویز کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ البتہ مریض کو ساری باتیں بتا دینی چاہیے اور اس کی رضایت حاصل کر لینی چاہیے ۔
جواب: جنین کے قتل عمد کے لئے قصاص نہیں ہے، بلکہ فقط دیت ہے ؛ لیکن و ارثین جنین کی دیت لینے کے بعد ایک کامل دیت کی آدھی کو ماں کے قتل کے سبب قتل کرنے والے کے وارثین کو ادا کرکے اس کو قصاص کرسکتے ہیں ۔
اگر کوئی شخص کہ جس کو مصالحت کے طور پر مال دیا گیا ہے، مقررہ شرائط پر عمل نہیں کرتا، تو وہ خاتون مصالحت کے معاملہ کو فسخ کرسکتی ہے اور اگر وہ خاتون دنیا سے گذرجائے اور وہ شخص طے شدہ شرائط کے مطابق اخراجات ادا نہ کرے تب وارثوں کو مصالحت کے معاملہ کو فسخ کرنے کا حق ہے، وہ لوگ فسخ کرسکتے ہیں ۔
اگر صحیح عربی صادق آتی ہے تو اشکال نہیں ہے؛ اگرچہ قواعد وتجوید کے موافق نہ ہو۔
جواب :۔ چونکہ شہرہ جدہ کی محاذات ، کسی بھی میقات سے ، ثابت نہیں ہے ، احرام باندھنے کے لئے میقات یا میقات کے محاذات پر جانا چاہےئے اور اگر دونوں میں سے کوئی بھی ممکن نہ ہو تو احتیاط کے طور پر نذر مان کر محرِم ہو جائے اور پھر اس کے بعد احتیاط کی بناپر حرم کے شروع میں دوبارہ نئے طریقہ سے احرام باندھے۔