نماز ا?يات کي نيت اس صورت ميں جب مکرر حوادث پيش ا?تے ہيں
مسئلہ ۱۲۸۹ : ضروری نہیں ہے کہ نماز میں یہ بھی معین کرے کہ کس چیز کے لئے نماز آیات پڑھ رہا ہے بلکہ صرف یہ نیت کرلینا کافی ہے کہ مجھ پر جو واجب ہے اس کو ادا کررہا ہوں۔
مسئلہ ۱۲۸۹ : ضروری نہیں ہے کہ نماز میں یہ بھی معین کرے کہ کس چیز کے لئے نماز آیات پڑھ رہا ہے بلکہ صرف یہ نیت کرلینا کافی ہے کہ مجھ پر جو واجب ہے اس کو ادا کررہا ہوں۔
مسئلہ ۱۳۰۰ : نماز آیات میں پہلی رکعت ایک طریقہ سے اور دوسری رکعت دوسرے طریقہ سے بھی پڑھ سکتا ہے۔
مسئلہ ۱۳۱۹ : نیت کے لئے کوئی معین وقت نہیں ہے بلکہ اذان صبح سے پہلے پہلے جس وقت چاہے نیت کرے۔ بلکہ اگر وہ سحری کے لئے اٹھے اور اس سے پوچھا جائے تمہاراکیا مقصد ہے؟ اور وہ کہدے کہ روزہ رکھنے کا ارادہ ہے ،تو یہی کافی ہے۔
مسئلہ ۱۳۲۰ : مستحبی روزہ کی نیت پورے دن میں کسی بھی وقت کی جاسکتی ہے یہاں تک کہ اگر مغرب میں تھوڑا سا وقت باقی ہے اور اس نے ابھی تک کوئی ایسا کام نہیں کیا جو روزے کو باطل کردیتا ہے تومستحبی روزے کی نیت کرسکتا ہے اور اس کاروزہ صحیح ہے۔
مسئلہ 1329 : رمضان کے علاوہ اگر کوئي دوسرا معين روزہ کسي پر واجب ہو (مثلا نذر کي ہو کہ فلاں معين دن روزہ رکھوں گا) اور وہ عمدا اذان صبح تک نيت نہ کرے تو روزہ باطل ہے ہاں اگر بھولے سے ايسا ہوجائے اور ظہر سے پہلے ياد آجائے تو نيت کرسکتا ہے.
مسئلہ ۱۳۳۷: (سحری) کھاتے وقت اگر معلوم ہوجائے کہ صبح ہوگئی تو جو کچھ منہ میں ہو اُگل دے اور اگر عمدا نگل لے تو اس کا روزہ بھی باطل ہے اور کفارہ بھی واجب ہے۔مسئلہ ۱۳۳۸: بھول کرکھانے پینے سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
مسئلہ 1349: اگر مني نکلتے وقت روزہ دار جاگ جائے تو مني روکنا واجب نہيں ہے.
مسئلہ ۱۳۵۰: جس روزہ دار کو احتلام ہوا ہودہ پیشاب بھی کر سکتا ہے اورپیشاب کے بعد استبراء بھی، چاہے اس کو علم ہو کہ استبراء کرنے سے (یا پیشاب کرنے سے) پیشاب کی نلی میں باقی ماندہ منی نکل آئے گی۔ بلکہ اگر غسل بھی کرلیا ہوتو اس کام سے اس کے روزہ کو کوئی ضرر نہیں پہونچے گا۔ اگر چہ باقی ماندہ منی نکلنے کے بعد اس کو دوبارہ غسل کرنا ہوگا۔
مسئلہ 1351: جس روزہ دار کو احتلام ہوا ہے اگر وہ جانتا ہے کہ غسل سے پہلے پيشاب نہ کرنے کي صورت ميں غسل کے بعد مني باہر اجائے گي تو بہتر ہے کہ پہلے پيشاب کرلے اگرچہ واجب نہيں ہے.
مسئلہ 1352: اگر روزہ دار مني نکالنے کے ارادہ سے استمناء کرے تو اس کا روزہ باطل ہے چاہے مني نہ بھي نکلے.
مسئلہ ۱۳۵۵: اگر کوئی ایسی روایت نقل کرنا چاہتا ہے جس کے سچ یا جھوٹ ہونے کا علم نہیں ہے تو جس سے اس روایت کوسناہے یا جس کتاب میں پڑھاہے اسکا حوالہ دیدے مثلا فلاں رادی نے یہ کہا ہے یا فلاں کتاب میں یہ لکھا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا۔
مسئلہ ۱۳۵۶: اگر روزہ دار کسی بات کے بارے میں اعتقاد رکھتا ہوکہ وہ واقعی قول خدا یا قول پیغمبر[ص] ہے اور اسے اللہ تعالے یا نبی اکرم [ص]سے منسوب کرکے بیان کردےاور بعد میں معلوم ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو اس کا روزہ صحیح ہے اس کے برعکس اگر کسی بات کے بارے میں جانتے ہوئے کہ جھوٹ ہے خدا یا رسول اکرم کی طرف نسبت دے اور بعد میں اسے پتہ چلے کہ جو کچھ اس نے کہا تھاوہ درست تھا تو اس کے روزہ میں اشکال ہے۔