پہلے سونے سے مراد
مسئلہ 1379: جس نيند ميں احتلام ہوا ہودہ پہلي نيند شمار نہيں ہوگي ليکن اگر اس نيند سے بيدار ہوکر پھر سوجائے تو وہ پہلي نيند شمار ہوگي.
مسئلہ 1379: جس نيند ميں احتلام ہوا ہودہ پہلي نيند شمار نہيں ہوگي ليکن اگر اس نيند سے بيدار ہوکر پھر سوجائے تو وہ پہلي نيند شمار ہوگي.
مسئلہ 1381: اگر کوئي رمضان ميں صبح کي اذان کے بعد بيدار ہو اور ديکھے کہ اسے احتلام ہوگيا ہے تو اس کا روزہ صحيح ہے خواہ وہ جانتا ہو کہ صبح کي اذان سے پہلے احتلام ہوا ہے يا صبح کي اذان کے بعد يا اس کو شک ہو.
مسئلہ ۱۳۸۲: جو شخص ماہ رمضان کے روزہ کی قضا رکھنا چاہتا ہوا گروہ صبح کی اذان کے بعد بیدار ہوا ور دیکھے کہ اسے احتلام ہوگیا ہے اور وہ جانتا ہوکہ احتلام صبح کی اذان سے پہلے ہواہے تو اگر روزے کی قضا کا وقت تنگ نہ ہو تو بناء بر احتیاط واجب دوسرے دن روزہ رکھے اور اگر وقت تنگ ہو مثلا اس کے ذمہ پانچ دن کے قضا روزے ہوں اور رمضان میں پانچ دن سے زیادہ باقی نہ ہوں تو پھرا سی دن روزہ رکھے اور اس کا روزہ صحیح ہے۔
مسئلہ 1383: اگر عورت رمضان ميں صبح کي اذان سے پہلے حيض يا نفاس سے پاک ہوجائے اور غسل کے لئے وقت نہ ہو تو تيمم کرلے اس کا روزہ صحيح ہے اور اگر غسل و تيمم دونوں ہي کے لئے وقت نہ ، ہوتو بعد ميں غسل کرے اس کا روزہ صحيح ہے.
مسئلہ ۱۳۸۴: اگر عورت صبح کی اذان کے بعد حیض یا نفاس سے پاک ہوتو (اس دن کا) روزہ نہیں رکھ سکتی اسی طرح اگر دن میں حیض یا نفاس کا خون دیکھے چاہے وہ مغرب کے قریب ہوپھر بھی روزہ نہیں رکھ سکتی۔
مسئلہ ۱۳۸۵: اگر عورت صبح کی اذان سے پہلے حیض یا نفاس سے پاک ہوجائے مگر غسل کرنے میں کوتاہی کرے تو بناء بر احتیاط واجب اس کا روزہ باطل ہے لیکن اگر کوتاہی نہ کرے مثلا حمام کھلنے کی منتظر ہویا حمام کا پانی گرم ہونے کے انتظار میں ہو اور صبح کی اذان تک غسل نہ کرسکے تو اگر تیمم کرلیاہے تو اس کا روزہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۳۸۶: جو مستحاضہ کثیرہ عورت اپنے غسل کو۔ احکام استحاضہ میں بیان کی گئی تفصیل کے مطابق۔ بجالائے اس کا روزہ صحیح ہے۔
مسئلہ 1387: جس کسي نے ميت کو چھوا ہو، او ر اس پر غسل مس ميت واجب ہو وہ غسل مس ميت کئے بغير روزہ رکھ سکتاہے بلکہ روزہ کي حالت ميں اگر مردہ کو چھولے تب بھي روزہ باطل نہيں ہوگا البتہ نماز کے لئے غسل کرنا ہوگا.
مسئلہ ۱۳۹۰: اگر رات میں ایسی چیز کھائے جس کے بارے میں معلوم ہو کہ دن میں بے اختیار قے ہوجائے گی تو اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔ لیکن احتیاط مستحب ہے کہ ایسا کام نہ کرے اور اگر کرے تو پھر روزے کی قضا بھی کرے۔
مسئلہ 1391: زبر دستي قے روکنے کي کوشش کرنا روزہ دار پر واجب نہيں ہے البتہ اگر مضر اور تکليف کا باعث نہ ہو توروک لے.
مسئلہ ۱۳۹۲: اگر غذا کا کوئی چھوٹا ساٹکڑا یا مکھی و غیرہ بے اختیار روزہ دار کے گلے میں اتنی اندر چلی جائے کہ اس کو باہر نہ نکالا جاسکے تو اس کا روزہ صحیح ہے اور اگر باہر نکال سکتاہے تو نکال دے کیوں کہ باہر نکالنا روزے کو کوئی نقصان نہیں پہو نچاتا بلکہ اگر اس صورت میں نگل لے تو روزہ باطل ہوگا۔
مسئلہ 1393: اگر يقين ہوکہ ڈکار لينے سے کوئي چيز گلے سے باہراجائے گي جس کو قے کرنا کہاجاتا ہے تو جان بوجھ کرڈکار نہ لے ہاں اگر يقين نہ ہو تو کوئي حرج نہيں ہے اور اگر ڈکار لينے سے بے اختياري طور پر کوئي چيز گلے يا منہ ميں اجائے تو اس کو باہر تھوک دے اور اگر جان بوجھ کر نگل لے تو روزہ باطل ہوجائے گا البتہ اگر غير اختياري طور سے پيٹ ميں چلي جائے تو کوئي اشکال نہيں ہے.