قتل عمد میں حقِ قصاص کا مالک
قتل عمد میں حق ِ قصاص کا مالک کون ہے؟ مجنی علیہ (مقتول) یا اولیاء دم (وارثین)
مجنی علیہ حقِ قصاص کا مالک ہے اوریہ حق اس سے ورثہ کی طرف منتقل ہوتا ہے۔
مجنی علیہ حقِ قصاص کا مالک ہے اوریہ حق اس سے ورثہ کی طرف منتقل ہوتا ہے۔
قسامہ ایک قاضی کے حضور میں کامل طور سے جاری ہونا چاہیے۔
طفل اور مجنون کے مورد میں قسامہ جاری ہے اور اگر حیوان کے مورد میں تسبےب کا پہلو رکھتا ہو تو وہاں بھی قسامہ جاری ہوسکتا ہے۔
ایک جلسہ میں قسامہ کا جاری کرنا میں مشکل نہیں ہے اور اس کا ثبت کرنا ایک سادہ کام ہے، لیکن اگر بالفرض میسر نہ ہو تو دو یا چند نزدیکی جلسوں میں انجام دینا کوئی مانع نہیں رکھتا، بشرطیکہ مدعی بہ حسب معمول ان کے جمع کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔
جواب : فقط ایک شخص کی شہادت پر جس صورت میں آپ نے اوپر ذکر کی ہے، لوث(شک) ثابت نہیں ہوتا جزئی نقصانات میں بھی ( جیسے انگلی کے ایک پورے پر بھی جنایت کا وارد ہونا) قسامہ کا حکم جاری ہوتا ہے۔
قسامہ عورت نہیں ہوسکتی، اسی وجہ سے اگر بہ تعداد کافی مرد نہ ہوں تو قسم کی تکرار کریں۔
قسامہ کا تقاضا بچہ کے ولی کی طرف سے ہوگا اور قسامہ کے ہی احکام جاری ہونگے۔
1. مدعی قسم کو مدعیٰ علیہ (ملزم) کی طرف پلٹا سکتا ہے ، اس صورت میں ۵۰/ قسمیں ملزم کے ذمہ ہیں۔2.قاعدہ ”البینة علی المدعی و الیمین علیٰ من انکر“ شاہد لانا مدعی کے اوپر اور قسم کھانا منکر (ملزم) کے ذمہ ہے یہاں پر یہ قاعدہ جاری ہوگا ۔3.اس فرض میں دیت کسی پر بھی نہیں ہے۔
جواب : اگرعورتوں کی ایک مورداعتماد جماعت شہادت دے تو لوث ثابت ہوجاتا ہے۔
اس مسئلہ میں انفراد شرط نہیں ہے۔
جواب : وارث فعلی شرط نہیں ہے، یہاں تک کہ اگر قوم وقبیلہ کے افراد بھی ہوں تو بھی کوئی مانع نہیں ہے۔