تجارتی شہرت اور اعتبار کی فروخت
اگر کوئی شخص محنت انتھک کوشش اور بازار میں بہترین جنس پیش کرکے شہرت اور اعتبار حاصل کرلے اور اعتبار حاصل ہونے کے بعد آسانی سے اپنی چیزوں کو فروخت کرے، کیا اس اعتبار کو دوسرے آدمی کے ہاتھوں فروخت کرسکتا ہے؟مسئلہ کا جواب درج ذیل دو فرضوں میں بیان فرمائیں:الف) اپنا کچھ سرمایہ دوسرے آدمی کو دیدے، البتہ اپنے اعتبار کی خاطر دوسرے ممالک میں عام قیمت سے زیادہ قیمت میں فروخت کرے ۔ب) فقط اپنا اعتبار (نام) فروخت کرے، یعنی دوسرے آدمی کو اجازت دیدے کہ وہ اپنی جنس اور اشیاء کو اس کے نام اور عنوان سے فروخت کرے اور اس اجازت کے عوض کچھ رقم اس سے وصول کرلے ۔
الف) اور ب): دونوں صورتوں میں جائز ہے ۔
بیوی کا دینی احکام کی پابندی نہ کرنا
اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو دینی اور شرعی امور کا پابند نہ بنائے تو کیا وہ فاسق حساب کیا جائے گا؟
اگر وہ اسے نہی عن المنکر کر سکتا ہے اور نہیں کرتا تو فاسق ہے۔
گناہ آلود ماحول سے ہجرت کرنا
شہر تہران میں فحشا وفساد اور منکرات یا بدحجابی عام ہوگئی ہے، اور افسوس کہ حکومت کے عہدہ داران خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، میں دوران بلوغ ہی سے اجتماعی اور خصوصاً دینی لحاظ سے تہران کے ماحول سے متنفر ہوں اور مجھ میں اس کے برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہے، قرآن مجید کے سورہٴ مبارکہ نساء کی آیت نمبر ۱۰۰ میں خداوندعالم کے سخت حکم کو مدّنظر رکھتے ہوئے کیا مناسب نہیں ہے کہ اپنے آپ کو اس فحشاء وفساد سے محفوظ رکھنے کے لئے مقدس شہروں جیسے قم یا مشہد کی طرف ہجرت کرجاؤں، تاکہ جلد از جلد روحی عذاب سے نجات حاصل کرلوں؟
اگر آپ دین اور ایمان کی حفاظت کے لئے ہجرت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں پاتے ہیں تو اس صورت میں آپ کا ہجرت کرنا ایک ضروری اور بہتر کام ہوگا؛ لیکن اس کام کوزیادہ مطالعہ کے ساتھ اور ماں باپ کی رضایت سے انجام دیں ۔
طواف میں انسان کا مختون نہ ہونا
طواف میں انسان کا ختنہ شدہ ہونا شرط ہے اس بناپر اگر کسی شخص کا ختنہ تو ہوگیا ہے لیکن ناقص ہوا ہے یعنی مکمل طور پر نہیں بلکہ کچھ مقدار میں حشفہ خارج ہوتا ہے اور نعوض ( ایستادگی ) کی حالت میں کامل طور پر خارج ہو جاتا ہے کیا اس شخص کو ختنہ شدہ لوگوں میں شمار اور اس کا طواف صحیح ہو گا ؟ اگر ختنہ شدہ لوگوں میں شمار نہ ہو اور طواف کے لئے اس پر دوبارہ ختنہ کرانا لازم ہو اور وہ شخص سن ر سیدہ ہونے کیوجہ سے ختنہ کرانے سے شرمائے تب طواف کے متعلق اس کا کیا وظیفہ ہے ؟
جواب:۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ ختنہ کرانے کے بعد طواف اور اس کی نماز کو دوبارہ پڑھے اور اسی طرح سعی کا بھی اعادہ کرے اس طرح کے مسائل میں شرم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے خفیہ طور پر آگاہ ڈاکٹر کے پاس جاکر ختنہ کراسکتا ہے لیکن اس حالت میں طلاق دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
زناء عنف (زنابالجبر) کا حکم
تعذیرات اسلامی کے مادّہ ۸۲ کے بند ”د“ کے مطابق زناء عنف موجب قتل ہوتاہے اورآپ جانتے ہیں کہ اکراہ اور اجبار میں فرق پایاجاتا ہے ، اس لئے کہ اکراہ اس وقت محقق ہوتا ہے جب مکرَہ شخص ، فعل کو انجام دینے کا ارادہ تو رکھتا ہو، لیکن دل سے راضی نہ ہو، جبکہ اجبار میں فعل کو انجام دینے کا ارادہ بھی نہیں ہوتا، التماس ہے کہ زناء مکرَہ کے بارے میں فرمائیں:الف) کیا ایسی عورت کے ساتھ زنا جو مستی کی حالتمیں ہو، یا خواب آلودہ ہو، یا بیہوش ہو، یا زنا کی حلّیت کی معتقد ہوزنا کرنا اکراہ کے مصادیق میں سے ہیںکہ زانی پر قتل کا حکم لگایا جائے؟ب) کیا اس صورت میںجب زانی، زانیہ کو زنا کے لئے مست یا بیہوش کرے اور اس صورت میں جب زانی کا زانیہ کے مست یا بیہوش کرنے میں کوئی کردار نہ ہو کوئی فرق پایا جاتا ہے؟ج) کیا عنف (زور زبردستی) سے مراد، نارضایتی کا اظہار ہے، یا راضی نہ ہونا ہے۔
جواب: الف سے ج تک: اس صورت میں جب عورت زنا کے لئے حاضر نہیں تھی، لیکن مرد نے مستی یا بیہوشی یا سونے کی حالت میں ، اس پر تجاوز کیا، زناء عنف شمار ہوتا ہے اور سزائے موت کا حکم رکھتا ہے نیز اس مسئلہ میں زانی کے زانیہ کو مست یا بیہوش وغیرہ کرنے کے اقدام وعدم اقدام میں کوئی فرق نہیں ہے ، یہ روایات میں زنائے عنف سے تعبیر نہیں ہوا ہے، بلکہ غصب سے تعبیر ہوا ہے جو ان تمام موارد پر صادق آتا ہے۔
مستحبات کے ترک کرنے میں باپ کی اطاعت
کیا مستحب کے ترک کرنے یا مکروہ کو انجام دینے میں باپ کی اطاعت واجب ہے؟
اگر ان کی مخالفت ان کی ایذاء کا سبب ہو تو وہ واجب الاطاعة ہیں ۔
شعر کی صورت میں قرآن کا ترجمہ
یہ فرمائیں کہ اگر کوئی ادارہ قرآن کو فروغ دینے اور نظم و شعر کے عمیق اثرات کے پیش نظر اسے طبع کرنا چاہے تو آپ کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟
اگر بقیہ اشعار بھی اس جیسے یا اس سے بہتر ہوں اور اس کے مضامین کسی علمی گروہ کے ذریعہ چیک ہونے کے بعد اس پر لکھے گیے مقدمہ میں یہ بات لکھی جائے کہ یہ ترجمہ آزاد ہے بلکہ ترجمانی ہے تو اس کی طباعت میں کوئی حرج نہیں ہے۔
ہدیہ تحفہ اور وقف کی ناقابل استعمال چیزوں کا قبول کرنا
جو چیزیں مسجد میں دینا چاہتے ہیں ، (وقف کریں یا ملکیت میں دیں یعنی مسجد کو مالک بنادیں) اگر وہ چیزیں پرانی ہوں یا مناسب نہ ہوں یا اس وقت ان کا استعمال رائج نہ ہو یا خراب ہوگئی ہوں کیا ان صورتوں میں اس طرح کی چیزوں کو مسجد میں قبول کرنے سے منع یا انکار کیا جاسکتا ہے؟
جواب: مسجد کے لئے ہدیوں اور تحفوں کو قبول کرنا واجب نہیں ہے لیکن اگر وقف کردیا گیا ہو یا مسجد کو اس چیز کا مالک بنادیا گیا ہو تو اپنے وظیفہ کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
مسجد کی تیسری منزل کے مامومین کا اقتداء کرنا
جن لوگوں نے مسجد کی تیسری منزل پر( پہلی منزل کی ) جماعت کےساتھ نماز پڑھی ہے ، ان کی نما ز کا کیا حکم ہے َ
جواب:،۔ اگر وہ جماعت پہلی منزل پر منعقد جماعت کے ساتھ ایک ہی جماعت شما ر ہوتی ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
حد اور تعذیر میں تداخل
اگر کوئی شخص زناء غیر محصنہ کے الزام میں گرفتار ہو اور اقرار کے تیسرے اور چوتھے مرحلے میں عدول کرنے کی وجہ سے اس کے لئے تعذیر کا حکم منظور ہوجائے جبکہ اسی دوران ، عدالت کے دوسرے شعبہ میں مذکورہ جرم میں اس شخص کو حد کی سزا ہوجائے ، مسئلہ کا حکم شرعی کیا ہے؟
جواب: اگر دوسرے مورد میں اس پر حد کا حکم ثابت ہوتو تو تعذیر ساقط ہوجائے گی۔
گندہ پانی کا دریا اور نہروں میں گرانا
نہروں، تالابوں اور دریا میں کوڑا کرکٹ، گندگی اور گندا پانی پھینکنا جو پانی کے جانوروں کو نقصان پہچانے کے ساتھ ساتھ ماحول، فضا اور طبیعت کو آلودہ کرنے کا سبب ہے، کا کیا حکم ہے؟
دریا، ندی اور نہر کا آلودہ کرنا اس حد تک کہ اس کے جانور ہلاک ہو جائیں، جس کے نتیجہ میں لوگوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے، جایز نہیں ہے۔
ورزش کے لئے مسجد کے تہہ خانہ کا استعمال
شہر کرج کے حیدرآباد نامی مقام پر ایک زمین مسجد کے لئے وقف کی گئی تھی لوگوں نے مسجد بنانے کی نیت سے مدد کی پہلے اس مسجد کے سرداب میں نماز ہوتی تھی اب سرداب کے اوپر مسجد بن گئی ہے اور سرداب میں مسجد کا سامان رکھاجاتا ہے نیز اسی سرداب میں محرم اور سفر کے مہینوں میں امام حسین کے عزاداروں کو کھانا کھلایا جاتا ہے معذور حضرات اس میں داخل نہیں ہو سکتے کیا اس سرداب میں جوانوں اور نوجوانوں کے ورزش کرنے کے لئے ورزشگاہ بنائی جاسکتی ہے اور اس کی درآمد کو مسجد میں خرچ کیا جا سکتا ہے ؟
جواب: جائز نہیں ہے بلکہ اس سرداب کو مسجد یا مسجد سے مناسب کاموں کے لئے استعمال کیا جا ئے ۔
ہبہ شدہ مکان پر خمس
میرے والد محترم نے مجھے ایک گھر دیا ہے اور کچھ رقم میں نے بھی اس گھر پر خرچ کی ہے کیا مذکورہ گھر پر خمس ہے ؟
جواب:۔ اگر وہ گھر جو آپ کو آپ کے والد نے عطا کیا ہے سکونت کے لئے ضروری تھا تو خمس نہیں ہے لیکن احتیاط یہ ہے کہ جو رقم آپ نے گھر کے کام میں لگائی ہے اس کا خمس ادا کریں نیز اپنے والد کے کام کو صحیح ہونے پر حمل کریں اور کہیں کہ ان شاء اللہ ان کا عمل صحیح تھا ۔

