ہڈی کے ٹوٹنے سے چلنے میں نقص آجانا
ہڈی ایسے ٹوٹی ہے کہ پیدل چلنے میں بھی نقص آگیا ہے؛ کیا مربوطہ ہڈی کے ٹوٹنے کے علاوہ اس نقص کے لئے ارش بھی معین کیا جاسکتا ہے؟
جواب: احتیاط واجب یہ ہے کہ منفعت میں نقص ہوجانے کی وجہ سے ارش بھی ادا کیا جائے۔
جواب: احتیاط واجب یہ ہے کہ منفعت میں نقص ہوجانے کی وجہ سے ارش بھی ادا کیا جائے۔
جواب : فقط ایک شخص کی شہادت پر جس صورت میں آپ نے اوپر ذکر کی ہے، لوث(شک) ثابت نہیں ہوتا جزئی نقصانات میں بھی ( جیسے انگلی کے ایک پورے پر بھی جنایت کا وارد ہونا) قسامہ کا حکم جاری ہوتا ہے۔
جواب : اگروہ تھیلی ساتھ میں لگی ہے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر بدن نجاست سے آلودہ ہوجاتا ہے تو اس صورت میں اگر اس کے لئے عسر و حرج یعنی مشقت کا باعث نہ ہو تو بدن کو پاک کرے اور اگر مشقت کا باعث ہے تو اسی حالت میں نماز پڑھ لے ۔
جواب: اس جہت سے اشخاص مختلف ہیں ؛ گوشت کے بقدر کافی نہ ہوئے کی صورت میں ”ملتحمہ“ یا اس کے مانند کوئی اور زخم قابل تصور نہیں ہے ، لیکن ”سمحاق“اور ”موضحہ“ جیسے زخم قابل تصور ہو سکتے ہیں ۔
جواب :جی ہاں ، لیا جاسکتا ہے ۔
اگر بالغ اولیاء قصاص کرنا چاہتے ہیں تو (دیت میں سے) نابالغوں کا حصہ ان کے سرپرست کو دیدیں ۔
جواب: ہر صورت میں اس کا حکم سزائے موت ہے۔
بعض مواقع پر، دوسروں کو گالیاں دینے کی تعزیری سزا ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں اس کی سزا حد قذف (۸۰کوڑے) ہوتی ہے جو حاکم شرع کے ذریعہ دی جاتی ہے ۔
ایسے لوگوں کی ہمنشینی ترک کرنا بہتر ہے اور اگر شک قوی ہو تو ان کی صحبت ترک کرنا واجب ہے۔
جواب: جائز نہیں ہے مگر یہ کہ ہاسپیٹل کے ذمہ داران، تمام اسٹاف اور کارکنان کو کسی مصلحت کے تحت ایسا کرنے کی اجازت دے دیں۔
جواب :۔ ہمارے زمانے میں عنوان ثانوی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ، نماز جمعہ میں خواتین کی شرکت بہتر ہے ۔
جواب: شاکی کو عدالت میں شکایت کرنے کا حق ہے ، چنانچہ اپنے دعوے کو شرعی دلیل سے ثابت کرسکتا ہوتو حاکم ، مقدس شریعت کے قوانین کے مطابق اپنے وظیفہ پر عمل کرے اور قاضی اس جیسے موارد میں شاکی کے حق کوثابت کرنے کی خاطر لازمی تحقیقات انجام دے اور چنانچہ مقدمات حسی یا حس کے قریب مقدمات سے اس کو علم ہوجائے، اس کا علم حجت ہے۔
جواب: اگر کاری گر مشین کے نواقص سے با خبر نہ ہو اور مالک نے اطلاع رسانی میں کوتاہی کی ہو تو مالک ذمہ دار ہے اور اگر کاری گر کو اطلاع تھی اور اس کے باوجود اس کام پر اقدام کیا، دیت خود اسی کے اوپر ہے، مگر یہ کہ کام کا قانون جس کی بنیا د پر نوکری محقق ہوئی تھی، اس طرح کے موارد میں مالک کا وظیفہ جانتا ہو۔
جواب: اس صورت میں جب کہ اس کی مشینری معیوب اور خطرناک تھی اور اس نے نہیں بتایا، کارواش کا مالک ذمہ دار ہے، واگر یہ کام کنڈیکٹر کی ناآگاہی کے اثر میں واقع ہوا ہے تو خود وہی ذمہ دار ہے۔
جواب: ظاہر یہ ہے کہ دونوں مشترک طور پر دیت کے ضامن ہیں اور ذمہ داری کی مقدار کو معین کرنے کے لئے ہر ایک متدین فنّی ماہرینکی خدمات حاصل کریں ، شک کی صورت میں دونوں شخص آپس میں مصالحہ کرلیں، بہرحال یہ قتل خطاء میں سے نہیں بلکہ شبہہ عمد ہے۔