سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

اسماء مبارک کا محو کرنا

ایسے مجلات اور اخبارات جن میں قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں، ان کی حفاظت اور انہیں اپنے پاس جمع کرنا یا رکھنا ممکن نہیں ہے، ان کے ساتھ کیا کیا جائے؟

انہیں کہیں دفن کیا جا سکتا ہے یا کسی دریا میں ڈالا جا سکتا ہے یا کسی ایسے مرکز کے حوالے کیا جا سکتا ہے جو انہیں پیس کر ان دوسری مفید اشیاء بناتے ہیں۔

دسته‌ها: اسماء متبرکه

تمام اولیاء دم (وارثین) کا صغار ہونا

جب تمام اولیاء دم (وارثین) صغیر ہوں تو تکلیف کیا ہے؟

صبر کی مصلحت کی صورت میں صبر کرنا چاہیے اور قاتل کو ، ضمانت لے کر اور بچوں کی کفالت کی شرط پر آزاد کردیں تاکہ بچے بڑے ہوکر خود فیصلہ کریں اور اگر ولی مصلحت دیکھے (کہ غالباً مصلحت اسی میں ہے) تو دیت لے لے۔

قافلہ کے خادموں کی استطاعت

حج کے قافلوں میں جو خادم حضرات ، حجاج کی خدمت کے لئے جاتے ہیں ،اپنی مالی حیثیت اور استطاعت کو مد نظر رکھتے ہوئے ، جو اُن میں نہیں پائی جاتی ، مناسک حج کیسے انجام دیں کیا ان کے لئے واجب کی نیت کرنا ضروری ہے ؟

جواب:۔ قافلوں کے خادم صاحب استطاعت ہیں (اس شرط کے ساتھ کہ وہ لوگ حج کی مدت کے دوران ، اپنے بیوی بچوں کا نان و نفقہ ، رکھتے ہوں )ان پر واجب حج کی نیت کرنا ضروری ہے ، اور اگر وہ پہلی مرتبہ جارہے ہیں تو کسی کی نیابت کے قصد سے حج نہیں کرسکتے اور اسی طرح وہ شخص بھی جو دوسرے کی مدد کرنے کے عنوان سے ، حج کرنے گیا ہے ۔

دسته‌ها: استطاعت

کوڑے کو پانی کی نالی میں ڈالنا

فاضل چیزوں (جیسے سڑے گلے پھل، گتّے کے ڈبّے کاغذ وغیرہ) کو نالی میں پھینکنے کا کیاحکم ہے؟

مذکورہ چیزوں بلکہ ہر اس چیز کا پانی کی نالی میں پھینکنا جو لوگوں کے ضرر اور نقصان کا باعث ہو جائز نہیں ہے اور بہتر ہے کہ ان چیزوں کو اس جگہ پھینکا جائے جو اس کام کے لئے بنائی گئی ہے۔

دسته‌ها: فضا اور طبیعت

پانی کا حد سے زیادہ استعمال

ہمارے ملک میں میٹھے اور پینے کے پانی کے محدود منابع اور ذخایر کو دیکھتے ہوئے، اس کا بیجا اور غیر ضروری استعمال کیا حکم رکھتا ہے؟

پانی چاہے پینے کا ہو یا کھیتی کے استعمال کا اس کا بیجا استعمال کسی بھی زمانہ میں جایز نہیں ہے، اللہ کی اس عظیم نعمت میں سب کو بچت کرنا چاہیے اور اصراف اور زیادہ روی سے بچنا چاہیے۔

دسته‌ها: اسراف

کرایہ کی رحم

کسی عورت کا رحم کسی سبب کی بناء پر حمل کے ٹھرنے کے قابل نہیں ہے، حمل اس میں ساقط ہو جاتا ہے ۔ اس کے اور شوہر کے نطفہ کو مشین میں جمع کرکے کسی ایسی عورت، جس کا شوہر نہیں ہے، اور جسے جانشین ماں (سروگیٹ مادر) کہا جاتا ہے، اس کے رحم میں منتقل کرنے کا کیا حکم ہے؟ جس میں بچہ رشد کرتا ہے اور معین وقت پر پیدا ہوتا ہے، اس کے بدلہ میں وہ جانشین ماں پیسا لیتی ہے اور بچہ ان کے والدین کے حوالہ کرتی ہے، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب: بذات خود اس کام میں شرعا کوئی قباحت نہیں ہے لیکن اس کے ضمن میں بعض حرام مسائل موجود ہیں جیسے لمس و نظر حرام، لہذا اگر یہ کام کسی محرم کے ذریعہ سے انجام پائے جیسے سوہر خود اپنی اور دو بیویوں میں سے ایک کی منی کو ترکیب دے اور دوسری بیوی کے رحم میں ڈال دے ۔ (اگر چہ وہ بیوی وقتی ہی کیوں نہ ہو) تو یہاں کوئی حرام فعل واقع نہیں ہوگا، اس کے علاوہ کو صورت میں اس کام کے جائز ہونے کے لیے اس کے ضمنی حرام گوشوں پر توجہ کرنا ضروری ہے کہ آیا ایسا کرنا واقعی ضرورت کے تحت ہے یا نہیں؟

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت