سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

مامومین کا لباس نجس ہونا

پہلی صف میں تین شخص جن کا لباس نجس ہے نماز پڑھ رہے ہیں کیا ان کی وجہ سے داہنی جانب نما ز پڑھنے والوں کا، جماعت سے اتصال ختم ہو جاتا ہے ؟

جواب:۔ جب تک کسی شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کا لباس یا بدن نجس ہے اور نماز پڑھ لے تو اس کی نماز صحیح ہے ، اور جماعت کا اتصال بھی بر قرار رہتا ہے۔

نفی بلد (شہر بدری) کے احکام

نقی بلد کے سلسلہ میں ذیل میں دئےے گئے سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں :الف: نفی بلد سے کیا مراد ہے؟ ختم کردینا، تبعید (شہر بدر) کرنا،دائمی آوارہ وطن کرنا ،یا دوسرے معانی؟ب: اگر نفی بلد، شہر بدری کے معنی میں ہو تو کیا مراد ہے، محل تبعید میں زیر نظر رکھنا ہے، یا اس جگہ زندانی کرنا مراد ہے؟ج: اگر زیر نظر رکھنا مراد ہو تو ایسے خاص موارد جن میں شہر بدر کرنا دیگر مفاسد کا باعث ہو(جیسے عورتوں کا شہر بدر کرنا ،اسمنگلروں اور شرور افراد کا شہر بدر کرنا ) کیا شہر بدر کو قید میںبد لا جاسکتا ہے؟د: اگر محارب شہر بدر کی جگہ سے فرار کر جائے ، گرفتاری کے بعد کیا حاکم تبعید کو دوسری چار سزاؤں (نقدی جرمانہ، حبس یا تعذیر) سے بدل سکتا ہے؟ھ: باب زنا میں عورت کے شہر بدری کے جائز نہ ہونے کے حکم کو باب محاربہ کی شہر بدری میں سراےت دیا جاسکتا ہے؟

جواب: الف۔ نفی بلد سے وہ ہی معروف تفسیر یعنی شہر بدرکرنا مراد ہے۔ب:اسی جگہ زیر نظر رکھا جائے ، زندانی کرنے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ج:ان موارد میں جہاں فقط شہر بدر ہی مجرم کی سزا ہے ،اگر راہ حل زندان پر منحصر ہو، اس کو شہر بدری کی جگہ میں قےد کرسکتے ہیں۔د: اس صورت میں جب کہ اس کے فرار کا خطرہ ہو تواس کو محل تبعید میں زندانی کیا جا سکتا ہے ۔ھ: جی ہاں، سراےت دے سکتے ہیں، اس لئے کہ فقہا نے کچھ ایسے دلائل سے استناد کیا ہے کہ جو عمومیت رکھتے ہیں۔

ایسے امام جماعت کی اقتداء کرنا جو دوسرے مجتہد کا مقلد ہے

میں ایک مسجد کا امام جماعت ہوں ، برائے مہر بانی میرے لئے ایک اجازہ مرحمت فرمائیے ؟

جواب:۔ اگر مسجد میں جماعت کرانا آپ کی مرادہے تو اجازہ کی ضرورت نہیں ہے اور اگر کوئی دوسری چیز مقصود ہے تو تحریر کریں تاکہ جواب دیا جائے۔

دسته‌ها: جماعت کےاحکام

خودکشی کا قصد رکھنے والے کو اس سے روکنا

ایک شخص کسی طرح سے خودکشی کرنا چاہتا ہے، اس کے بارے میں ذیل میں دئے جا رہے سوالوں کے احکام بیان فرمائیں:الف۔ کیا اسے خودکشی سے روکنا دوسروں کے لیے واجب ہے؟ب۔ اگر اس شخص کو خود کشی سے روکنا کسی خرچ کا باعث ہو تو ہو کس کے ذمے ہوگا؟ج۔ اگر بچانے والی کی خود کی جان کسی خطرے میں پڑ جائے تو کس اس کا کس حد تک خود کو خطرہ میں ڈالنا صحیح ہے؟د۔ خود کشی کرنے والے کی جان بچانے کے مسئلہ میں، کیا مسلمان، کافر حربی و غیر حربی میں کوئی فرق پایا جاتا ہے؟ھ۔ کیا اس شخص کو خود کشی سے روکنے کے لیے اس کی اجازت کا ہونا ضروری ہے یا نہیں؟و۔ اگر خودکشی والا بچانے والی کی کوشش سے راضی نہ ہو اور بچانے میں اسے کوئی نقصان پہچ جائے تو کیا بچانے والا ضامن ہے؟

جواب: الف تا ج۔ خودکشی سے روکنا ہر مسلمان پر واجب ہے اور اگر اس کے بچانے میں کم ہیسا خرچ ہو رہا ہو تو جان بچانے والے کو خرچ کرنا چاہیے لیکن اگر پیسا زیادہ خرچ ہو رہا ہو تو یا جان کا خطرہ ہو تو اس کے اوپر بچانا لازم نہیں ہے لیکن اگر بیت المال اسے ادا کر سکتا ہو تو اسے ادا کرنا چاہیے ۔د۔ کافر حربی کی جان بچانا لازم نہیں ہے جبکہ کافر ذمی کے بارے میں احتیاط یہ ہے کہ اس کی جان بچانا چاہیے ۔ھ۔ اس کی اجازت کا ہونا ضروری نہیں ہے ۔و۔ اگر اسے بچانے کے راہیں محدود ہوں اور اس میں اسے ضرر پہچ جائے تو اسے بچانے کے لیے ایسا کر سکتا ہے اور ضامن بھی نہیں ہے ۔

دسته‌ها: خود کشی

مسجد میں کافر کا داخل ہونا

جو مسجد یں سڑکوں پر واقع ہےں ، یا بیابانوں اور متروکہ گاؤں دیہاتوں میںبنی ہوئی ہیں اور کسی طرح بھی نماز پڑھنے کے قابل نہیں ہےں ،اور کبھی تو نجس جانور اور نجاست کا مرکز بن جاتی ہےں ،ان مسجدوں کا حکم کیا ہے ؟

جواب : وہ مسجدیں جو سڑکوں پر متروکہ پڑی ہیں اور دوبارہ آباد ہونے کی امید بھی نہیں ہے ، ان میں مسجد ہونے اور وقف ہونے کا حکم زائل ہوجاتا ہے ،اور جس شخص نے ایسا کیا ہے اسے چاہیئے کہ اس مسجد کی قیمت کے برابر رقم دوسری مسجد بنانے یا دیگر تمام مسجدوں کی تعمیر میں خرچ کرے حقیقت میں یہ عین مال کو تلف کرنا ہے ،لیکن جب تک کوئی شدید ضرورت نہ آن پڑے ، مسجد کو گرانا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے اور وہ مسجدیں جوبیابانو ں میں متروکہ ہیں یا گاؤں و دیہاتوںمیں متروکہ پڑی ہوئی ہیں (یعنی ان میں کوئی نماز پڑھنے والا نہیں ہے )ان کو اس طرح محفوظ رکھنا چاہئے کہ ان کی بے حرمتی نہ ہو۔

دسته‌ها: مسجد کے احکام