الکل مشروبات کو اپنے ےہاں رکھنا
آپ کی مبارک نظر میں ، الکلی مشروبات کا رکھنا (اس کی نگہداشت کرنا)کیساہے؟
جواب: حرام ہے اور تعزیر کا باعث ہے ، مگر ان موقعوں پر جب کوئی مھم غرض ہو یا س کو سرکہ میں تبدیل کرنا چاہتے ہوں۔
جواب: حرام ہے اور تعزیر کا باعث ہے ، مگر ان موقعوں پر جب کوئی مھم غرض ہو یا س کو سرکہ میں تبدیل کرنا چاہتے ہوں۔
جواب:۔ ہر طرح کی لذت حرام ہے اور اگر اس مسئلہ کو عمدا ً ترک کرے اور بچہ پیدا ہو جائے وہ بچہ حلا ل زادہ ہے اور اس کو باپ کی میراث بھی ملے گی ۔
جواب:۔ جو شخص معمول کے مطابق اپنے سال بھر کے اخراجات نہیں رکھتا فقیر ہے ۔
جواب:۔ جب تک کسی شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کا لباس یا بدن نجس ہے اور نماز پڑھ لے تو اس کی نماز صحیح ہے ، اور جماعت کا اتصال بھی بر قرار رہتا ہے۔
اگر واقعا تنہائی سے ڈرتی ہو تو اس سال مستطیع نہیں ہو اور اگلے سال تک انتظار کرسکتی ہو ۔
اس جیسے موارد میں حاکم شرع، صغیر کا ولی ہے اور وہ ہی احقاق حق کرے گا۔
جواب:۔ ان کے طواف میں کوئی شکال نہیں ہے ، اس لئے کہ طواف میں ، معروف حد کی مراعات کرنا واجب نہیں ہے بلکہ احتیاط مستحب ہے اور صفوں سے متصل ہونا بھی شرط نہیں ہے ۔
جواب: الف۔ نفی بلد سے وہ ہی معروف تفسیر یعنی شہر بدرکرنا مراد ہے۔ب:اسی جگہ زیر نظر رکھا جائے ، زندانی کرنے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ج:ان موارد میں جہاں فقط شہر بدر ہی مجرم کی سزا ہے ،اگر راہ حل زندان پر منحصر ہو، اس کو شہر بدری کی جگہ میں قےد کرسکتے ہیں۔د: اس صورت میں جب کہ اس کے فرار کا خطرہ ہو تواس کو محل تبعید میں زندانی کیا جا سکتا ہے ۔ھ: جی ہاں، سراےت دے سکتے ہیں، اس لئے کہ فقہا نے کچھ ایسے دلائل سے استناد کیا ہے کہ جو عمومیت رکھتے ہیں۔
جواب: اس حصّے کی نہ کوئی دیت ہے اور نہ ارش ۔
بیت المال کے خاص مصارف ہیں، ان میں ہی اس کو خرچ کرنا چاہیے ۔
جواب:۔ اگر مسجد میں جماعت کرانا آپ کی مرادہے تو اجازہ کی ضرورت نہیں ہے اور اگر کوئی دوسری چیز مقصود ہے تو تحریر کریں تاکہ جواب دیا جائے۔
جواب۔بعض گذشتہ مجتہدین جو اب حیات نہیں ہےںاور بعض زندہ مجتہدین حرام ہونے کا حکم نہیں دیتے شاید مذکورہ شخص ان کا مقلد ہو .
جواب: الف تا ج۔ خودکشی سے روکنا ہر مسلمان پر واجب ہے اور اگر اس کے بچانے میں کم ہیسا خرچ ہو رہا ہو تو جان بچانے والے کو خرچ کرنا چاہیے لیکن اگر پیسا زیادہ خرچ ہو رہا ہو تو یا جان کا خطرہ ہو تو اس کے اوپر بچانا لازم نہیں ہے لیکن اگر بیت المال اسے ادا کر سکتا ہو تو اسے ادا کرنا چاہیے ۔د۔ کافر حربی کی جان بچانا لازم نہیں ہے جبکہ کافر ذمی کے بارے میں احتیاط یہ ہے کہ اس کی جان بچانا چاہیے ۔ھ۔ اس کی اجازت کا ہونا ضروری نہیں ہے ۔و۔ اگر اسے بچانے کے راہیں محدود ہوں اور اس میں اسے ضرر پہچ جائے تو اسے بچانے کے لیے ایسا کر سکتا ہے اور ضامن بھی نہیں ہے ۔
۱: اتنی مقدار، جزئی کسوف (سورج گہن) شمار نہیں ہوگی۔۲: نماز آیات سورج گہن اور چاند گہن سے مخصوص ہے ۔
جواب : وہ مسجدیں جو سڑکوں پر متروکہ پڑی ہیں اور دوبارہ آباد ہونے کی امید بھی نہیں ہے ، ان میں مسجد ہونے اور وقف ہونے کا حکم زائل ہوجاتا ہے ،اور جس شخص نے ایسا کیا ہے اسے چاہیئے کہ اس مسجد کی قیمت کے برابر رقم دوسری مسجد بنانے یا دیگر تمام مسجدوں کی تعمیر میں خرچ کرے حقیقت میں یہ عین مال کو تلف کرنا ہے ،لیکن جب تک کوئی شدید ضرورت نہ آن پڑے ، مسجد کو گرانا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے اور وہ مسجدیں جوبیابانو ں میں متروکہ ہیں یا گاؤں و دیہاتوںمیں متروکہ پڑی ہوئی ہیں (یعنی ان میں کوئی نماز پڑھنے والا نہیں ہے )ان کو اس طرح محفوظ رکھنا چاہئے کہ ان کی بے حرمتی نہ ہو۔