سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

ان خواتین کا وظیفہ جو حالت احرام میں حائض ہو جائیں

جو خاتون عمرہ کے دورا ن حالت احرام میں یا احرام سے پہلے یاا س کے بعد ،حالت حیض میں ہو گئی ہے اس کا کیا وظیفہ ہے ؟

جواب :۔ ہر حال میں اس خاتون کا احرام صحیح ہے ، لیکن پا ک ہونے تک صبر کرے گی ، اس کے بعد طواف اور نماز طواف کو بجا لائے گی اور اس کے بعد عمرہ کے باقی اعمال ، انجام دے گی ۔

مقتول کے ولی کے ذریعہ مکرہ اور ممسک شخص کو معاف کیا جانا

مجتہدین فرماتے ہیں: قتل پر مجبور کرنے والے کی سزا، ہمیشہ کے لئے قید خانہ ہے اور پکڑنے والے (جیسا کہ کسی نے مقتول کو پکڑ رکھا ہو اور دوسرے نے قتل کیا ہو) کی سزا یہ ہے کہ اس کی آنکھیں پھوڑدی جائیں، لہٰذا اگر ایک آدمی پکڑے دوسرا اسے تھامے رہے اور بھاگنے نہ دے اور تیسرا آدمی قتل کردے، اس صورت میں جیسا کہ مقتول کے ولی ووراث قاتل کو معاف کرسکتے ہیں کیا مجبور کرنے والے اور تھامنے والے آدمی کو بھی معاف کرسکتے ہیں؟ یا یہ بھی زنا کی سزا کی طرح الله تعالیٰ کی معیّن کردہ ایک حد (سزا) ہے جو قابل معافی نہیں ہے؟

چنانچہ مقتول کے ولی ووارث، مجبور کرنے والے اور پکڑنے وتھامنے والے کی خطا سے درگذر کریں، تو ان کے متعلق، ان سے مربوط سزا کا حکم جاری کرنے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے، اس کا حکم بھی قصاص کے مثل ہے نیز مجبور کرنے اور پکڑنے والے یعنی دونوں کی سزا قید ہے، آنکھیں پھوڑنے کی سزا فقط دیکھنے والے (نگران) کی ہے اور وہ بھی خاص صورت میں ۔

امانت میں قرض کے عنوان سے تصرف کرنا

صدقہ، کفارہ، زکات اور خمس وغیرہ کی رقم کو بطور قرض لینے اور پھر اس کو پلٹانے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ وہ پیسہ جو انسان کے پاس امانت ہے اس کا کیا حکم ہے؟

اگر پیسہ کا مالک کسی رقم کو صدقہ یا خمس کے عنوان سے الگ کردے، اس میں تصرف کرسکتا ہے؛ لیکن اسے کسی کی امانت میں تصرف کا حق نہیں ہے ۔

دسته‌ها: امانت

اگر شہید کے وارث ، اس کے باپ اور بیوی ہو

میرے بھائی، ١٢سال پہلے جنگ میں لاپتہ ہوگئے تھے، اس زمانے میں یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ وہ شہید ہوگئے یا اسیر ہوئے ہیں، لیکن اب بارہ سال کے بعد ان کی شہادت مسلّم طور پر ثابت ہوگئی ہے اس شہید کی ایک بیوہ ہے لیکن بچہ کوئی نہیں ہے، آپ سے التماس ہے کہ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:الف) اس شہید کی تنخواہ، بارہ سال کے عرصہ میں بطور کامل اور یکبارگی، ان کی بیوی کے ذریعہ وصول اور خرچ ہوئی ہے، کیا مذکورہ تنخواہ کی مکمل رقم، شہید کی زوجہ کا حق ہے، یا اس میں سے میراث کے عنوان سے، شہید کے والدین اور بہن بھائیوں کا بھی کچھ حصّہ ہے؟ب) اب جبکہ اُن کی شہادت یقینی طور پر ثابت ہوگئی ہے، ادارے کی جانب سے جس میں وہ کام کرتے تھے، کچھ رقم دی جارہی ہے، یہ رقم کس سے متعلق ہے یعنی یہ رقم کس شخص کی ہوگی؟ج) یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے کہ وہ سن ١٣٦١ شمسی میں شہید ہوئے ہیں اور شہادت کی اطلاع سن ١٣٧٢شمسی میں ملی ہے جبکہ اُن کے والدین ٦٦ میں مرحوم ہوگئے ہیں، کیا شہید اپنے والد کی میراث لیں گے یا والد کو شہید کی میراث ملے گی؟د) شہادت کے ثابت ہونے سے دوسال پہلے ان کی زوجہ نے 'بنیاد شہید'' نامی ادارے سے، طلاق کا تقاضا کیا تھا اور ادارے کے مدیر نے قوانین کے مطابق اس کو شرعی طلاق دے دی تھی، کیا اس صورت میں یہ زوجہ، اس شہید کی میراث لے گی؟ کیا اس رقم میں سے جو ادارے نے، دیت وغیرہ کے عنوان سے دی ہے، زوجہ کو میراث ملے گی یا نہیں؟ اور کیا اس دو سال کی مدّت میں، شہید کی تنخواہ لے کر خرچ کرنے کا حق رکھتی تھی یا نہیں؟

جواب: اس کی تنخواہ اس کی بیوی سے متعلق تھی، یعنی اس کی زوجہ کا حق ہے ۔جواب: تمام وارثوں سے مربوط ہے مگر یہ کہ وہ ادارہ مذکورہ رقم کے لئے کوئی خاص مصرف معین کرے ۔جواب: والد کو ان کے مال سے میراث ملے گی، لیکن حکومت سے جو رقم دی گئی ہے اس میں سے انھیں (والد کو) میراث نہیں ملے گی ۔جواب: چنانچہ حکومت یہ جان کر کہ طلاق ہوگئی ہے، اُسے تنخواہ دیتی تھی تب تو لینا جائز ہے لیکن اگر اس شرط پر تنخواہ دیتی کہ طلاق نہیں ہوئی ہے، تب مذکورہ رقم وصول کرنا اس کے لئے جائز نہیں تھا لیکن بہرحال شہید کے مال سے میراث وصول کرے گی اور اسی طرح اس کی دیت کی رقم سے میراث لے گی ۔

وطن اصلی کے بارے میں چند سوالوں کا جواب

مہربانی فرماکر وطن کے سلسلے میں درج ذیل سوالوں کے جواب مرحمت فرمائیں:الف) وہ شخص جو اپنے والد کے وطن میں آتا جاتا ہو (یہ کہ آمد ورفت کئی مرحلوں میں، لیکن وہاں پر سال میں چھ مہینے سے کم رہتا ہو) اور اس کو جگہ وطن کے عنوان سے قبول بھی کرتا ہو، کیا وہ جگہ اس کا وطن شمار ہوگی؟ب) وہ شخص جو کسی جگہ پیدا ہوا ہو لیکن وہاں پر نہ رہتا ہو، یا وہاں پر چھ مہینے سے کم رہا ہو تو کیاوہ جگہ اس کا وطن شمار ہوگی؟د) اگر کوئی شخص کسی جگہ پیدا ہوا ہو اور اس نے زندگی کے ابتدائی چند سال وہاں پر گذارے ہوں اورپھر وہاں سے کسی دوسرے شہر کی طرف ہجرت کرلی ہولیکن اپنے وطن سے اعراض نہ کیا ہو اور امکانی صورت میں وہاں پرسکونت کے لئے پلٹنے کا قصد بھی رکھتا ہو، (گرمیوں میں ہر سال ایک مدت کے لئے وہاں پر جاتا ہے) اس کے نماز اور روزہ کا کیا حکم ہے؟ھ) کیا بیوی اور بچّے مسائل اور احکام میں وطن اور اعراض وطن میں باپ کے تابع ہیں جس طرح تقلید کے انتخاب میں تابع ہوتے ہیں؟و) کیا ذاتی یا باپ کی جائداد کا ہوناوطن کے حکم میں کوئی تاثیر رکھتا ہے؟

الف وب: وطن وہجگہ ہوتی ہے جہاں انسان لگاتار رہ رہا ہو اور کم از کم ہر سال پر چند مہینے رہے، اور بقیہ چیزیں جو آپ نے تحریر کی ہیں ان کا کوئی اثر نہیں ہے ۔د: اگر اس کا قصد ہو کہ مستقبل قریب میں (مثلاً چند سالوں کے اندر) اس جگہ کوسکونت کے لئے اختیار کرے گا تو وطن سے اعراض حاصل نہیں ہوگا اور اس جگہ اس کی نماز اور روزے پورے ہیں، اس صورت کے علاوہ اس کی نماز قصر ہے ۔ه: تقلید کے مسئلہ میں تابع نہیں ہیں لیکن وطن اور اعراض وطن کے سلسلے میں اگر وہ باپ کے ساتھ رہتے ہوں اور اس کی نظر کے موافق ہوں تو اس کے تابع شمار ہوںگے ۔و : اس کی کوئی تاثیر نہیں ہے ۔

دسته‌ها: وطن
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت