تعلیم گاہ میں سکونت۔
کیا وہ مقامات بھی وطن میں شمارہوں گے جہاں پر طلاب دو ، یا چاریا اس سے زیادہ ، سالوں پر مشتمل ، نصاب تعلیم کو مکمل کرنے کے لئے رہتے ہیں ؟
جواب:۔جی ہاں وطن کے حکم میں ہے ، اگر چہ وطن نہیں ہیں ۔
ایسے اشخاص کو دوبارہ سزا دینا جو بیرون ملک سے سزا پاچکے ہوں
چنانچہ کچھ افراد بیرون ملک کچھ جرائم کے مرتکب ہوئے اور اس ملک کے قوانین کے مطابق ان کا محاکمہ بھی ہوگیا اور اس جرم کی مقررہ سزا بھی گذار لی ہے، اس کے بعد وہ ایران پلٹ آئے لہٰذا آپ فرمائیں :الف : ان جرائم میں جو قصاص کا باعث ہوتے ہیں، اولیاء دم کی درخواست کی صورت میں سزا کے قابل ہیں؟ب : جرائم حدّی کے بارے میں کیا حکم ہے؟ج : تعذیری اور روک تھام والے جرائم میں کیا حکم ہے؟
جواب : ان موراد میں جو قصاص کا سبب بنتے ہیں ، اگر شاکی قصاص کا تقاضا کرے تو قصاص جاری ہوگا اور اگر شاکی قصاص کے بدلے جرمانہ پر راضی ہوگیا تھا تو قصاص کا حکم ساقط ہے اور اگر راضی نہیں ہوا تھا تو جرمانے کی رقم کو واپس کرکے قصاص کا تقاضا کرسکتا ہے ۔جواب : حدود والے جرائم میں حد ساقط نہیں ہوگی؛ کیوں کہ ان میں حد کے جاری کرنے کے شرائط نہیں پائے جاتے لہٰذاوہ حد کے قائل نہیں ہیں۔جواب : اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ تعزیر نظر حاکم سے مربوط ہے اگر وہاں پر ان کو تعذیر کردیا گیا تھا ہر چند کہ تعذیر، زندان کی صورت میں تھی تو حاکم شرع یہاں کی تعذیر میں تخفےف دے سکتا ہے، چاہے تعذیر ملامت اور سرزنش کی صورت میں ہی کیوں نہ ہوئی ہو۔
امام علیہ السلام کی غیبت میں حدود کا جاری کرنا
کیا دور حاضر میں(غیبت امام معصوم علیہ السلام)حدود الٰہی کو جاری کیا جاسکتا ہے؟
جواب: ہم معتقد ہیں حدود کا جاری کرنا کسی ایک زمانہ سے مخصوص نہیں ہے اور بہت سے فقہاء اس رائے کے موافق ہیں ۔
عمدا ترک کی گئی نماز
اگر ماں باپ کی قضا نماز اور روزے بہت زیادہ ہوں یا انہوں نے بعض اوقات خدا کی نا فرمانی کے نتیجہ میں قضا کئے ہوں ، تو ان کے بچوں کاکیا وظیفہ ہے ؟
جواب:۔ جس قدر نافرمانی اور عمداً قضا کئے ہیں بڑے بیٹے پر ان کی قضا واجب نہیں ہے ، لیکن بہتر ہے کہ انجام دے اور جس قدر عذر ( بیماری وغیرہ) کی بنا پر قضا ہوئے ہیں ، انہیں ، بڑے بیٹے پر اپنی طاقت و وسعت کے اعتبار سے انجام دینا واجب ہے ۔
میراث کی تقسیم کے لئے غائب شخص کی فرضی موت کا حکم
مدنی قانون (سِوِل لا) کی دفعہ ۱۰۱۸ میں جو شیعہ نورانی فقہ سے ماخوذ ہے، آیا ہے: ”غائب کی فرضی موت کا حکم اس وقت صادر ہوسکتا ہے کہ جب اس کی تاریخ حیات کی آخری خبر اتنی مدت گذرجائے کہ معمولاً اتنی مدت میں اس جیسے افراد زندہ نہیں رہ سکتے“ اب اگر کوئی ۳۰ سال سے غائب ہو اور اس کے دو سال بعد ورثہ اس کی فرضی موت کا حکم صادر کرنے کا تقاضا کریں، کیا محکمہ عدالت کو حق ہے کہ ورثہ کی درخواست کی موافقت کرتے ہوئے اس کی مفقودیت کا اخباروں میں اعلان اور مقامی تحقیقات کے انجام کے بعد اگر اس کی حیات یا موت کا سراغ نہ لگے، اس کی فرضی موت کا حکم صادر کردے؟
جواب: موت کا حکم فقط اس صورت میں صادر ہوسکتا ہے کہ یا تو غائب شخص کی موت کا علم ہوجائے یا اتنی مدت گذرجائے کہ معمولاً اتنی مدت میں وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔
صدقہ کے خرچ کی کیفیت
صدقہ کو خرچ کرنے کے سلسلے میں جناب عالی کی کیا نظر ہے؟
صدقہ محتاجوں اور ضروتمندوں کا حق ہے ۔
موطوہٴ جانور کا ضامن
زید نے کئی سال پہلے ، عمر کے جانور کے ساتھ ناجائز فعل انجام دیا ہے ، جانور کے مالک نے اس جانور کو فروخت کر دیا، اورا سکی قیمت و صول کر کے خرچ کر دی ، اور معلوم نہیں کہ وہ جانور کہاں ہے ، مر گیا ہے یا زندہ ہے ، اب زمانہ گذرنے کے بعد متوجہ ہو ا ہے اور توبہ کرنا چاہتاہے اور سوال کرتاہے: الف)کیا اس جانور کی قیمت کا ضامن ہے جو اس کے مالک یا مالک کے وارثوں کو ادا کرے ؟ ب)کیا زید کے بالغ ہونے یا بالغ نہ ہونے اور منی کے انزال ہونے یا نہ ہونے کا حکم پر کوئی فرق پڑتاہے یا نہیں ؟ ج)اگر بالغ ہونے میں شک ہو کہ بالغ تھا یا نہیں تو کیا وظیفہ ہے ؟ د)ضامن ہونے کی صورت میں ، اس حیوان کا رائج حلال گوشت ہونے کا مثلاً بھیڑ بکری ہونے یا غیر رائج حلال گوشت ہونے کا جیسے گھوڑا ، گدھا وغیرہ اس کے حکم میں کیا کوئی فرق ہے یا کوئی فرق نہیں ہے ؟ ھ)قیمت کی ادائیگی کے واجب ہونے کی صورت میں ، کیا رقم کے عنوان کا اظہار کرنا بھی لازم ہے چونکہ ممکن ہے ، اظہار کرنا باعث فساد یا شرمندگی ہو؟ جواب ۔الف)ضامن ہے اور اس کو چاہیئے کہ اس کی قیمت ضرور ادا کرے۔ ب)اگر بالغ اور مکلف نہ ہو تب یہ حکم اس کے بارے میں جاری نہیں ہوگا۔ ج)بالغ ہونے میں شک کی صورت میں ،بالغ کا حکم لگایا جائے گا۔ د)دونوں صورتوں میں اس کی قیمت اس کے مالک کو دے لیکن دوسری صورت میں اگرجانور مل جائے تو اس کو دوسرے شہر لے جائیں اور فروخت کردیں اس کی قیمت فاعل کی ہوگی۔ ھ)اعلان کرنا (یعنی یہ بتانا کہ کس عنوان سے یہ رقم دے رہا ہے )لازم نہیں ہے ۔
جواب: اگر یہ احتمال دیا جائے کہ یہ غذائیں ، کار خانوں یا آلات یادستانہ کے ذریعہ بنائے گئے ہیں تو کوئی اشکال نہیں ہے ، لیکن جب یقین ہو جائے کہ ان کے ہاتھ یا ان کے جسم کا مرطوب حصہ اس کھانے سے مس ہو گیا ہے تو اس صورت میں احتیاط یہ ہے کہ ضرورت کے موقعوں کے علاوہ اس سے پرہیز کرے لیکن ضرورت کے موقعوں پر جیسے غیر اسلامی ممالک میں سفر کے دوران ،اور سفر میں ان غذائوں سے پرہیز کرنا مشکل ہو تواس صورت میں پرہیز نہ کریں۔
الکحل کی طہارت و نجاست
طہارت اور نجاست کے اعتبار سے الکحل کا حکم بیان فرمائیں؟۔
جواب: صنعتی طبّی الحکل پاک ہے لیکن وہ مشروبات کہ جن میں مست کرنے والا الکحل ہو، اشکال رکھتے ہیں۔
تقریبات میں مل کر تالیاں بجانا
ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولادت کے موقعہ پر منعقد محفلوں میں، کیا منظم یا غیر منظم طور پر تالیاں بجانا جائز ہے؟ کیا یہ کام اس طرح کی محفلوں کے مناسب ہے ؟ نیز اس قسم کی محفلوں میں کہ جہاں لوگ خوشی کے اظہار کے لئے تالیاں بجانے میں مصروف ہیں، شریک ہونے کا کیا حکم ہے؟
تالیاں بجانے میں کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن مسجد اور امام بارگاہوں میں یہ کام نہیں کرنا چاہیے ۔
مصلحت آمیز جھوٹ یا فتنہ انگیز سچ
مصلحت آمیز جھوٹ بہتر ہے یا فتنہ انگیز سچ؟
وہ سچ کہ جو فتنہ پھیلائے یا کوئی مفسدہ ایجاد کرے، اس سے پرہیز کرنا چاہیے؛ چاہے اس کا جھوٹ مصلحت آمیز ہویا بیہودہ اور چونکہ یہ بات اہم اور مہم قاعدہ کے تحت آتی ہے تو جھوٹ کے نقصانات اور فوائد کا آپس میں مقایسہ کرنا چاہیے، قابل ذکر ہے کہ اگر جھوٹ کی جگہ توریہ سے کام لے سکتے ہیں تو توریہ مقدم ہے، توریہ سے مراد وہ بات ہے جس کے دو معنی ہوتے ہیں؛ سننے والا اُس معنی کو سمجھے جو خلاف واقع ہے اور اس پر یقین بھی کرلے اور مصلحت حاصل ہوجائے، لیکن کہنے والا دوسرے معنی کا تصور کرے کہ جو واقع کے مطابق ہے ۔
وطی کے بارے میں جانوروں کے ڈاکٹر کا قول
اگر کسی گوسفند کے ساتھ زیادتی کی جائے اور ڈاکٹر اس بات کی تائید کر دے تو کیا اس کی بات حجت ہے؟
اگر ڈاکٹر کی بات پر یقین اور اطمینان حاصل ہو جائے تو کافی ہے اور اگر یقین نہ ہو تو کافی نہیں ہے۔
قید، تازیانہ اور قصاص نفس کو ایک دوسرے پر مقدم کرنے کی کیفیت
ایک شخص کو سادہ سرقت، مسلحانہ سرقت اور قتل نفس کے ارتکاب کی وجہ سے دومرتبہ تعذیری قید(پانچ سال اور دس سال) اور پچاس کوڑے اور قصاص نفس کی سزا سنائی گئی قاعدہ جمع مجازات کو مد نظر رکھتے ہوئے (جس کا مضمون یہ کہ ہر ایک سزا کا جاری کرنا ایسے ہونا چاہئے کہ دوسری سزاؤں کے زوال کا زمینہ فراہم نہ ہوسکے )مذکورہ سزاؤں کو شرعا کیسے اجراء کیا جائے گا؟
جواب: اس صورت میں جب تعذیر کو مالی تعذیر میں تبدیل کیا جاسکے، کہ جو قصاص کے ساتھ قابل جمع ہے ، اولویت رکھتا ہے اور جب یہ ممکن نہ ہو،چنانچہ اولیاء دم قصاص کی تاخیر پر راضی ہوں ، زندان کی تعزیر مقدم ہے اور اگر اولیاء دم راضی نہ ہوں تو قصاص کو مقدم کیا جائے گا، تازیانے ہر حال میں انجام پانے چاہئے۔
طالب علم کے لئے دس دن کا قصد کرنا
ٓیا وطن کے اعتبار سے بیوی ،شو ہر کے تابع ہے ؟
جواب:۔ بیوی کا قصد شوہر کی تابعداری ہوتو وطن کے اعتبار سے تابع ہے ۔
رات کی عبادتوں پر جماعت سے پڑھی جانے والی صبح کی نماز کو فضیلت
ایک روز رسول اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم نے نماز صبح کی جماعت میں حضرت علی علیہ السلام کو نہ دیکھا، جناب زہرا سلام الله علیہا سے وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا: ”وہ گذشتہ شب، صبح تک خدا سے راز ونیاز اور مناجات میں مشغول تھے، رات کی عبادت کی سنگینی سبب ہوئی کہ انھوں نے نماز صبح گھر پر ہی ادا کرلی“ رسول اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”علی﷼ سے کہنا رات کی مناجاتوں کو کم کریں اور تھوڑا آرام کریں تاکہ صبح کی نماز جماعت میں حاضر ہوسکیں“الف) کیا مذکورہ حدیث ، سَنَد اور دلالت کے اعتبار سے قابل قبول ہے؟ب) شیعہ حضرات معتقد ہیں کہ آئمہ معصومین علیہم السلام امامت سے پہلے بھی گناہ ومعصیت یہاں تک کہ ترک اولیٰ کے بھی مرتکب نہیں ہوئے، اگر اس بات کو قبول کرلیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ یہاں پر حضرت علی علیہ السلام سے اشتباہ ہوا ہے، کیونکہ آپ نے نماز جماعت کی فضیلت کو چھوڑدیا ہے، اور رات کی مناجات کوبجالائے ہیں! آپ کیا فرماتے ہیں؟ج) مذکورہ حدیث ایسی ہے کہ جو حضرت علی علیہ السلام کو شخصیت کو گرادیتی ہے اور نماز جماعت کی عظمت کوبڑھاتی ہے، آپ کی کیا رائے ہے؟
مذکورہ روایت، سَنَد کے اعتبار سے قابل بحث ہے؛ لیکن بہرحال نماز صبح کی جماعت کے لئے رات کی مناجاتوں کو کم کرنا اولیٰ ہے ۔نماز جماعت کو ترک کرنا گناہ نہیں ہے اور نہ ہی مقام عصمت کے منافی ہے؛ بلکہ ایک طرح کا ترک اولیٰ ہے اور اگر اس میں دوسروں کی تعلیم کا پہلو پایا جائے تو ترک اولیٰ بھی شمار نہیں ہوتا ۔جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ ممکن ہے اس کا مقصدعوام کے لئے حکم شرعی کو تعلیم دینا ہو، اس صورت میں آپ کے مقام پر کوئی حرف نہیں آتا ہے ۔ یہ بھی فراموش نہ کریں کہ یہ روایت، سَنَد کے اعتبار سے قابل بحث ہے ۔

