مجسمہ بنانے کا حکم
انسان یا کسی حیوان کا کامل مجسمہ بنانے کا کیا حکم ہے نیز نقاشی یا آرٹ کیسا ہے ؟
جواب ۔مجسمہ بنانے میں اشکال ہے اور آرٹ جائز ہے
جواب ۔مجسمہ بنانے میں اشکال ہے اور آرٹ جائز ہے
چنانچہ رضاعی ماں کو قصاص کرنا بچے کی زندگی کو خطرے میں ڈالڈے یا قابل ملاحظہ ضرر کا سبب ہو تو ماں والا ہی حکم جاری ہوگا۔ اوپر والے جواب سے معلوم ہے۔اس مسئلہ میں حاکم شرع کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
عورت فسخ نکاح کے لیئے صیغہ جاری کر سکتی ہے ، اور احتیاط یہ ہے کہ اس کی اطلاع حاکم شرع کو پہنچائے۔
انتظار کرنا چاہیے، چنانچہ حمل زندہ متولد ہوجائے، انحصار کی صورت میں فقط وہ ہی ولی دم ہے، اس صورت کے علاوہ میں اس امر میں شریک قرار پائے گا۔
جب بھی ناقل موت کا سبب ہوا ہو تو دیت اس کے اموال سے لی جائے گی۔
جواب:۔قاضی کیلئے طلاق دینا اس صورت میں جائز ہے کہ جب مصالحت کا امکان اس حد تک ختم ہو جائے کہ شدید عسر وحرج اور مشقت کا باعث ہو، شوہر بذات خود طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو اور قاضی کی دی ہوئی طلاق رجعی ہوتی ہے، لیکن اگر شوہر، رجوع کرے اور اس کے بعد دوبارہ آپس میں نا اتفاقی کا موضوع باقی رہے ، تو (قاضی) دوبارہ طلاق دے گا، یہاں تک کہ تیسری طلاق بائن ہوجائے گی .
ضامن ہیں۔
اس صورت میں جب اس نے اس کام کو جنایت کے محقق ہوجانے کے قصد سے کیا ہو، یا جانتا ہوکہ غالبا یہ عمل تحقق جنایت کا سبب ہوجائے گا، ہر چند کہ اس کی نیت نہ رکھتا ہو، ضامن ہے اور اپنے مسئلہ میں اس کا خون ہدر جائے گا۔
اس صورت میں جب کہ نقصان اٹھانے والا نقصان کو بڑھنے سے روک سکتا ہو اور عمداً اس کام کو نہ کرے، نقصان کا زیادہ ہونا خود اس کی ذمہ داری ہے اور وہ شخص جس نے نقصان کو ایجاد کیا ہے، نقصان کے زیادہ ہونے کے مقابل میں ضامن نہیں ہے ہمارے فقہاء نے اس مسئلہ کو کتاب قصاص میں ، اس شخص کے بارے میں جس کو کسی نے دریا میں ڈال دیا ہو اور وہ خود اپنے آپ کو نجات دے سکتا تھا لیکن اقدام نہ کرے، ذکر کیا ہے اور کہا ہے” شخص اول ضامن نہیں ہے“ اور چونکہ اس حکم کو قواعد کی بنیاد پر بیان کیا ہے لہٰذا دوسرے موارد منجملہ اموال میں سرایت دے سکتے ہیں۔
اگر عقد کے ضمن میں ، لازم کی الگ شرط ہو تو جائز ہے۔
جواب۔مجسمہ بنانا اور اس کیخرید و فروخت میں بہر حال اشکال ہے مگر اس صورت میں کہ جب کھیلونوں کی حیثیت رکھتے ہوں .
اگر اس مسجد یا دوسری مساجد کو اس مٹی کی ضرورت نہ ہواور بکنے کے قابل بھی نہ ہو تو اس کے قابل بھی نہ ہو تو اس کے کہیں اور ڈالنے میں ممانعت نہیں ہے ۔
چنانچہ قاضی کو اس طرح کے امور میں اجازت اور عام معمولی طریقہ سے اُسے اس طرح کے کاموں اور برائیوں کے بارے میں، معلومات حاصل ہوجائے تو انھیں تعزیر اور اپنی صواب دید کے مطابق سزا دینا لازم ہے لیکن اگر اس طرح کے اقدامات دیگر فساد وگناہ کا باعث ہوجائیں تب اس صورت میں پردہ پوشی ضروری ہے اور اگر انھیں بلاکر، دھمکانے ڈپٹنے، راہنمائی کرنے اور ان لوگوں سے ان کاموں سے باز آنے کا وعدہ لینے سے مقصد حال ہوجائے تو اسی مقدار پر اکتفا کی جائے ۔