سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

اذان کے جزء کی نیت سے اشہد ان علیا ولی اللہ کہنا

کیا ”اشہد انّ علیاً ولی اللہ “کااذان میں کہنا بدعت ہے ؟

جواب:۔ بدعت وقت ہے جب اذان کے جزء کے قصد سے کہے، اور اگر اس مقصد سے نہ ہوتو بدعت نہیں اور کوئی حرج بھی نہیں ہے اور شیعہ حضرات اس قصد سے نہیں کہتے ہیں ۔

شکار کئے ہوئے حیوانات کا گوشت کھانا

جیسا کہ حضور کے علم میں ہے کہ حال حاضر میں شکار کرنا ملک کے بعض علاقوں جیسے شمال کے حصّے دریائے جنوب کے مضافات کے علاوہ روزی حاصل کرنے کے لئے نہیں رہ گیا ہے اور تقریباً اکثر جو شکار ہوتے ہیں ان کو مالدار کرنے متمول افراد تفریح، فنکاری اور خوشگذرانی کے طور پر کرتے ہیں، مذکورہ فرض کے تحت وحشی جانوروں کے شکار کرنے کا حکم شرعی کیا ہے؟

اگر زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے یا آمدنی اور کام کی غرض سے قوانین وضوابط کے تحت شکار کیا جائے تو شرعاً جائز ہے لیکن اگر تفریح اور خوشگذرانی کے لئے ہو۔ ہرچند کہ اس کے گوشت کو استعمال کیا جائے ۔ شرعاً حرام ہے، لہٰذا اس طرح کے سفر میں حرام سفر ہونے کی وجہ سے نماز وروزہ قصر نہیں ہوگا ۔

دسته‌ها: شکار

منافع اور حقوق کی چوری کرنا

الف:کیا منافع کا چراناشرعی سرقت ہے اور مجازات کی صلاحیت بھی رکھتا ہے ؟مثلا کوئی کرایہ پر لی ہوئی ٹیکسی کو حرز میں رکھے اور دوسرا اس کو لے جائے اگر ٹیکسی کا مالک عدالت مےں شکایت نہ کرے کیا کراےہ پر گاڑی لینے والا شخص شکایت اور مال مسروقہ کے مطالبہ کا حق رکھتا ہے؟۔ب: کیا حق کا چرانا سرقت شمار ہوگا اور اموال کی چوری کی طرح یہ بھی مجازات کے قابل ہے؟ مثلا”الف“ ”ب“ سے ایک موبائل فون کرایہ پرلے تاکہ اس سے ایک مہینہ استفادہ کرے اور اس کا دس ہزار تومان کرایہ دے،”ج“اس فائدہ کو ”الف“ سے غصب کرلے یعنی موبائل فون کی چوری کا تو قصد نہیں رکھتا تھا لیکن چاہتا تھا کہ ایک مہینہ تک اس کو استعمال کرے پھر اس کے مالک کو پلٹا دے ،کیا”ج“ کا ےہ عمل،موبائیل کو کرایہ پر لینے والے کے حق کی سرقت شمار ہوگی اور اس کی کوئی سزا بھی ہے ؟

جواب :الف و ب۔ منافع اور حق کی سرقت کو اموال کی سرقت کے احکام شامل نہیں ہوتے، لیکن ےہ عمل قابل تعذیر ہے۔

اس عورت کے ساتھ عقد اور ہمبستری کرنا جو ۴/ سال سے شوہر سے دور تھی

ایک لڑکی ایک نابینا شخص کے عقد میں آتی ہے، شادی، مشترک زندگی اور شوہر کو تمکین دینے کے تقریباً ۴۵ روز بعد وہ لڑکی شوہر کو چھوڑکر چلی جاتی ہے اور دعوا کرتی ہے کہ اس آدمی نے اس کو دھوکا دیا ہے چونکہ اس نے اپنے بھائی کو جو بینائی کی نعمت سے کاملاً بہرہ مند ہے، عقد کے وقت شوہر کے عنوان سے پہچنوایا تھا! نیز یہ لڑکی ملک کی عدالت عامہ میں متعدد بار فسخ نکاح اور طلاق کا تقاضا کرچکی ہے، عدالت کے ایک کیس میں اس کی جانب سے فریب اور دھوکا دھڑی کے مقدمے کی پیروی ہوئی، لیکن عدالت نے دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے ان کے درمیان دائمی زوجیت کے صحیح اور شرعی ہونے کا حکم صادر کردیا ہے اور اس کے طلاق کے مطالبہ کو بھی شوہر کے امتناع اور بہت سے اشکالات کی وجہ سے رد کردیا ہے۔زوجہ تقریباً ۴ سال کی مدت گذرجانے کے بعد کسی دوسرے مرد سے شادی کرلیتی ہے اور زنا کی مرتکب ہوجاتی ہے، زانی میں بھی احصان کے شرائط موجود تھے ، انجام شدہ تحقیقات کے مطابق زانی شخص اس عورت (زانیہ) کے حالات سے باخبر تھا، کیا مذگورہ عورت غیر محصنہ ہونے کے لحاظ سے (شوہر سے ۴سال کی دوری البتہ اپنے اختیار سے) زناء غیر محصنہ کی حد کی مستحق ہے؟ کیا مرد کی مذکورہ وضعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ رجم کی حد کا مستحق ہوگا؟ یاشبہہ کا لحاظ رکھتے ہوئے رجم کی حد سے بری ہوجائے گا؟ کیا آخری صورت میں لگے کوڑوں کی سزا یا تعذیر اس کے اوپر جاری ہوگی؟

جواب: فرض مسئلہ میں ، عورت پر شوہر سے ایسی جدائی کی خاطر محصنہ ہونے کے احکام جاری نہیں ہونگے ، ایسے ہی مرد بھی چونکہ وہ عقد نکاح سے متمسک ہوا ہے اور یہ خود شبہہ کی دلیلوں میں سے ایک ہے، محصن ہونے کا حکم اس کو شامل نہیں ہوگا، لیکن دونوں مسئلہ کے حکم کے دریافت کرنے میں مقصر اور ممنوعہ عمل کے مرتکب ہونے کی وجہ سے تعذیر کے مستحق ہیں۔

دسته‌ها: زنا کی حد

تحقیقی کاموں میں محقق اور نگراں کا اختلاف

جب کوئی شخص کسی آدمی کے ساتھ درج ذیل شرح کے مطابق زبانی معاہدے کرے:”آپ یہ تحقیق کا کام انجام دیں، میں آپ کو فی گھنٹہ ڈیڑھ سو (۱۵۰) تومان دوںگا اور تحقیق سے مراد، مطالب کی دوبارہ کتابت، مطالب کو مناسب جگہ پر رکھنا، جدید، طریقے سے ترتیب دینا، یا اس کی تکمیل اور اصلاح کرنا ہو“۔طرفین قبول کرتے ہیں اور ابہامات کو دور کرنے کی غرض سے پے درپے نشست رکھتے ہیں، چند مہینہ کام کرنے کے بعد محقق ایک ہزار گھنٹوں سے زیادہ کے کام کی فہرست پیش کرتا ہے، جبکہ کام دینے والا شخص دعویدار ہے کہ جیسے کہاگیا تھا اس نے ویسے کام انجام نہیں دیا ہے اور طے شدہ شرائط کے مطابق کام مکمل نہیں ہوا ہے، برائے مہربانی آپ فرمائیں:۱۔ تحقیق کا کام دینے والا شخص کس قدر مقروض ہے، یعنی اسے کس قدر رقم ادا کرنا ہوگی؟۲۔ کام کے معنوی حقوق، معاہدے میں بیان نہیں ہوئے ہیں، کیا محقق کا نام تعاون کرنے والے کی حیثیت سے مصنف کے ساتھ لکھا جائے؟

جواب: اگر عقد معاملہ میں صراحت کے ساتھ بیان کئے گئے شرائط یا جو معاملہ کی بنیادی بات تھی، اس کے برخلاف عمل کیا گیا ہے تو اس صورت میں اُسے اجرة المثل (اس جیسے کام کی جو اجرت بنتی ہے) ادا کرنا ہوگی البتہ اِس شرط پر کہ اجرة المثل، طے شدہ اجرت سے زیادہ نہ ہو، لیکن اگر ٹائم کی مقدار میں اختلاف ہے تو کام کرنے والا شخص، شرعی دلیل سے ٹائم (گھنٹوں) کی مقدار کو ثابت کرے، مگر یہ کہ ٹائم کی مقدار کا معیّن کرنا خود اسی کے ذمہ قرار دیا گیا ہو ۔جواب: اگر (کتاب پر) محقق لکھنے کا معاہدہ نہیں ہوا ہو اور عام رواج کے مطابق بھی مصنف کو اسی کام پر مجبور نہ کیا جاتا ہو (کہ ایسی صورت اختیار کرلے کہ معاہدے کی بنیادی شرط وہی ہے) تب (کتاب پر)محقق کا نام لکھنا لازم نہیں ہے ۔

اہل بیت علیہم السلام کے فضائل ومصائب بیان کرنے کے لئے اجرت طے کرنا

عزادار اور ماتمی دستہ کے پیچھے، خواتین کا نامناسب حالت میں چلنا جو بعض گناہوں کا باعث ہوتا ہے، اس کی کیا صورت ہے؟ نیز حضور، خواتین کے لئے عزاداری کاکیا طریقہ تجویز فرماتے ہیں؟

خامس آل عبا امام حسین علیہ السلام اور دیگر تمام معصومین علیہم السلام کی عزاداری الله کے قریب ہونے کے لئے افضل ترین عمل ہے؛ لیکن خواتین اور مرد حضرات ایسا برتاؤ کریںکہ شریعت کے خلاف کام سے آمیختہ نہ ہو ۔

دسته‌ها: عزاداری

گرنیٹ(دستی بم) کے دغنے کی وجہ سے بچوں کا مرجانا

ایک گرنیٹ(دستی بم) معلوم نہیں کہاں سے آیا کون لایا، ایک بچہ کے ہاتھ میں دغ جاتا ہے، اس کے دغنے کی وجہ سے دوبچے مرجاتے ہیں، اب اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ ان کے وارثین دم میں سے ہر ایک، ایک دوسرے کو الزام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا بیٹا بم لایا تھا تو اس صورت میں کیا تکلیف ہے ؟ کیا عاقلہ کی(مقتولین کے وارثین )مقتولین کے صغیر ہونے کی وجہ سے اس حادثہ کے ذمہ دار ہیں؟ اور بالفرض اگر کوئی ایک بھی ملزم نہ ہو تو دےت کی کیا تکلیف ہوگی؟

جواب: اس مسئلہ کی چند صورتیں ہیں: پہلی یہ کہ ان دونوں بچوں میں ایک قتل کا سبب ہے لیکن پہچانا نہیں گیا ہے ، اس صورت میں ایک انسان کی دیت طرفین کے عاقلہ پر تقسیم ہوگی اور ایک عاقلہ سے لے کر دوسرے عاقلہ کو دی جائے گی اور دوسرے عاقلہ سے لیکے پہلے عاقلہ کو، دوسری صورت یہ ہے کہ یہ حادثہ اتفاقا وجود میں آیا ہو اوران میں سے کوئی ایک بھی عامل نہ ہو، اس صورت میں کوئی دےت نہیں ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ تیسرا شخص اس حادثہ کا سبب تھا، اس صورت میںدیت بیت المال سے لی جائے گی۔

دسته‌ها: نفس کی دیت

بیٹے کے قتل کے مورد میںماں باپ کی سزاؤں میں فرق کی وجہ

بہت سے فقہاء فرماتے ہیں : ”باپ کا بیٹے کو قتل کرنے کی وجہ سے قصاص نہیں کیا جائے گا لیکن ماں کو قصاص کیا جائے گا“ اس فرق کی دلیل کیا ہے؟

جواب : اس حکم میں باپ اور ماں کے درمیان فرق کی عمدہ دلیل وہ بہت ساری روایات ہیں جو اس سلسلے میں وارد ہوئی ہیں ان میں بہت سی روایات میں کلمہ”رجل“ یا ”اب“ ہے جالب نظر، یہ ہے کہ کلمہ”رجل“ یا ”اب“ راوی کے سوال میں ہی نہیں ہے تاکہ کہہ سکیں کہ راوی نے اپنے محل ابتلاء کے متعلق سوال کیا تھا، بلکہ یہ امام (ع)کے کلام میں بھی موجود ہے، جو اس فرق پر بہترین دلیل ہے اور یقینا ”رجل“ یا ”اب“ کو مفہوم اعم پر حمل کرنا بہ حسب متفاہم عرب ممکن نہیں ہے اور ”والد“ کا ظہور بھی یہی معنی رکھتا ہے، مفہوم اعم پر حمل کرنا بہت مشکل نیز فقہی موازین سے بھی سازگاری نہیں رکھتا، اس کے علاوہ یہ مسئلہ تقریباً اجماعی ہے ان تمام روایات اور اقوال کے باوجود اس کی مخالفت کرنا ذوقِ فقہی سے سازگاری نہیں رکھتااور یہاں پر قاعدہٴ ”درء“ سے متمسک ہونا بہت زیادہ مشکل ہے؛ اس لئے کہ قانون قصاص کی عمومیت، متعدد آیات وروایات سے استفادہ ہوتی ہے اور اس حکم سے استثنا کرنے لئے ایک محکم دلیل درکار ہے کہ جو یہاں پر موجود نہیں ہے، ضمناً اس فرق کا فلسفہ نسبتاً روشن ہے جو اہل تحقیق قارئین کے اوپر پوشیدہ نہیں ہے، بہتر تھا کہ اس امتیاز کو باپ سے چھین نے کی کوئی فکر کرتے نہ یہ کہ اس امتیاز کو ماں کو بخشنے کی فکر میں لگے ہیں۔

دسته‌ها: قصاص کے احکام
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت