جس نایب نے عمرہ تمتع کو ذی القعدہ میں انجام دیا ہو اور کسی کام کے لئے حرم سے نکل جائے
اگر حج تمتع پر جانے والے قافلہ کے خدمت گزارماہ ذی قعدہ میں مکہ پہنچ جائیں اور عمرہ تمتع کو بجالائیں اور ماہ ذی الحجہ میں ان سے کہا جائے کہ قافلہ کے کسی کام کو انجام دینے کےلئے حرم سے باہر عرفات یا دوسرے علاقہ میں جائیں تو کیا اس کی نیابت میں اشکال ہے ؟ اور کیا دوبارہ مکہ واپس جائے ؟
اس کی نیابت میں کوئی حرج نہیں ہے اور دوبارہ احرام کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔
چھت والی گاڑی میں سفر کرنا
وہ حاجی حضرات جو ابتداء شب میں مسجد شجرہ یا جمعہ میں محرم ہو کرراتوں رات مکہ مکرمہ میں داخل ہوجاتے ہیں کیا یہ حضرات چھت والی گاڑی میں سوار ہوکر مکہ میں داخل ہو سکتے ہیں ؟
جواب:۔جائز ہے اور کفارہ نہیں ہے مگر بارانی اور سرد راتوں میں کہ اس صورت میں ایک بھیر بکری ، کفارہ دیں۔
نماز طواف کے لئے خواتین کی نیابت
کیا عورت دوسرے کی نیابت میں ، نماز طواف پڑھ سکتی ہے ؟
جواب:۔ کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
شراب پینے کی سزا
کیا شراب پینے والے پر لعنت کرنا جائز ہے؟ اس کی حد (سزا ) کتنی ہے؟
جو اعلانیہ طور پر شراب پیتا ہے، اس پر لعنت کرنا جائز ہے اور اس کی حد (سزا) ۸۰ کوڑے ہیں ۔
وصیت کا ذہنی طور سے کمزور بچوں کو شامل ہونا
۱۴/ سال پہلے میرے والد جاں بحق ہوگئے تھے، ہم چار بھائی اور دو بہنیں ہیں، مرنے سے کئی سال پہلے سرکاری کاغذات کے دفتر(تحصیل) میں وصیت کی اور انھوں نے اپنی دائمی زوجہ (جواس وقت ۸۸ سال سن رکھتی ہے)اور اس کے بڑے بیٹے سید جواد (یعنی مجھ) کو موصی کی اپنی دیگر چھوٹی اولاد کو ادارہ کرنے کے سلسلے میں ، موصی بھی اپنے مرنے کے بعد ، وصی قرار دیا اور وصیت میں ذکر کیا کہ بڑے ہونے کے بعد دوسرے بھائی وصایت میں شریک رہیں گے ، جس تاریخ میں یہ وصیت نامہ لکھا گیاتھا اس وقت ہماری چھوٹی بہن پیدا بھی نہیں ہوئی تھی اور وہ پیدائشی کم ذہنی کا شکار تھی اور اب بھی ہے ، اب جبکہ وہ اکتالیس (۴۱) سال کی ہے کیا اس کے بھائی اپنی چھوٹی بہن کے لئے اب بھی قیم ہوسکتے ہیں؟ اور کیا اب بھی یہ وصیت نامہ اپنی حالت پر باقی ہے شایان ذکر ہے کہ والد کے مرنے سے اب تک ان چودہ سالوں کی مدت میں اس کے بھائیوں نے اس کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔
جواب: اس صورت میں جب وصیت نامہ مطلق ہو اور اس میں کوئی قید وشرط نہ ہو تو اس اولاد کی قیمومیت کہ جو عقل کافی سے بے بہرہ ہیں ان کے شامل حال ہوگا
وہ نائب جس نے دوسرے شخص کو اجیر کیاہے
ایک شخص کی چند اولاد ہیں ، اس نے مصالحہ کے عنوان سے اپنی تمام مال و دولت ، اپنی اولاد میں سے دو(۲) اولاد کو دیدی ہے ، لیکن شرط کی ہے کہ اس کے مرنے کے بعد زیادہ سے زیادہ چار سال کے اندر ، کسی شخص کو اس کی نیابت میں حجة الاسلام ( واجب حج) کرنے کے لئے بھیجدیا جائے ،اس کے بیٹے نے شرط کے مطابق عمل کیا او ر چھوتے سال ، کسی کو اپنے شہر سے حج کرنے کے لئے بھیجدیا ، لیکن یہ نائب دوسرے شہر پہونچا تو خود نہیں گیا بلکہ دوسرے شخص کو میقات سے حج کرنے کے لئے بھیجدیا ، اس نے میقاتی حج انجام دیدیا حالانکہ اس مرحوم کی اولاد واقعہ سے بے خبر ہے ( یاد رہے کہ اس جگہ کے لوگوں کے لئے میقاتی حج غیر معروف ہے اور نیابت سے حج بلدی ( اپنے شہر کے حج حج کرنا ) مراد ہوتا ہے )سوال یہ ہے کہ :الف) کیا نائب کو دوسرے شخص کو نائب بنانے کا حق ہے ؟ب)کیا انجام دیا گیا حج ، میت کی جانب سے صحیح ہے اور مرحوم بری الذمہ ہوگئے ہیں ؟ج)مصالحہ کا کیا حکم ہے ؟د) کیا شرط پر عمل ہو گیا ہے ؟ اس لئے کہ مرحوم کی دوسری اولادیں ، مدعی ہیں کہ شرط پر عمل نہیں ہوا ہے لہٰذا باقی بچا ہوا مال میراث کے عنوان سے وارثوں میں تقسیم ہونا چاہےئے۔
جواب: الف) نائب کو دوسرے شخص کو نائب بنانے کا حق نہیں ہے ۔ب) انجام دیا ہوا حج صحیح ہے اور میت بری الذمہ ہوگئی ہے ۔ج)مصالحہ اپنی جگہ پر باقی ہے ۔د) میت کا فرزند حج کی رقم کو پہلے نائب سے ضرور واپس لے لے اور بہتر یہ ہے کہ وارثوں کے درمیان تقسیم کرے ۔
مدرسہ کے امکانات سے ذاتی فایدہ اٹھانا
مدرسہ کے امکانات سے تحصیلی امور کے لیے پرنسپل کی اجازت سے ذاتی فایدہ اٹھانے کا کیا حکم ہے؟ کسی چیز کا نقصان ہونے کی صورت میں اس کے پیسے ادا کر دینے سے ذمہ بری ہو جائے گا؟
اگر اسکول کا پرنسپل قانون کے مطابق اجازت دے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر وہ کہے کہ یہ قانون کے مطابق ہے تو اس کا یہ کہنا کافی ہے۔
حج کے لئے وصیت کرنے پر مجبور کیا جانا
ایک شخص مستطیع نہیں ہوا تھا لیکن چند سال پہلے ، مرض موت میں، چند لوگ اس کو حج میقاتی کے عنوان سے پانچ ہزار افغانی کی وصیت کرنے پر مجبور کرتے ہیں ، کیا یہ وصیت صحیح ہے اور اگر صحیح ہے تو چونکہ یہ رقم میقاتی حج کے لئے کافی نہیں ہے تو اس سلسلہ میں کیا وظیفہ ہے ؟
جواب :۔ اگر وصیت کرنے پر واقعاً مجبورکیاتھا تو یہ وصیت نافذ نہیں ہے لیکن اگر لوگوں کے اصرار کرنے سے وہ شخص خود وصیت کرنے پر راضی ہو گیا تھا اور مذکورہ رقم ، میقاتی حج کے لئے کافی نہیں ہے تو اس رقم کو کارخیر میں خرچ کریں ۔
جیسا کہ بعض مجتہدین کرام اور عظیم مراجع ( رضوان اللہ علیھم )از جملہ امام خمینی فرماتے ہیں کہ ہدیہ میں خمس نہیں ہے کیا ( یہ حکم ) بڑی بڑی بخشش اور ہدیوں جیسے ، زمین ، گھر، دکان، کار، وغیرہ کو بھی شامل ہے یا ان کا حساب جدا ہے ؟
جواب:۔ چھوٹے یا برے ہدیہ میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن ہمارے فتوے کے مطابق ان سب چیزوں میں احتیاط واجب کی بناپر خمس واجب ہے ۔
خمس کو مصرف کرنے کے لئے مجتہد کا اجازہ۔
سہم امام یا سہم سادات، خرچ کرنے کے لئے کیا حاکم شرع کی اجازت کی ضرورت ہے؟
جواب: سہم امام کے لئے ، حاکم شرع کی اجازت واجب ہے اور سہم سادات کے لئے بھی احتیاط واجب کی بناپر حاکم شرع کی اجازت لینا چاہیے۔
شب نشینی (شب بیداری) یہ جانتے ہوتے کہ نماز قضا ہوجائے گی
جو شخص جانتا ہے یا قوی احتمال ( رکھتا)ہے کہ شب نشینی یامطالعہ وغیرہ کی وجہ سے ، اس کی نماز صبح قضا ہو جائے گی ، کیا اس کے لئے شب نشینی یا مطالعہ کرنا شر عاً جائز ہے ؟
جواب:۔ یہ کام احتیاط کے خلاف ہے اور اگر نماز کی بے حرمتی کا سبب ہو تو حرام ہے ۔

