سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

فرار مجرموں کے گھر کی قرقی کا حکم

کیا ملک چھوڑ کر بھاگ جانے والے افراد کے گھر کی قرقی کرنا جایز ہے؟ کیا صرف ملک چھوڑ کر بھاگ جانا ہی قرقی کے جواز کے لیے کافی ہے؟

رقی، صرف کسی فقہی عنوان کے تحت ہی کی جا سکتی ہے اور صرف ملک چھوڑ دینا یا فرار ہو جانا قرقی کا جواز نہیں بن سکتا بلکہ قرقی شرعی اعتبار سے ثابت ہونا چاہیے مثلا یہ ثابت ہو جائے کہ اس نے سارا مال نا جایز طریقے سے ہتھیایا ہے اور مجہول المالک (جس مال کا مالک معلوم نہ ہو) کے حکم میں آ جائے۔

دسته‌ها: مصادره اموال

تسبیبی جرائم میں قسامہ کا جاری کرنا

کیا جس طرح قسامہ جرائم بالمباشرہ (بغیر واسطہ) میں (اگر لوث کے مورا د میں سے ہو)جاری ہوتا ہے، جرائم بالتبسیب میں بھی جاری ہوگا ؟

جواب : یہاں پر سبب اور مباشرت کے درمیان کوئی فرق نہیں؛ بشرطیکہ قتل کی نسبت سبب کی طرف دی جائے نہ کہ مباشر کی طرف ۔

دسته‌ها: لوث اور قسامه

عزاداری کے غلط طریقے

آستارا کے مقام پر ایک رسم ہے اور لوگ اس پر مضبوط و محکم عقیدہ رکھتے ہیں ،مسئلہ اس طرح ہے کہ کہ محرم کی نویں تاریخ اور عاشورہ کے دن ایک علم جو تمام علاقہ میں رائج ہے مخسوس لوگوں کے ہاتھوں میں دیتے ہیں کہ شکص عمدار اپنے مخسوص طریقے سے کبھی مردوں اور عورتوں پر حملہ آور ہونے اور بچوں ڈرانے یا لوگو ں کی زبان میں کہا جائے کہ علم کو جوش میں لاتے ہیں اورامام حسین (ع) کی طرف اس کی نسبت دیتے ہیں لوگ علم کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں علم شخس کو اپنے پیچھے لے جاتا ہے جب علم بعض افراد کو زخمی کر دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ زخمی شخص برا آدمی ہے اور اس نے علم کو شک کی نگاہ سے دیکھا ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسا لوگوں کے ہاتھوں میں جوش میں لایا جاتا ہے کہ جن کے حالات معلوم ہیں اور کبھی کبھی دیندار اور محترم لوگوں کو زخمی کر دیا جاتا ہے اس سلسلے میں آپ کا نظریہ مطلوب ہے ؟

جواب۔حضرت خامس آل عبا (ع) کی عزاداری کی تقویت کے مہم اسباب میں سے ہے لیکن اس کو اس طرح لیکن اس کو اس طرح کے غلط کاموں میں آلودہ نہیں کرنا چاہئے کہ عزاداری کی اذیت آزار اور آبرو دار شخاص میں ہتک حرمت کا باعث ہو جائے

دسته‌ها: عزاداری

چگھڑا نپٹانے کے عوض پیسا لینا

ہمارے علاقہ میں جب دو لوگوں یا دو گروہ میں جھگڑا ہوتا ہے تو ایک شخص ثالث کی حیثیت سے ان میں صلح کراتا ہے اور وہ ظالم سے مظلوم کو پیسا، حیوان یا اس طرح کی چیز دلواتا ہے تا کہ وہ راضی ہو جائے اور صلح کر لے، یہ ایسا کرنا جایز ہے؟

اگر دونوں طرف کی مرضی اور رضایت سے ایسا ہوتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح سے اگر وہ پیسا جو دیا جا رہا ہے وہ نقصان کی تلافی کے لیے ہو تو اس کا لینا صحیح ہے چاہے دینے والا راضی ہو یا راضی نہ ہو۔

دسته‌ها: حق الناس
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت